سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام اور نظامِ حکمرانی کی ناکامی سے متعلق بیان نے ایک غیر ضروری اور حساس بحث کو جنم دیا ہے۔
ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر نظامِ حکمرانی ناکام ہوا ہے تو اس کی وجہ ملک میں صرف چار صوبوں کا وجود نہیں بلکہ سول و عسکری بیوروکریسی کو سیاسی کردار اور فیصلہ سازی میں غیر معمولی وسعت دینا، اختیارات کو اسلام آباد میں مرتکز کر کے وفاق کو کمزور کرنا، آمروں کو آئین میں من مانی ترامیم کی اجازت دینا، مختلف نظام ہائے حکومت پر مسلسل تجربات، اہم پالیسی فیصلے پارلیمان سے باہر کرنا، آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات نہ ہونے دینا، آئین کی خلاف ورزی، اختیارات کی ثلاثی تقسیم کو نظر انداز کرنا، قانون کی حکمرانی کے بجائے قانون کے ذریعے حکمرانی کو فروغ دینا اور صوبائی خودمختاری سے انکار جیسے عوامل ہیں۔
رضا ربانی نے کہا کہ یہ تمام عوامل محض برفانی تودے کی چوٹی ہیں جبکہ اصل مسائل اس سے کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک وفاق کے طور پر وجود میں آیا جہاں چاروں وفاقی اکائیوں نے متفقہ طور پر ریاستِ پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ریاست ہے اور اس کی وحدت اس کے تنوع میں مضمر ہے، اس لیے ایسے تاریخی حقائق کی بنیاد پر قائم ہونے والے صوبوں کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ یہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی ایک دیرینہ خواہش رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس نوعیت کی بحث ملک کے اندر پہلے سے موجود تقسیم اور اختلافات کو مزید گہرا کرے گی اور بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیگر وفاقی اکائیوں میں دہشت گرد تحریکوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل وفاقی اکائیوں کی تقسیم میں نہیں بلکہ آئینِ پاکستان 1973 کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، صوبائی خودمختاری پر مکمل عمل درآمد، اختیارات کی ثلاثی تقسیم کے اصول پر عمل اور آرٹیکل 140-اے کے مطابق سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے میں ہے۔
رضا ربانی نے خبردار کیا کہ اگر اس راستے پر پیش رفت کی گئی تو وفاق پر شدید بحران کے بادل منڈلائیں گے۔ ان کے مطابق اس سے بیرونی مالی معاونت یافتہ دہشت گرد تحریکوں کو تقویت ملے گی، انتہاپسند قوم پرست قوتیں مضبوط ہوں گی، اندرونی لسانی اور نسلی تضادات میں اضافہ ہوگا اور قدرتی وسائل کی ازسرِ نو تقسیم کے مطالبات اور تنازعات جنم لیں گے۔