88 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری فراڈ کی مبینہ ماسٹر مائنڈ وشاکھا راٹھور کو بھی دبئی سے ڈی پورٹ کروا کر بھارتی شہر پونے پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سرمایہ کاری فراڈ کیس میں مطلوب ملزمہ وشاکھا راٹھور کو مہاراشٹر پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ نے پونے کے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے بتایا کہ ملزمہ کے خلاف انٹروپول کا ریڈ نوٹس جاری ہوا تھا جس کے بعد وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، انٹرپول اور اماراتی حکام نے اس کی گرفتاری کے لیے مشترکہ کارروائی کی۔
انٹرپول نے 3 اگست کو ملزمہ وشاکھا راٹھور کو متحدہ عرب امارات میں حراست لیا تھا اور ضروری کارروائی کے بعد اسے بھارت ڈی پورٹ کیا گیا جہاں پونے ایئرپورٹ پر پولیس ملزمہ کی منتظر تھی۔
تحقیقات کے مطابق شوہر اویناش نے اپنی بیوی وشاکھا راٹھور کے کہنے پر ایک کمپنی بنائی تھی جس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو مقررہ ماہانہ منافع اور غیر معمولی ریٹرن کا لالچ دے کر مختلف سرمایہ کاری اسکیموں میں رقم جمع کرائی گئی۔
بعد ازاں مبینہ طور پر سرمایہ کاروں کی رقم ہڑپ کرکے اسے مختلف بینک اکاؤنٹس اور ڈی میٹ اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ اس فراڈ سے متاثرہ افراد کی تعداد کافی زیادہ ہے جبکہ مجموعی رقم تقریباً 88 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ملزمہ کے شوہر اور کیس کے دوسرے مرکزی ملزم اویناش ارجن راٹھور کو بھی 23 جولائی 2026 کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کرکے واپس بھارت واپس لایا گیا تھا۔
ملزم اویناش کو ممبئی ایئرپورٹ پر گرفتار کرکے پونے منتقل کیا گیا جہاں عدالت نے مزید تفتیش کے لیے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بھارت میں سال 2023 کے دوران فراڈ کے مقدمات درج ہونے کے بعد دونوں میاں بیوی بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔
جس کے بعد اپریل 2024 میں ان کے خلاف لُک آؤٹ سرکلر جاری کیا گیا تھا بعد ازاں خصوصی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے۔
جون 2026 میں انٹرپول نے دونوں کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیا جس کے بعد انہیں متحدہ عرب امارات میں تلاش کر کے بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔
اقتصادی جرائم ونگ کے حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ فراڈ کی رقم کا سراغ لگایا جا سکے، بیرون ملک منتقل کیے گئے اثاثوں کی نشاندہی ہو سکے اور اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔