یونان میں برطانوی خاتون کا بہیمانہ قتل؛ افغان باکسر کو امریکی اہلیہ نے پکڑوا دیا

افغان باکسر شریف احمد زئی نے پناہ گزینوں کی بہبود کیلیے کام کرنے والی برطانوی خاتون کے بینکس کارڈ سے رقم بھی نکلوائی


ویب ڈیسک August 05, 2026
افغان باکسر نے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی برطانوی خاتون کو قتل کردیا

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں برطانوی فلاحی رضاکار خاتون کی لاش سوٹ کیس سے برآمد ہونے کے کیس میں افغانستان کے باکسر کو آج عدالت میں پیش کیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں برطانوی امدادی کارکن ایلزبتھ جین راس کے قتل کیس میں گرفتار 26 سالہ افغان باکسر شریف احمد زئی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

یونانی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے جان بوجھ کر اور پورے ہوش و حواس میں برطانوی خاتون کو نہ صرف قتل کیا بلکہ مقتولہ کے بینک کارڈ سے 10 ہزار یورو سے زائد رقم بھی نکالی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا بھی مرتکب ہوا۔

تاہم ملزم نے قتل سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ مقتولہ کے فلیٹ پہنچا تو وہ پہلے ہی باتھ روم میں نیم بے ہوش حالت میں موجود تھیں اور جب اگلے روز دوبارہ آیا تو خاتون کو مردہ پایا تھا۔

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہاں موجود ایک نامعلوم بزرگ شخص نے لاش ٹھکانے لگانے کا مشورہ دیا جس پر لاش کو سوٹ کیس میں رکھ کر ایک متروک عمارت میں چھوڑ آیا تھا تاکہ شبہ مجھ پر نہ جائے۔

تاہم استغاثہ نے ملزم کے اس مؤقف کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ پر ایسے کسی بزرگ شخص کے موجود ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔ جس نے لاش منتقلی کا مشورہ دیا ہو۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزم کو سوٹ کیس لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ جس نے مقتولہ کے کریڈٹ اور بینک کارڈ استعمال کرکے مختلف اے ٹی ایمز سے ہزاروں یورو بھی نکالے۔

قتل کی تفتیش کرنے والے اہلکاروں نے مزید بتایا کہ ملزم نے مقتولہ کے موبائل فون سے اہل خانہ اور دوستوں کو متعدد پیغامات بھی بھیجے تاکہ انھیں یہ تاثر دیا جا سکے کہ خاتون زندہ ہیں۔

دی گارجین کے مطابق بعض یونانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے بعد میں ایک جعلی پیغام کے ذریعے قتل کو مذہبی انتہا پسندوں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی تاہم پولیس اسے گمراہ کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزم کی امریکی اہلیہ جو ایک فلاحی تنظیم میں کام کرتی ہیں اپنے شوہر کی مشکوک سرگرمیوں پر شبہ ہونے کے بعد خود پولیس سے رابطے میں آئی تھیں اور اس کیس میں کافی مدد کی۔

رپورٹس کے مطابق انہوں نے پولیس کو وہ رقم بھی حوالے کی جو مبینہ طور پر ملزم نے مقتولہ کے اکاؤنٹ سے نکلوائی تھی جبکہ ایک نیا موبائل فون بھی تفتیش کاروں کے حوالے کیا جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھی مقتولہ کی رقم سے خریدا گیا تھا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم میں جسم پر واضح تشدد کے نشانات نہیں ملے تاہم فرانزک ماہرین کا شبہ ہے کہ موت ممکنہ طور پر دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہوگی۔ حتمی وجہ جاننے کے لیے ٹشو اور زہریلے مادوں کے ٹیسٹس کیے ہیں جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

پولیس کے مطابق ایلزبتھ جین راس 26 جون کو یونان پہنچی تھیں۔ ابتدا میں وہ ایتھنز کی بندرگاہی بستی پیریئس میں دوستوں کے ساتھ رہیں بعد ازاں وہ ایک ایسے اپارٹمنٹ میں منتقل ہوئیں جس کا تعلق مہاجرین کی مدد کرنے والی ایک فلاحی تنظیم سے تھا۔

اسی تنظیم سے ملزم افغان باکسر شریف احمد زئی اور اس کی امریکی اہلیہ بھی وابستہ تھے جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

یونانی پولیس، انٹرپول اور برطانوی حکام مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ ملزم کو جمعرات کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں مقدمے کی آئندہ کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔