پشاور:
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز(سورینج) میں کوئلہ کان کے ہول ناک حادثے میں شانگلہ کے 34 مزدور جاں بحق ہوئے جن میں سے 32 کان کنوں کی میتیں جمعہ کو آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئیں مزید 2 میتوں کی آبائی علاقوں کو بھیجنے کے لیے کاغذی کارروائی جاری ہے۔
المناک سانحہ میں جاں بحق مزدوروں میں ایک ہی گھر کے تین سگے بھائیوں اور ان کے چچا جبکہ دوسرے خاندان سے بھی دو سگے بھائی شامل ہیں، افسوسناک سانحے میں شانگلہ کے علاقے میاں کلے پیرآباد کے 22 کان کن مزدور بھی جاں بحق ہوئے، دیگر جاں بحق مزدوروں کا تعلق ملحقہ دیہات سے ہے۔ متاثرین میں زیادہ تر افراد آپس میں رشتہ دار ہیں۔
کئی گھروں میں ایک سے زائد افراد جاں بحق ہونے کے باعث پورا خاندان اجڑ گیا جبکہ متعدد بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں۔
ایک ہی روز درجنوں جنازوں کی آمد نے پورے شانگلہ کو اجتماعی سوگ میں مبتلا کر دیا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی خصوصی دعائیں مانگی گئیں جبکہ نماز جمعہ کے بعد مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے جن میں حکومت سے کان کنوں کے جان و مال کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
جاں بحق مزدوروں میں بڑی تعداد شانگلہ کے علاقے پیرآباد، دولت کلے، بیلے بابا اور دیگر ملحقہ دیہات سے ہے۔ متوفی مزدوروں کی اجتماعی نماز جنازہ کے بعد آبائی علاقوں میں سپردخاک کر دیا گیا۔
شانگلہ کے سماجی رہنماؤں اور مزدور تنظیموں نے وفاقی اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ سورینج سانحے کی شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، جاں بحق مزدوروں کے ورثاء کو خطیر مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں جبکہ تمام کان کن مزدوروں کی لازمی رجسٹریشن، سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، لائف انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کوئلہ کانوں میں عالمی معیار کے حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، باقاعدہ معائنہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔