کراچی میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور تفتیش کاروں نے اس حوالے سے نئی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے۔
پولیس کے تفتیش کاروں نے 29 جولائی صبح 8 بجے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے، جس میں ایک کچرہ چننے والے شخص جائے وقوع پر آتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ مشتبہ شخص تقریباً 8 منٹ تک جائے وقوع پر موجود رہا اور شبہ ہے کہ اسلحہ ممکنہ طور پر یہی شخص لے گیا۔
حکام نے بتایا کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو صبح 11 بجے کے بعد ملی تھی، پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے مشتبہ شخص کی شناخت میں مصروف ہے اور میر رضا قتل کیس میں تمام پہلوؤں سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
نوجوان میر رضا 27 جولائی کی شب جب آن لائن ٹیکسی میں گھر سے گلستان جوہر گیا تو اس سے قبل وہ اپنی اسمارٹ واچ گھر پر چھوڑ کر گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ نوجوان کی اسمارٹ واچ تفتیشی حکام نے اپنے قبضے میں لے کر کر اسے ڈی کوڈ کرنے کے لیے سی ٹی ڈی کی ٹیکنیکل ٹیم کے حوالے کیا تھا جس سے وہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے اور اس کے ڈیٹا سے پولیس نے اہم معلومات اور لین دین معاملات سمیت شواہد حاصل کیے ہیں جو کیس میں معاون ہوں گے جبکہ نوجوان میر رضا کا آئی فون تاحال ڈی کوڈ نہیں کیا جا سکا جس کے لیے کوششیں کی جاری ہیں۔
تفتیشی حکام نے میر رضا کی ہلاکت کیس میں مجموعی طور پر 19 افراد کو حراست میں لیا ہے، جس میں نجی گیسٹ ہاؤس کے ملازمین، میر رضا کا موبائل فون جن افراد سے ملا، نوجوان میر رضا کے شراکت دار، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر افراد شامل ہیں اور ان سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے بھی کیس سے جڑے افراد کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے، نوجوان میر رضا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی اور پھولی ہوئی بتائی گئی جبکہ نوجوان میر رضا کا چہرہ انتہائی خراب تھا۔
رپورٹ کے مطابق گلستان جوہر میں جس مقام پر نوجوان میر رضا کی لاش ملی تھی اس کی تصاویر بھی سامنے آئیں ہیں جس میں نوجوان کے جسم کی جلد جگہ جگہ سے خراب اور اس کا رنگ بھی تبدیل دکھائی دیا۔