امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران نئی عسکری حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے اپنے اہلکاروں اور فوجی تجزیہ کاروں سے غیر روایتی اور تخلیقی تجاویز طلب کر لی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف مبینہ طور پر لیک ہونے والی ایک سرکاری ای میل سے ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اب ایران کے خلاف اپنی پالیسی کے اگلے مرحلے پر غور کر رہا ہے۔
یہ ای میل امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام سے وابستہ انٹیلی جنس حکام کی جانب سے بھیجی گئی جس میں فوجی اہلکاروں سے کہا گیا وہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تخلیقی، نئے اور غیر روایتی طریقوں پر اپنی تجاویز پیش کریں۔
رپورٹس کے مطابق ای میل میں اس بات پر زور دیا گیا کہ روایتی عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسے نئے خیالات بھی سامنے لائے جائیں جو ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کا مقصد مستقبل کے ممکنہ فوجی یا سفارتی فیصلوں میں مدد فراہم کرنا ہے اور اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ امریکی حکام ایران کے معاملے میں مختلف آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
فوجی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس نوعیت کی عسکری منصوبہ بندی اعلیٰ فوجی قیادت اور پالیسی سازوں تک محدود رہتی ہے اس لیے نچلی سطح کے اہلکاروں اور تجزیہ کاروں سے براہِ راست تجاویز طلب کرنا ایک غیر معمولی اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر سخت بیانات دے چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ ایران پر دباؤ اس وقت تک برقرار رکھا جائے گا جب تک وہ امریکی مطالبات کے مطابق کسی معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔
تاحال امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے لیک ہونے والی ای میل یا اس میں کیے گئے مطالبات پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا جبکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ موصول ہونے والی تجاویز کو کس حد تک عملی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے گا۔