کراچی، ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ درج

مقدمہ مقتول پولیس اہلکار کے ہمراہ موجود پولیس کانسٹیبل فواد احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا


اسٹاف رپورٹر August 05, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

شہر قائد میں سہراب گوٹھ پولیس نے سپر ہائی وے جمالی پل کے قریب ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔

مقدمہ مقتول پولیس اہلکار کے ہمراہ موجود پولیس کانسٹیبل فواد احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ پولیس نے سپر ہائی وے جمالی پل کے قریب پولیس اہلکار کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 373 سال 2026 بجرم دفعہ 302 چوتیتس اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے کے تحت درج کرلیا۔

مدعی مقدمہ فواد احمد نے بیان دیا ہے کہ وہ قیوم آباد سیکٹر اے گلی نمبر 19 کا رہائشی اور محمکہ پولیس میں کانسٹیبل اور سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا ڈسٹرکٹ ایسٹ میں تعینات ہوں۔

3 اگست کو میری ڈیوٹی ہیڈ کانسٹیبل زمان عباس اور کانسٹیبلز اقبال اور مشرف کے ہمراہ رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک جمالی پل پکٹ پر تھی۔

مدعی کے مطابق میں اور زمان عباس دوسرے دو ساتھیوں سے پہلے جمالی پل کے قریب پہنچے اور ایوب گوٹھ جانے والے روڈ پر کھڑے کچی جگہ پر اپنے ساتھیوں کا انتظار کر رہے تھے کہ رات سوا آٹھ بجے ایک موٹر سائیکل پر سوار 2 نامعلوم ملزمان صورت شناس آئے اور آتے ہی پولیس پارٹی پر اپنے پاس موجود اسلحے سے جان سے مارنے کی نیت سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔

فائرنگ سے میرا ساتھی ہیڈ کانسٹیبل زمان عباس گولیاں لگیں جبکہ میں جان بچانے کے لیے قریب کھڑی ایمبولینس کی جانب چلا گیا۔

مدعی کے مطابق فائرنگ رکنے کے بعد دیکھا تو میرا ساتھی زمان عباس شدید زخمی حالت میں تھا جبکہ ملزمان ایوب گوٹھ جانے والے روڈ کی جانب فرار ہوگئے۔

جبکہ زخمی ساتھی کو لوگوں کی مدد سے فوری طبی امداد کے لیے ڈاؤ اسپتال لیکر گئے جہاں ڈاکٹروں نے ہیڈ کانسٹیبل زمان عباس کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جبکہ پولیس افسران و ورثا کی آمد کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔

بعدازاں مقتول کی لاش اس کے حقیقی بھائی عثمان ولد محمود احمد نے بغرض تدفین وصول کی سہراب گوٹھ پولیس نے مقدمہ مزید تفتیش کے لیے انچارج انویسٹی گیشن کے حوالے کر دیا ہے ۔