زباں فہمی290 ;کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں (حصہ اوّل)

زباں فہمی290 ;کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں (حصہ اوّل) ؛تحریر سہیل احمد صدیقی


زباں فہمی290 ;کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں (حصہ اوّل) ؛تحریر سہیل احمد صدیقی

میرے احباب نے بارہا مجھے سلسلہ’ زباں فہمی‘ میں ، ’’بزم زباں فہمی‘‘ میں یا کہیں اور فرینچ زبان سے متعلق تحریروتقریر میں مشغول دیکھا ہوگا، گاہے فرینچ بولتے ہوئے بھی دیکھا سُنا ہوگا، ہرچند کہ اب ایک مدت سے’’ مشقِ فرینچ گوئی‘‘ نہیں رہی، مگر زیرِنظر موضوع پر کچھ لکھنے کی دیرینہ خواہش آج پوری ہورہی ہے۔

٭٭٭

ابتداء میں ایک نکتہ ازسرِ نَو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ فرانس کی زبان کو ہمارے یہاں سہواً فرانسیسی کہا جاتا ہے جبکہ اس نام کی توجیہ ممکن نہیں۔

جب لسانیات کے اصول کے تحت یہ نام تخریب سے تشکیل تک جاتا ہے تو بات بہت گنجلک ہوجاتی ہے کہ فرانس+ی تک تو ٹھیک ہے، درمیان میں دوسرا ’سی‘ کہاں سے اور کیوں شامل ہوگیا؟ یہ غلطی اس درجے عام ہوئی کہ اب فرانس کے اپنے ثقافتی مرکز، واقع کراچی میں ڈائریکٹر کے عہدے پر متمکن پاکستانی، فرینچ داں صاحب بھی اپنے اشتہارات میں فرانسیسی لکھوانے لگے ہیں، حالانکہ یہ نام سرے سے غلط ہے۔ ایران میں رضا شاہ کبیر کے دورِ حکومت میں جدید فارسی کو فرینچ سے ہم آہنگ کرنے کا شعوری اور سرکاری انتظام کیا گیا تو وہاں اِس زبان کو ’’فرانسی‘‘  اور ’’فرانسوی‘‘ کا نام دیا گیا جو آج تک رائج ہے جبکہ جدید عربی میں اسے ’’اللغۃ الفرنسیہ‘‘ ، ’فرنسیہ‘، فرنساوی اور فرانساوی کہا جاتا ہے۔

{خود فرانس کے لوگ اپنی زبان کو Français (فاںسے، آخری حرف ساکن کے ساتھ، جس میں تھُوک جیسی ’خے ‘ کی آواز بھی پوشیدہ ہے) اور Langue française یعنی فرینچ لوگوں کی زبان کہتے ہیں۔ ان کے یہاں Article (حرف ِ تعریف) کے لازمی استعمال سے فرینچ قوم کو les Français (لے فاں سے;وہی تھُوک جیسی ’خے‘ کی پوشیدہ آواز کے ساتھ) کہتے ہیں جو اِسم مذکّر/جمع عام ہے، جبکہ تانیث کے لیےFrançaises les (لے فاں سیز;قاعدہ ’خے‘ کے ساتھ) بولا جاتا ہے۔ ایک فردِواحد (مذکر) کے لیے Un Françaisاور فردِواحد (مؤنث) کے لیے Une Françaiseبولاجاتا ہے}۔

فرینچ زبان کے بولنے والوں کے اعدادوشمار بالکل اُسی طرح تخمینے کی بنیاد پر انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جیسے دیگر زبانوں کے اور تمام ممالک کی نئی پرانی مردُم شماری کے مطابق اُن کی آبادی کے اعدادوشمار جو تحقیق کرنے پر، اصل سے بہت کم نکلتے ہیں۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہمیں جو بھی اعدادوشمار کسی بھی دائرۃ المعارف [Encyclopaedia] میں درج ملتے ہیں ، ہمیں وہی نقل کرنے پڑتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس وہ وسائل اور ذرایع نہیں کہ ہم ان کے متوازی حقائق جاننے کی سعی کریں۔ فرینچ بولنے والے اہل ِ زبان یا اصل بولنے والوں (Native speakers or Natives) کی تعداد چھہتر (76) ملین بتائی جاتی ہے اور اِس لحاظ سے یہ دنیا کی بائیسویں بڑی زبان ہے، جبکہ رابطے کے لیے بولی جانے والی زبانوں میں یہ دنیا کی چھٹی بڑی زبان شمار ہوتی ہے۔ اس کے بولنے والوں کی کُل تعداد تین سو دس ملین ( 310 million) ظاہر کی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ سیکھی جانے والی پانچ زبانوں میں شامل ہے اور اِسے سیکھنے والوں کی تعداد 2017ء میں ایک سو بیس ملین( 120 million) تھی۔ فرینچ دنیا کے چھبیس (26)ممالک کی سرکاری زبان ہے جبکہ اس کے بولنے والے دنیا کے پچاس (50) ملکوں میں موجود ہیں۔

فرانس، کیوبک (کینیڈا)، بیلجیئم (خصوصاً Walloniaاور صدرمقام Brusselsکا علاقہ)، مغربی سوئزر لینڈ (Romandyکا علاقہ)، لکسمبرگ اور موناکو میں فرینچ کو ’’اوّلین زبان‘‘ (First language) کا درجہ حاصل ہے جبکہ افریقہ کے فرینچ بولنے والے حصے یعنی Francophone Africa میں اسے عموماً ’’دوسری قومی زبان‘‘[Second language] ۔یا۔ رابطے کی زبان [Lingua franca] سمجھا جاتا ہے۔ افریقہ میں فرانس کے طویل مدت تک تسلط کی وجہ سے فرینچ کو یہ مقام حاصل ہوا، جبکہ ایک وجہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ افریقہ میں چھوٹے چھوٹے ممالک میں بہ یک وقت آٹھ سَو سے زائد زبانیں بولنے والی چھوٹی بڑی قومیں یا برادریاں آباد ہیں جنھیں رابطے کی کسی ایک زبان کا انتخاب بہرحال کرنا ہی تھا، لہٰذا انھوں نے اپنے سابق آقائوں کی زبان چُن لی۔ افریقہ کے بعض ممالک میں فرینچ کو ’حقیقی‘ یا مادری زبان کی طرح اپنالیا گیا ہے۔ شمالی افریقہ کے بعض ممالک بشمول الجزائر اور مراکِش میں اشرافیہ کی بنیادی زبانوں میں عربی کے ساتھ فرینچ شامل ہے جبکہ عوام النّاس کی سطح پر اِس کی ’اضافی‘ حیثیت بھی قابلِ ذکر ہے۔

اردو اور فرینچ کی پیدائشی نسبت اپنے مشترک لسانی گروہ ’’ہند ۔آریائی‘‘ سے ہے جو بہت بڑا اور اہم گروہ ہے۔ اس باب میں ہمیں تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ ولیئم جونز (   William Jones) نامی ماہرِلسانیات نے 1786ء میں یہ نکتہ اُٹھایا تھا کہ لاطینی، یونانی اور سنسکِرِت نیز متعدد یورپی زبانوں کی جڑ ایک ہی (مشترک زبان) ہے۔ یہ بات خاکسار پہلے بھی لکھ چکا ہے کہ سنسکِرِت سے اَوِستا (زرتُشت کی زبان) اور پھر اُس کی متبدل شکل پہلوی سے ہوتے ہوئے بے شمار الفاظ وتراکیب ایک طرف فارسی میں داخل ہوئے تو دوسری جانب یورپ کی زبانوں میں، خصوصاً لاطینی یا یونانی کے توسط سے۔ یہ سلسلہ اُس وقت مزید دل چسپ ہوجاتا ہے جب کوئی لفظ براہ ِ راست سنسکِرِت سے براستہ ہندی آنے کی بجائے کسی یورپی زبان سے اردو میں داخل ہوتا ہے،گو ایسی مثالیں بہت کم ہیں۔

برِعظیم (عُرف برّصغیر) میں فرینچ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے قبل ، اردو کا براہ ِ راست کوئی تعلق فرینچ سے نہیں تھا۔ فرینچ ایسٹ انڈیا کمپنی نامی کمپنیاں سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں (آغاز:1604ء)، فرانس کی معاشی ترقی واستحکام اور مابعد توسیع سلطنت کے عزم کی بنیاد پر قائم ہوئیں۔ فرینچ میں اس خاص کمپنی کا نام Compagnie Française des Indes Orientales(کونپانّ فاں سیز دے اندے اوغین تالے) تھا اور اِس کا بانی بادشاہ لوئی چہاردہم (Louis XIV)کا وزیرِاقتصادی اُمور اور معیشت داں ژاں باپتیست کولبیغ (Jean-Baptiste Colbert) تھا۔ وہ کمپنی جو براہ ِراست اُس وقت کے ہندوستان سے تجارتی مراسم قائم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی، اس کا سن قیام 1664ء ہے۔ اس کمپنی کے قیام کا مقصد مندرجہ ذیل اشیاء کی تجارت اور منڈی میں برطانوی اور ولندیزی کمپنیوں سے مسابقت کے بعد، اپنا تسلط قائم کرنا تھا: مصالحہ جات، پارچہ جات، کپڑے رنگنے والے رنگ، ریشم، کپاس اور بعض اشیائے تعیش۔ فرینچ تاجروں سے قبل برّعظیم میں آنے والا سب سے نمایاں فرینچ شخص ایک طبیب و سیاح، ڈاکٹرفاں کُوا بیغ نی ایغ( François Bernier) تھا جس نے مغل بادشا ہ اورنگزیب عالمگیرکے دربار تک مخصوص حالات میں رسائی حاصل کی اور بارہ سال تک بادشاہ کا شاہی معالج رہا۔ (اسے ہمارے یہاں اردو والے برنئیر لکھتے ہیں)۔ 1625ء میں پیدا ہونے والا یہ ڈاکٹر 1688ء میں فوت ہوا۔ اس کی خدمات کے صلے میں، 4ستمبر1666ء کو اَورنگزیب عالَمگیر نے فرینچ تاجروں کو ہندوستان کی بندرگاہ سُورَت (گجرات)کے ذریعے تجارت کی اجازت کا شاہی فرمان جاری کیا جو آگے چل کر اِس خطّے میں فرنگی اقتدار کے استحکام کی بنیاد ثابت ہوا۔ فرینچ استعمار نے اپنا گورنرجنرل مقرر کرکے مختلف سرکاری اُمور کی نگرانی کے لیے ایک مجلس ِ عالیہ (Superior Council) بھی تشکیل دی۔ انھوں نے اپنے پنجے گاڑتے ہوئے 1683ء تک جنوب میں، تَمِل ناڈ کے پاس واقع،پانڈی چیری (Pondicherry) میں اپنا صدرمقام بنایا جسے آج Puducherryکہا جاتا ہے۔ فرینچ نے کرناٹک کی لڑائیوں (1746ء تا 1763ء) میں انگریز کے ہاتھوں شکست کھاکر، یکے بعددیگرے تمام علاقے خالی کیے، مگر کچھ جگہوں پر اُن کا تسلط برقرار رہا۔ اُن کے عروج وزوال اور نوآبادیات میں اضافے کاسلسلہ بھی جاری رہا۔ بالآخر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے تمام حریفوں کو شکست دے کر، مغلوں سے اقتدار ہتھیا کر پورے ہندوستان پر قابض ہوگئی اور دوسری طرف انقلابِ فرانس (1794ء) کے دور میں یہ کمپنی فقط تجارت تک محدود ہوکر رہ گئی اور سیاسی معاملات سے اسے ہٹادیا گیا۔ مابعد جب ہندوستان مغل سلطنت کے خاتمے کے بعد ، چھوٹی بڑی ریاستوں اور رَجواڑوں میں تقسیم تھا اور مرکزی طاقت برطانیہ کی تھی، پھر شُدہ شُدہ ہندوستان کو آزاد کرکے تقسیم کیا گیا تب بھی کچھ علاقے فرانس اور پرتگال کے قبضے ہی میں تھے۔ 1954ء میں پانڈی چیری کا علاقہ، فرینچ استبداد سے آزاد ہوا اور بھارت کے حوالے کیا گیا۔ (یہاں ضمناً عرض کرتاچلوں کہ بِیجاپُور پر1614 ء تا 1638ء حکومت کرنے والے عادل شاہی حکمراں، سلطان ابراہیم عادل شاہ ثانی نے فرینچ تاجروں کی یہاں آمد سے قبل، پرتگیز اور ڈینش تُجّار کو تجارت کی اجازت دی تھی۔ یہ سلسلہ ٹوٹا تو فرینچ چھاگئے)۔

یہاں ذرا سانس لیں تو اَپنی تاریخ کے ایک اور باب کی طرف توجہ فرمائیں: میسور کی چھوٹی سی ریاست کا فرانس سے سفارتی تعلق اور فرینچ سپاہ کا سلطان حیدرعلی خان اور فتح علی ٹیپو سے براہ ِ راست عسکری تعاون۔ ماقبل اس خطے کے دیگر مسلم و غیرمسلم حکمراں اس ضمن میں پہل کرچکے تھے۔ 1782ء میں فرانس کے بادشاہ لوئی شانز دہم (Louis XVI) نے مرہٹہ پیشوا مادھو رائو ثانی سے معاہدہ کیا جس کے بعد فرینچ جرنیل Marquis de Bussy-Castelnau (ماخ کی دو بُوسی۔ کاستیلنَو) نے فرینچ اقتدار کو موجودہ ماریشس تک وسعت دی۔ ایک اور جرنیل Pierre André de Suffren(پی ایغ آندغے دو سُوفغاں) نے 1782–1783ء میں ہونے والی دوسری میسور۔ انگریز جنگ میں سلطان حیدر علی کے اتحادی کے طور پر حصہ لیا۔ 1783ء میں ہونے والے معاہدہ ویخ سائی (عُرف ورسائی) یعنی Treaty of Versaillesپر دستخط کے بعد برطانیہ اور فرانس کے مابین چپقلش ختم ہوئی، ریاست ہائے متحدہ امریکا کو آزاد ملک تسلیم کیا گیا اور فرانس نے ٹیپو سلطان سے عسکری اشتراک ختم کردیا۔ اس پیش رفت نے ٹیپو سلطان کو بہت زک پہنچائی اور وہ دس ماہ کے محاصرے کے بعد 1784ء میں منگلور، انگریز کے ہاتھوں میں چھوڑ کر، صلح کرنے پر مجبور ہوگیا۔ 1786ء میں ٹیپو سلطان نے قسطنطینیہ (Constantinople) (نہ کہ قُسطنطُنیہ) کے راستے شاہ فرانس کو سفارت بھیجی جو بوجوہ منسوخ کرنی پڑی۔1787ء کے جولائی میں ٹیپو نے ایک مرتبہ پھر سفارت کاری کی سعی کی اور اِس مرتبہ براہ ِ راست شاہِ فرانس کو ایک وفد بھیجا جو محمد درویش خان، اکبر علی خان اور محمد عثمان خان پر مشتمل تھا اور اُن کی ہمراہی کے لیے پانڈی چیری کا فرینچ تاجر Monneron (مونے غوں) بھی تھا۔ اگست1788ء میں یہ سفارت شاہ ِ فرانس سے ملاقات کرنے ویخ سائی پہنچی، مگر معاہدہ ٔ ویخ سائی کے بعد، فرانس نے برطانیہ سے مزید الجھائو مناسب نہ سمجھا اور ٹیپو سلطان کے وفد کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

اکتوبر1794ء اور اپریل 1796ء میں ٹیپو سلطان نے ایک مرتبہ پھر فرانس سے عسکری تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ (یہاں یہ بات لائق ِ ذکر ہے کہ سلطان حیدر علی اَن پڑھ ہونے کے باوجود کئی زبانیں جانتے تھے اور اُنھوں نے اپنے فرزند ِ دلبند ٹیپو شہید کو متعدد زبانوں کی تعلیم اور فرینچ افسران کی نگرانی میں عسکری تربیت دینے کا اہتمام کیا تھا;ٹیپو فرینچ بخوبی جانتے تھے اور کسی حد تک انگریزی بھی)۔ انقلاب ِ فرانس کے بعد ایک مرتبہ پھر فضا سلطان کے حق میں ہموار ہوئی اور 1794ء میں ٹیپو نے French Republican officers کی تائیدسے میسور کا Jacobin Club قائم کرنے میں مدد فراہم کی جس کا مقصد ’جمہوریہ کے قوانین کے لیے قابل ِ قبول قواعد کی توضیع تھا۔ اُس نے ایک ’شجرِ آزادی‘ لگایا اور اپنے آپ کو ’شہری ٹیپو‘ قرار دیا۔اس تاریخی موقع پر جب فرینچ افسران، ٹیپو کے دربار میں باریابی سے ہمکنار ہوئے تو سلطان نے اپنے (اور ابتدائی طور پر اپنے والد کے) ایجاد کردہ ،پانچ سو راکٹوں کی سلامی پیش کی۔ مغربی دنیا آج بھی سلطان کو راکٹ کی ایجاد اور جنگ میں استعمال کا بانی مانتی ہے (یہ الگ بات ہے کہ صدیوں قبل چینیوں کے آتشیں تِیر بھی راکٹ کی ابتدائی شکل کہلاتے ہیں)۔1797ء میں فاں کُوا غی پَو (François Ripaud) کی سرکردگی میں ایک فرینچ دستے نے سلطان کیJacobin Club کے قیام میں مدد کی تھی۔ یہ لوگ ٹیپو کے سواء تمام بادشاہوں کے مخالف اور فرانس کی اوّلین جمہوریہ کے علم دار تھے۔1799ء میں میسور کی چوتھی اور آخری لڑائی میں انگریزوں نے غی پَو کو حیدرآباد، دکن سے گرفتار کیا جہاں وہ میسور کی فوج کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ 2005ء میں ایک فرینچ تاریخ داں Jean Boutier(ژاں بُوتی اے) نے اپنے ایک مقالے میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ درحقیقت میسور میں Jacobin Club کا قیام، برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا گھڑا ہوا فسانہ تھا تاکہ میسور کے خلاف جنگ کی جاسکے۔

اکتوبر1797ء کا ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ ٹیپو سلطان نے اپنے قلمی دوست، نپولین بونا پارٹ (فرینچ میں ناپولی اوں بونا پاخت)سے ماریشس کے فرینچ گورنر Malartic (مالاغ تِیک) کے توسط سے رابطہ کیا اور عسکری امداد چاہی۔ اس گورنر نے بوجوہ اپنی فوج سے کچھ حصہ نکال کر بھیجنے کی بجائے ڈیڑھ سو رِضاکاروں کا ایک دستہ سلطان کی خدمت میں ارسال کیا۔ Michel Raymond(می شیل غے موں) کی قیادت میں ایک سو چوبیس فرینچ سپاہیوں اور نظام ِ دکن ، علی خان آصف جاہ ثانی کی چودہ ہزار سپاہ روانہ ہوئی مگر اِنگریز کی مداخلت کے سبب، نظام پیچھے ہٹ گیا اور اِنگریزوں سے جاملا۔ اُدھر نپولین نے یہ منصوبہ بنایا کہ مصر فتح کرکے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے بعد، ہندوستان کے شہزادوں بشمول سلطان ٹیپو سے باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرے گا تاکہ برطانیہ کے خلاف جم کر معرکہ لڑسکے۔ افسوس کہ 1799ء میں، عکّہ کے محاصرے میں عثمانی ترکوں اور اِنگریزوں کے اتحاد نے نپولین کو پسپائی پر مجبور کردیا اور وہ مصروشام فتح کرکے پیش قدمی نہ کرسکا، ورنہ اُس کا اگلا پڑائو یقیناً ہندوستان کی سرزمین پر میسور ہی ہوتا اور تب یہاں کی تاریخ یکسر مختلف ہوتی۔

اردوکے ذخیرہ الفاظ میں شامل فرینچ الفاظ کی فہرست میں اتاشی، اکادمی (انگریزی میں اکیڈمی) ، بمبہ (ہینڈ پمپ ،زمین سے پانی نکالنے والا ہینڈ پمپ یا موٹر پمپ; پانی یا دھوئیں کے نکاس والا پائپ : ہزارگی بولی میں )، بوتل (قدیم فرینچ میں بوتیل، موجودہ فرینچ میں بُوتی اے)، پتلون (فرینچ میں پون تو لوں)، ریژِیم (فرینچ میں غے ژِیم ، قدیم فرینچ کے لفظ غوژی موں سے ماخوذ ہے جو خود لاطینی لفظ غیژیمین سے نکلا ہے۔ فون، کیفے (فرینچ میں کَفے: وہ جگہ جہاں محض مشروبات سے تواضع کی جائے)، ہائیڈروجن(فرینچ میں اِید غو ژین: اصل لفظ تو یونانی تھا، مگر یہ نام قدرے تبدیلی سے فرینچ سائنس داں نے تجویز کیا تھا)، ہوٹل(فرینچ میں اوتیل)اور بہت سے دیگرشامل ہیں۔

Bottle: 1. Middle English botel, from Old French botele, from Medieval Latin butticula, diminutive of Late Latin buttis cask: https://www.merriam-webster.com/dictionary/bottle

            2. Modern French bouteille

[The Oxford French-English, English-French Paperback Dictionary: 1991 edition]

French régime, from Old French regimen, regime, from Late Latin regimin-, regimen

https://www.merriam-webster.com/dictionary/regime