گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسئلے پر ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے۔ اس تناظر میں عام لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت دریائے چناب اور جہلم کے پانی کو روک دے یا ان کے بہاؤ میں نمایاں کمی آجائے تو پاکستان پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ اس سوال کا جواب ہائیڈرولوجی، آبپاشی انجینئرنگ اور زمینی حقائق کی روشنی میں تلاش کرنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں دریائے چناب اور جہلم کا پانی مکمل طور پر روک دینا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ ان دریاؤں میں سالانہ لاکھوں ایکڑ فٹ پانی بہتا ہے، جسے مکمل طور پر ذخیرہ یا کسی اور سمت منتقل کرنے کے لیے نہایت بڑے آبی ذخائر، نہری نظام اور انفرااسٹرکچر درکار ہوگا، جو اس وقت موجود نہیں۔ تاہم بالائی علاقوں میں موجود یا مستقبل میں تعمیر ہونے والے بعض منصوبے دریاؤں کے بہاؤ کے اوقات میں تبدیلی یا محدود حد تک پانی بہاؤ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ یہی پہلو پاکستان کے لیے زیادہ اہم ہے، کیونکہ آبپاشی کے نظام میں صرف پانی کی مقدار ہی نہیں بلکہ اس کا بروقت دستیاب ہونا بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کا آبپاشی نظام دنیا کا ایک بڑا مربوط نہری نظام تصور کیا جاتا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب اس نظام کی بنیادی شہ رگیں ہیں۔ ان دریاؤں سے حاصل ہونے والا پانی منگلا ڈیم، چشمہ، تونسہ، رسول،مرالہ، خانکی، قادرآباد، تریموں، پنجند، سکھر اور گڈو جیسے اہم بیراجوں سے گزرتا ہوا سیکڑوں نہروں کے ذریعے پنجاب اور سندھ کے وسیع زرعی علاقوں تک پہنچتا ہے۔
1960 کے سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان نے دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کے لیے لنک کینالز کا ایک وسیع نظام تعمیر کیا۔ چشمہ-جہلم لنک، تونسہ-پنجند لنک اور مرالہ-راوی لنک نہریں اسی حکمت عملی کا حصہ تھیں۔ اس لیے چناب یا جہلم کے بہاؤ میں کسی بھی نمایاں تبدیلی کا اثر صرف ان دریاؤں کے کنارے واقع علاقوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے نہری نظام میں منتقل ہو جاتا ہے۔
اگر ان دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو یا پانی کے اخراج کے اوقات میں تبدیلی آئے تو سب سے پہلے اس کے اثرات آبپاشی کے نظام پر ظاہر ہوں گے۔ پاکستان میں گندم، کپاس، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی کاشت مخصوص اوقات میں پانی کی دستیابی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر پانی فصل کی ضرورت کے وقت نہ پہنچے تو مجموعی سالانہ بہاؤ میں معمولی فرق کے باوجود بھی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبپاشی کے ماہرین پانی کی مقدار کے ساتھ ساتھ اس کی بروقت دستیابی کو بھی یکساں اہمیت دیتے ہیں۔
پنجاب، جو ملک کی زرعی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے، چناب اور جہلم کے پانی پر خاصا انحصار کرتا ہے۔ گندم ملک کی بنیادی غذائی فصل ہے، جبکہ کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اور برآمدات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اگر نہروں میں پانی کی دستیابی کم ہو جائے تو اس سے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زرعی آمدن، دیہی معیشت اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نہری پانی میں کمی کی صورت میں کسانوں کا انحصار زیرِ زمین پانی پر مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبپاشی کے لیے ٹیوب ویلوں کا استعمال بہت زیادہ ہے۔ اگر نہری پانی مسلسل کم دستیاب رہے تو زیرِ زمین پانی کے زیادہ استعمال سے آبی سطح نیچے جا سکتی ہے اور بعض علاقوں میں پانی کے معیار، خصوصاً کھارے پن، کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی صرف کسانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ کھاد، زرعی مشینری، ٹرانسپورٹ، فوڈ پروسیسنگ اور ٹیکسٹائل سمیت متعدد شعبے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر پانی کی کمی کے باعث زرعی پیداوار میں نمایاں کمی آئے تو غذائی اجناس کی قیمتوں، برآمدات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماحولیاتی اعتبار سے بھی دریا صرف آبپاشی کا ذریعہ نہیں بلکہ مکمل ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں بڑی تبدیلیاں آبی حیات، دریا کے کناروں کے ماحولیاتی نظام اور زیریں سندھ میں میٹھے پانی کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسی طرح دریاؤں کے ذریعے منتقل ہونے والی مٹی بھی دریا اور ڈیلٹا کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یہاں یہ بات دوبارہ واضح کرنا ضروری ہے کہ موجودہ صورتحال میں چناب اور جہلم کے پانی کو مکمل طور پر بند کر دینا یکسر ممکن نہیں۔ تاہم اگر مستقبل میں بھارت کے پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے اصل تشویش پانی کی بروقت دستیابی اور موسمی بہاؤ میں ممکنہ تبدیلیاں ہوں گی، کیونکہ یہی عوامل آبپاشی کے نظام کی کارکردگی پر براہِ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ دیگر انتظامات کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی آبی حکمت عملی کو بھی مضبوط بنائے۔ جس کے لیے نئے آبی ذخائر کی تعمیر، موجودہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، نہری نظام کی بہتری، ڈرپ اور سپرنکلر جیسے جدید آبپاشی نظاموں کا فروغ، زیرِ زمین پانی کا انتظام، اور جدید ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا اور ریموٹ سینسنگ کی بنیاد پر آبی منصوبہ بندی مستقبل کے لیے ناگزیر اقدامات ہیں۔
چناب اور جہلم محض دو دریا نہیں بلکہ پاکستان کے آبپاشی، خوراک، توانائی اور معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے بہاؤ میں کسی بھی نمایاں اور مستقل تبدیلی کے اثرات صرف نہروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ زراعت، بجلی، زیرِ زمین پانی، ماحول اور قومی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے اس مسئلے کو سائنسی تجزیے، مضبوط آبی منصوبہ بندی اور مؤثر پانی کے انتظام کے تناظر میں دیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔