ایرانی قیادت دوغلی ہے، معاہدہ ہونے یا ہتھیار ڈالنے تک ناکہ بندی جاری رکھیں گے؛ ٹرمپ

پہلے منتیں کرتے ہیں، بات چیت شروع ہو جائے تو کہتے ہیں کہ امریکا کیساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، صدر ٹرمپ


ویب ڈیسک August 03, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف تو پھر سے مذاکرات کا عندیہ ہے اور دوسری جانب ایران پر دوغلا رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ امریکا کی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کوئی معاہدہ نہیں کر لیتا یا پھر مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو ناقابلِ یقین حد تک دوغلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک طرف ملاقاتوں اور مذاکرات کی درخواست کرتا ہے جبکہ دوسری جانب عوامی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور وہ صرف عمان کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی رہنما خود ہی مذاکرات کی درخواست کرتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کے مطابق تو یہ منتیں بھی کرتے ہیں لیکن جب بات چیت شروع ہو جاتی ہے اور مزید ملاقاتوں کا شیڈول بھی طے ہو جاتا ہے پھر وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت میں آبنائے ہرمز امریکی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ اسے امریکی "وال آف اسٹیل" (فولادی دیوار) بھی کہتے ہیں اور ایران کی جانب جانے والی کوئی بھی چیز امریکا کی اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں گزر سکتی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران چاہے اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسے مسئلے کے حل پر بات ہو رہی ہے جسے ان کے بقول ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پیدا کر رکھا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک بار پھر دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صرف عمان سے بعض معاملات پر بات چیت جاری ہے۔