دھرنوں کے باعث معیشت کو 7 کھرب کا نقصان ڈالر کی قدر بڑھنے سے بیرونی قرضوں میں اضافہ

امریکی ڈالر کی قدر 101 روپے پر پہنچنے سے واجب الادا قرضوں کی مالیت 180 ارب روپے بڑھ گئی، ٹیکس وصولیاں بھی متاثر ہوئیں


Irshad Ansari August 25, 2014
سول نافرمانی تحریک کا ٹیکس وصولیوں پر کچھ اثر نہیں پڑا، سیاسی عدم استحکام سے کاروبار اور ریونیو کو نقصان پہنچ رہا ہے، حکام وزارت خزانہ فوٹو: اے ایف پی/فائل

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے آزادی و انقلاب مارچ اور دھرنوں کے باعث ڈالرکی قیمت بڑھنے سے پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضوں میں 180 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اس ضمن میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے آزادی و انقلاب مارچ اور دھرنوں سے پیدا ہونیوالے حالات سے ملکی معیشت کو اب تک مجموعی طور پر سات کھرب روپے کے لگ بھگ نقصان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی مذکورہ صورتحال کی وجہ سے ملک میں ڈالر کی قیمت ایک مرتبہ پھر بڑھ کر 101 روپے ہوگئی ہے اور اس عرصے میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے اضافہ ہوا ہے اور اس وقت پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضہ ساٹھ ارب ڈالر ہے۔

اس لحاظ سے ڈالر مہنگا ہونے سے پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضے میں 180 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے اور اگر ڈالر مزید مہنگا ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کے ذمے قرضہ مزید بڑھ جائیگا جبکہ ٹیکس وصولیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اعلان کردہ سول نافرمانی کی تحریک کے ٹیکس وصولیوں پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں مگر برآمدی و درآمدی آرڈرز منسوخ ہونے اور صنعتیں اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے ریونیو کو نقصان پہنچ رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی ایسا کیس نہیں آیا جس میں تحریک سول نافرمانی کے نام پر ٹیکس یا دیگر حکومتی واجبات ادا نہ کیے ہوں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔