کراچی کی بدحالی کے ذمے دار

الخدمت کے مقابلے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کے سٹی ناظم کو بھرپور فنڈز دے کر اپنی کراچی سے محبت کا ثبوت دیا تھا


[email protected]

معتبر عالمی جریدے اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی عالمی رسوائی اور بدتر حالت پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور کراچی کی سیاسی پارٹیوں اور حکومت کو ایک دوسرے پر الزام تراشی اور کڑی تنقید کا موقعہ فراہم کر دیا ہے۔

اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ میں سندھ میں پیپلز پارٹی کی سترہ سالہ حکومت میں اب کراچی کی جو بدترین حالت ہے ،اس کی تفصیلی نشان دہی کی گئی ہے جس پر صوبائی حکومت، کراچی انتظامیہ، بلدیہ عظمیٰ کا فوری جواب نہ آنے پر ایم کیو ایم نے مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر کراچی کی تباہی کا ذمے دار سندھ حکومت کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ نے پیپلز پارٹی پر عدم اعتماد کی حتمی مہر ثبت کر دی ہے اور حکومتی کارکردگی کی وجہ سے کراچی کو دنیا کے بدترین شہروں میں پہنچا دینے کی ذمے داری سندھ حکومت پر عائد کی ہے۔

ایم کیو ایم کے علاوہ جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیاں بھی سندھ میں 18 سال سے جاری اور مسلسل حکومت کو ہی کراچی کی تباہی کا ذمے دار قرار دیتی آ رہی ہیں جب کہ جماعت اسلامی کراچی کی تباہی کا ذمے دار سندھ حکومت کو ہی نہیں بلکہ سالوں کراچی پر مسلط رہنے والی ایم کیو ایم کو بھی قرار دیتی ہے کیونکہ 18 سال قبل جنرل پرویز مشرف کی حکومت تک ایم کیو ایم وفاقی و صوبائی حکومتوں میں بھرپور طور پر شامل رہی اور کراچی کی بلدیہ عظمیٰ سمیت دیگر ادارے بھی ایم کیو ایم کے کنٹرول میں رہے ہیں۔

 گزشتہ بلدیاتی الیکشن سے قبل سندھ حکومت نے پہلی بار کراچی میں اپنا میئر لانے کا منصوبہ بنا لیا تھا جس کی خواہش مند پی پی کی قیادت تھی جن کی خوشنودی کے لیے کیماڑی ضلع بنایا گیا اور جہاں جہاں دیہی علاقوں میں پی پی کا ووٹ بینک تھا وہاں کم آبادی پر مشتمل یوسیز بنائی اور پی پی چیئرمینوں کی تعداد بڑھائی گئی مگر پھر بھی پی پی کراچی میں اپنا میئر لانے کی اکثریت حاصل نہ کر سکی جس کی وجہ سے اندرونی طور پر پی ٹی آئی کے یوسی چیئرمینوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے سندھ حکومت اپنے جیالے کو میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی تھی جس سے توقع تھی کہ کراچی میں اپنا میئر لا کر پی پی کی سندھ حکومت جیالے میئر کو آئینی اختیارات اور کے ایم سی کو شہر کی ضرورت کے مطابق فنڈز دے کر شہریوں میں اپنی مقبولیت کو شہری علاقوں میں بڑھا لے گی جس کے لیے کراچی کے شہری علاقہ کا میئر اور دیہی علاقے کا ڈپٹی میئر جیالے بنوائے مگر شہری میئر عوام کی توقعات پر پورے نہیں اترے۔ پہلے جیالے میئر نے ایم کیو ایم کے سٹی ناظم جیسی کارکردگی نہ دکھا کر عوام کو مایوس کیا جو کام سے زیادہ بلند و بانگ دعوؤں پر یقین رکھتے ہیں اور شہریوں کو خوش کرنے کی بجائے کہیں اور کی خوشنودی میں مصروف ہیں اور سابقہ سٹی ناظمین نعمت اللہ خان و مصطفیٰ کمال جیسی بھی کارکردگی دکھانے اور شہر میں تعمیر و ترقی اور مسائل کے حل کرانے میں ناکام رہے جس کی ان سے توقع تھی۔

 الخدمت کے مقابلے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کے سٹی ناظم کو بھرپور فنڈز دے کر اپنی کراچی سے محبت کا ثبوت دیا تھا جس کے نتیجے میں کراچی میں نمایاں ترقی ہوئی تھی اور شہریوں کو وہ مسائل درپیش نہیں تھے جو آج ہیں اور سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عدم دلچسپی، صرف زبانی دعوؤں کی وجہ سے کراچی دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے جب کہ پی پی کی قیادت نے کراچی کا شہری ہونے کا حق ادا نہیں کیا بلکہ کراچی کو اس حال پر پہنچا دیا ہے کہ کراچی اکانومسٹ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بدنام ہوا جب کہ جنرل مشرف دور اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کی کارکردگی سے کراچی دنیا کے 13 بہترین اور میگا سٹیز میں شامل ہوا تھا۔

 ایم کیو ایم اپنے سٹی ناظم کی بہترین کارکردگی اور عالمی اعتراف پر یہ کہنے کا حق رکھتی ہے کہ سندھ حکومت کراچی کی تباہی کی ذمے دار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت کے بے اختیار و کمزور بلدیاتی نظام میں اپنا میئر لا کر بھی کراچی کو ترقی کیا دلاتی شہریوں کے بنیادی مسائل بھی حل نہ کرا سکی جس کی وجہ جنرل پرویز کا ملک کو دیا گیا بہترین اور بااختیار ضلعی حکومتوں کا نظام تھا۔ پی پی کی سندھ حکومت کراچی سے واقعی مخلص ہوتی تو اپنے میئر کو سٹی ناظمین جیسا بااختیار بنا کر اور کراچی کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے دل کھول کر فنڈز دیتی مگر کراچی میں پیدا ہونے والی پیپلز پارٹی قیادت نے کراچی کو کبھی اپنا سمجھا ہی نہیں کیونکہ ان کا آبائی قبرستان کراچی میں نہیں ہے وہ سب کراچی میں پیدا ضرور ہوئے مگر کراچی کا حق نہ دلوا سکے۔

کراچی کی بلدیاتی قیادت پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے پاس اور اسمبلیوں کی نمائندگی ایم کیو ایم کے پاس ہے جس کے دو بے بس وفاقی وزیر ہیں جو کوشش کے باوجود حکومت سے کراچی کو اس کے حقوق نہیں دلا سکے اور انھیں وفاق مسلسل بہلاتا آ رہا ہے۔کراچی کی تباہی کی ذمے دار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی ہے۔ پی ٹی آئی کی سابق حکومت میں کراچی سے متعلق صرف دعوے ہی ہوئے ماضی کی (ن) لیگ اور پی پی کی وفاقی حکومتوں میں بھی کراچی کو اپنا نہیں سمجھا گیا بلکہ بری طرح نظرانداز کیا گیا۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا ایم کیو ایم پر یہ الزام بالکل درست ہے کہ ماضی کے اپنے بااختیار دور میں ایم کیو ایم والوں نے کراچی سے زیادہ خود کو مالی طور مضبوط بنایا اور بہت سے اب ملک سے باہر عیش کر رہے ہیں اور ان کا کراچی دنیا میں بدنام ہے۔ بے پناہ مسائل کا شکار اور آج بدترین حالت میں ہے جس کی ذمے دار زیادہ پیپلز پارٹی اور اقتدار میں رہنے والی بڑی پارٹیاں جو آج بھی صرف الزام تراشی کر رہی ہیں ۔