جوڈیشل مجسٹریٹ جنونی نے گل پلازہ آتشزدگی کیس میں تفتیشی افسر کی مہلت کی استدعا منظور کرلی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو گل پلازہ آتشزدگی کیس کی سماعت ہوئی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور واٹر کارپوریشن کا عدم تعاون، تفتیش مکمل نہ ہوسکی، تفتیشی افسر نے عدالت سے مزید مہلت مانگ لی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے کہا کہ 2 اداروں کے افسران کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا، تفتیش کیلئے مزید مہلت دی جائے۔ توقع ہے کہ دونوں اداروں کے افسران بیان ریکارڈ کرادیں گے۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی افسر نے 6 سرکاری اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کرلئے۔ ٹریفک پولیس، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس، کے ایم سی، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اور ریسکیو 1122 کے افسران کے بیان ریکارڈ کرلئے ہیں، تفتیش میں تنویر پاستا کو زیادہ ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
تنویرپاستا نے آگ لگنے کے بعد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ تنویر پاستا نے فائر بریگیڈ کو اطلاع نہیں دی۔ تنویرپا ستا نے فائر بریگیڈ کے بجائے کے الیکٹرک کو فون کیا تھا۔
عدالت نے ڈی ایس پی عامر ورک کو 9 اگست تک مہلت دیدی۔ تفتیشی افسر تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کابیان پہلے ہی ریکارڈ کرچکا ہے۔ پہلے تفتیشی افسر گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا سمیت 6 افراد کو ملزم نامزد کیا تھا۔ تنویر پاستا اور دیگر ملزم عبوری ضمانت پر ہیں۔