بالوں کو رنگنے کے لیے بازار میں دستیاب کیمیکل ہیئر ڈائیز اور بیوٹی پارلرز کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ مصنوعات وقتی طور پر خوبصورت رنگ تو دے دیتی ہیں، مگر طویل مدت میں بالوں کی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اگر آپ اپنے بالوں کو محفوظ رکھتے ہوئے قدرتی انداز میں رنگنا چاہتے ہیں تو گھریلو مہندی بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کیمیکل ہیئر ڈائی میں موجود امونیا بالوں کی پروٹین تہہ کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ قدرتی رنگت ختم کرکے مصنوعی رنگ کو بالوں میں جذب کرتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بالوں کی بیرونی تہہ (کیوٹیکل) اور اندرونی ساخت کمزور ہونے لگتی ہے، جس سے بال اپنی قدرتی مضبوطی اور چمک کھو دیتے ہیں۔
بالوں کو بار بار کیمیکل سے رنگنے کے باعث ان کی موٹائی میں کمی آسکتی ہے، بال خشک اور کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں، جبکہ بعض افراد کو سر کی جلد میں جلن، خارش، دانے اور یہاں تک کہ سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ بہت سی خواتین بالوں میں مہندی استعمال کرتی ہیں، لیکن اکثر مطلوبہ براؤن شیڈ نہ ملنے کی وجہ سے وہ دوبارہ کیمیکل ہیئر کلرز کی طرف مائل ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند قدرتی اجزا مہندی میں شامل کر کے نہ صرف خوبصورت براؤن رنگ حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ بال مضبوط، نرم اور چمکدار بھی رہتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے پہلے دو کپ پانی میں ایک، ایک چمچ چائے کی پتی اور کلونجی ڈال کر اتنا پکائیں کہ پانی تقریباً سوا کپ رہ جائے۔ اس کے بعد ایک کپ خشک مہندی میں ایک انڈا، دو کھانے کے چمچ ناریل، سرسوں یا زیتون کا تیل، ایک چمچ کتھا اور ایک چمچ املی کا گودا شامل کریں۔ آخر میں تیار کیا گیا چائے والا پانی ملا کر تمام اجزا اچھی طرح مکس کریں اور اس آمیزے کو دو سے تین گھنٹے کے لیے ڈھک کر رکھ دیں۔
مہندی استعمال کرنے سے ایک روز پہلے بالوں کو شیمپو سے اچھی طرح دھو لیں۔ اگلے دن تیار شدہ مہندی پورے بالوں پر لگائیں اور تین سے چار گھنٹے تک لگی رہنے دیں۔ خشک ہونے کے بعد صرف سادہ پانی سے بال دھو لیں۔
اس کے بعد کسی بھی قدرتی تیل میں آدھا چمچ لیموں کا رس ملا کر گیلے بالوں پر لگائیں اور انہیں قدرتی ہوا میں خشک ہونے دیں۔ اگلے دن معمول کے مطابق شیمپو کر لیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ طریقہ مہینے میں دو مرتبہ اپنایا جائے تو بال قدرتی انداز میں خوبصورت براؤن رنگ اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ ان میں چمک، نرمی اور مضبوطی بھی برقرار رہتی ہے۔ اس طرح کیمیکل ڈائی کے مضر اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔