عدالت کا وطن واپس جانیوالے غیر ملکیوں کی روانگی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت

درخواستگزاروں کے سفری دستاویز کی وزارت خارجہ سے تصدیق ضروری ہے، سرکاری وکیل


کورٹ رپورٹر August 01, 2026
(فوٹو: فائل)

کراچی:

سندھ ہائی کورٹ نے وطن واپس جانے والے غیر ملکیوں کی روانگی میں رکاوٹیں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان میں مقیم بنگلادیشی شہریوں کی وطن واپسی میں رکاوٹ کے کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ میں ہوئی، جس میں عدالت نے اپنے وطن لوٹنے والے غیر ملکیوں کی روانگی میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواستگزاروں نے بنگلا دیشی دستاویزات پر ہائی کمیشن سے ٹریول پرمٹ حاصل کیے ہیں۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام درخواستگزاروں کو روانگی کی اجازت نہیں دے رہے۔ متعلقہ اداروں سے این او سی کے حصول کے لیے رابطے پر ہراسانی کا سامنا ہے۔ درخواستگزار مستقل طور پر اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں۔

دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواستگزاروں کے سفری دستاویز کی وزارت خارجہ سے تصدیق ضروری ہے۔  درخواستگزاروں کی نادرا میں رجسٹریشن چیک کرکے شناختی کارڈ بلاک کیے جائیں گے۔ فارنرز ایکٹ کے تحت تمام قانونی کارروائی ہونے کے بعد ہی درخواستگزاروں کو سفر کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ ملک سے باہر سفر کے بنیادی حقوق پابندیوں اور قانونی کارروائی سے مشروط ہیں۔ عدالتی آئینی اختیارات میں امیگریشن کلیئرنس، شناخت اور ڈی پورٹیشن کے قانونی طریقہ کار کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔ سفری اجازت نامے کی موجودگی میں متعلقہ اداروں کے لیے کارروائی مکمل کرنا ان کی ذمے داری ہے۔

عدالت نے کہا کہ درخواستگزاروں کی وطن واپسی میں غیر ضروری رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ درخواستگزاروں کی بنگلا دیش واپسی یا ڈی پورٹیشن کا عمل قانون کے مطابق جلد مکمل کیا جائے۔ درخواستگزار اپنی شناختی تصدیق کے لیے دستاویزات فراہم کردیں۔