اسلام آباد:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ہاؤسنگ نے اسکائی گارڈن پروجیکٹ میں سوموٹو اور نیب تحقیقات کے معاملے میں ڈی جی نیب کو طلب کرلیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کو بھی طلب کریں گے، 2009ء میں کس بنیاد پر سوموٹو لیا گیا یہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ناصر بٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی میں اسکائی گارڈن پروجیکٹ میں متاثرین کو زمین نہ ملنے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ 2009ء میں جے وی ایگریمنٹ ہو رہا تھا، جے وی ہوتے ہی سپریم کورٹ نے سو موٹو لے لیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دس سال تک معاملہ کورٹ اور نیب میں رہا پھر آپ نے پیسے کیوں لیے؟ متاثرین نے کہا کہ ہم نے شروع دن سے ایف جی ایچ اے کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج دیے۔
چیرمین کمیٹی نے کہا کہ کیا یہ کیس نیب کا نہیں ہے؟ سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس لے لیا تو آپ کیوں پیسے وصول کرتے رہے؟ کام بھی نہیں ہوا اور آپ پیسے بھی لیتے رہے، سرکار ڈویلپر کو پیسے دے رہی تھی کام ہو ہی نہیں رہا تھا۔
ڈائریکٹر ایف جی ایچ اے نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تین سال بعد ملازمین کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا، آخری پیمنٹ دو سال پہلے ہوئی تھی، میں معذرت کرتا ہوں کیس کو دوبارہ دیکھ لیتا ہوں۔
سیکرٹری وزارت ہاؤسنگ نے کہا کہ ازخود نوٹس سے بھی کچھ نہیں نکلا اور نہ ہی نیب سے کچھ نکلا، 2014ء میں کیس نیب کے پاس گیا اور پانچ سال چلا، میں چاہتا ہوں نیب میں نہ جائیں، نیب میں جائیں گے تو جب تک کیس ختم ہوتا تب لوگوں کو مزید زیادہ قیمت دینا پڑے گی، میرے علم کے مطابق اس پروجیکٹ میں کرپشن کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا، سپریم کورٹ نے سیاسی بنیادوں پر سوموٹو لیا تھا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 2019ء سے 2026ء تک کیا رکاوٹ تھی کہ کام نہیں ہوسکا، جب زمین کو دیکھا گیا تو 750 پلاٹ ایسے تھے جن پر گھر نہیں بن سکتا تھا۔
کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ڈی جی نیب کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو آئندہ اجلاس میں سابق چیف جسٹس کو بھی طلب کریں گے، 2009 میں کس بنیاد پر سوموٹو لیا گیا یہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں گرین انکلیو ون کے ٹھیکے دار اور نیب حکام کو طلب کرلیا۔