زط، جٹ اور ’’جن‘‘

پچھلے ایک کالم میں ہم نے قوم گجر کی بحث میںگجر لفظ کی بنیاد اور ارتقاء کے بارے میں بتایا تھا کہ گجر لفظ کو ’’گرجے‘‘ بھی لکھا گیا ہے ۔


[email protected]

پچھلے ایک کالم میں ہم نے قوم گجر کی بحث میںگجر لفظ کی بنیاد اور ارتقاء کے بارے میں بتایا تھا کہ گجر لفظ کو ’’گرجے‘‘ بھی لکھا گیا ہے ۔ گرجے پشتو تلفظ میں ’’غرزے‘‘ بولا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے، پہاڑ زادے، کوہستانی ہے۔ پھر جس طرح غرزے ، غلزے، غلجے اور مختلف لہجوں سے گزر کر غری یا غوری ہوا ہے، اسی طرح گرجے بھی مختلف لہجوں میں گرجے ،گرجر، گرجرا، گرجارا، سے گزر کر گجر اور بعض لہجوں میں گوجر ہوگیا ہے۔ تاریخ لکھنے والے بعض محققین لفظ گجر ،گوجر یاگؤجر کو ایک ہی سمجھتے ہیں یعنی وہ ایک ہی قوم لیے استعمال ہوتے ہیں تاہم میرے خیال یا تحقیق کے مطابق گؤجر اورگوجر لفط گجر سے مختلف لفظ ہے، میرا نقطہ نظریہ ہے کہ گؤجر، گوجر ایک پیشہ ہے جو کسی بھی وقت بدلاجاسکتا ہے لیکن گجر ایک قوم ہے، نسل ہے، برادری ہے جو بعد میں راجپوت بھی کہلائے، کہیں کہیں رانا اور رانے بھی ہوئے۔جب کہ سنسکرت کو بنیاد بنا کر تاریخ لکھنے والے گوجر اور گجر میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں اور اسے ایک ہی قوم ، نسل، ذات اور برادری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے پنجاب کا شہر گوجرانوالہ ہے، اسے گجرانوالہ بھی لکھا جاتا ہے۔ جیسے گوجرخان یا گجرخان، گجرات جیسے متحدہ ہندوستان کے گزٹیر میں گوجرات یعنی گجروں کا علاقہ لکھا گیا ہے۔ بھارت کی ریاست گجرات کو بھی گوجرات لکھا جاتا ہے۔ جب کہ اترپردیش اور ریاست بہار کے بھوج پوری لہجے اور دہلی میں ہندی اور ہریانوی لہجوں میں گ پر پیش ڈالر بولا جاتا ہے، اردو میں اسے گوجر یا گجر کے انداز میں لکھا جاتا ہے ۔ جب کہ گجروں کے سیکڑوں قبائل جو زبان بولتے ہیں اسے گوجری زبان کہا جاتا ہے ۔ بہرحال میرا خیال ہے کہ گجر اور گوجر الگ الگ الفاظ ہیں اور الگ معنی رکھتے ہیں۔

ایک انگریز مؤرخ کرنل ٹاڈ راجستھان کی اقوام اور قبائل کے بارے میں لکھتا ہے کہ ان میں جو اشراف، مالکان اراضی و جائیداد اورخاص لوگ ہوتے ہیں، وہ راجپوت، ٹھاکر، چوہدری وغیرہ کہلاتے ہیں اور عوام جٹ یا جاٹ کہلاتے ہیں اور ہمیں خطہ عرب میں ’’زط‘‘ لوگوں کی بات بھی کرنی ہے ۔ عام لوگوں اور خاص لوگوں کے طبقے، ہر قوم، ہر ملک، ہر نسل بلکہ مذاہب میں بھی ہمیشہ سے تھے، ہیں اور رہیں گے، مثلاً ہم پشتو نوں میں افغان کہلانے والے اکثر حکمران، طبقہ اعلیٰ اور اشرافیہ ہوتے ہیں جب کہ پشتون یا پختون کہلانے والے عام لوگ یا عوامیہ ہوتے ہیں، اس سلسلے میں ایک بہت معنی دار محاورہ یا کہاوت بھی ہے کہ… بھرا پیٹ فارسی بولتا ہے، آج کل انگریزی بولتا ہے۔ مطلب یہ کہ افغان کہلانے والے فارسی یا دری فارسی بولتے تھے اور اب بھی بولتے ہیں جب کہ عام لوگ یا عوامیہ پشتو بولتے تھے اور بولتے ہیں۔

ہاں تو ’’زط ‘‘ لوگوں کی بات کرتے ہیں، عربی زبان میں جٹ ، جٹوں یا جاٹوں کے لیے لفظ زط استعمال ہوتا ہے۔ بعض عرب ان کے لیے ’’جن ‘‘کا لفط بھی استعمال کرتے تھے۔ یہاں اس کا مطلب وہ ’’جن‘‘ نہیں ہوتا ہے جو ہم مسلمان مذہبی حوالے سے استعمال کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ زط لوگوں کے لیے قدیم عرب قبائل ’’جن‘‘ کا لفظ بولتے تھے ، یہ عرب لوگ’’کم کم نظر آنے والے خانہ بدوشوں اور صحرائی جانور پال لوگوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ عربی میں نظروں سے اوجھل، پوشیدہ اور کم کم دکھائی دینا کے لیے بھی لفظ ’’جن‘‘ استعمال کرتے تھے۔

 خانہ بدوش مویشی پال لوگ شہروں اور شہری تمدن سے باہر رہتے تھے، دن کو سفر کرتے تھے اور رات کو کسی بستی کے قریب پڑاؤ ڈال کر آرام بھی کرتے تھے اور وہاں اپنی اشیاء بیچتے اور خریدتے بھی تھے۔ یعنی خرید و فروخت کرتے تھے۔ آج کی انگریزی اصطلاح میں ’’جپسی‘‘ کا بھی یہی معنی ہے۔