پیرو کے تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ آثارِ قدیمہ نازکا لائنز کے اوپر پرواز کرنے والا ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ ہفتے کے روز گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس طیارے میں 11 غیر ملکی سیاح اور عملے کے 2 ارکان سوار تھے اور خوفناک حادثے میں تمام افراد جان کی بازی ہار گئے۔
پیرو کی وزارتِ تجارت و سیاحت اور وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ طیارے میں سوار غیر ملکی سیاحوں کا تعلق اٹلی، جرمنی اور اسپین سے تھا۔
طیارہ مقامی فضائی کمپنی ایروڈیانا کا سیسنا کیراوان تھا جو نازکا لائنز کی فضائی سیر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
پیرو کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق طیارہ پسکو ایئرپورٹ سے دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر روانہ ہوا۔ نازکا لائنز کے اوپر سیاحتی پرواز مکمل کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً ایک بجے عملے نے نازکا ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور کو ہنگامی صورتحال کی اطلاع دی تھی۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق اس وقت طیارہ سوکوس کے قریب پرواز کر رہا تھا جس کے کچھ ہی دیر بعد اس کا ریڈیو رابطہ منقطع ہوگیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارہ پویبلو ویخو کے علاقے میں نازکا شہر سے تقریباً چار میل اور نازکا لائنز سے تقریباً سات میل کے فاصلے پر گرا کر تباہ ہوا جس کے فوراً بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے طیارہ جل کر خاکستر ہوگیا اور کسی بھی مسافر کو بچانے کا موقع نہ مل سکا۔ فائر فائٹرز اور بلدیاتی پولیس نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور ابتدائی امدادی کارروائیاں مکمل کیں۔ تاحال حادثے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔
تاہم حادثے سے ایک روز قبل ماریا رائخے ایئرپورٹ سے نازکا لائنز کے اوپر جانے والی پروازیں تیز ہواؤں، گرد آلود موسم اور حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔
شدید ہواؤں کی وجہ سے دو طیاروں کو متبادل ہوائی اڈوں پر اتارنا پڑا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ ہفتے کو پیش آنے والے حادثے کا تعلق بھی موسمی حالات سے تھا یا نہیں۔
سول ایوی ایشن حکام اور متعلقہ اداروں نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جب کہ جائے حادثہ سے فلائٹ ریکارڈ، مواصلاتی ریکارڈ اور دیگر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
نازکا لائنز کیا ہیں؟
نازکا لائنز پیرو کے جنوبی صحرائی علاقے میں زمین پر بنائے گئے ہزاروں سال قدیم دیوقامت نقش، جانوروں کی تصاویر اور جیومیٹریائی اشکال ہیں، جنہیں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔
یہ آثار قدیمہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور ہر سال تقریباً ایک لاکھ سیاح ان کا فضائی مشاہدہ کرنے کے لیے چھوٹے طیاروں میں سفر کرتے ہیں۔