لاہور ریلوے اسٹیشن پر صفائی کا بحران، تعفن، تاخیر اور بند برقی زینوں سے مسافروں کی مشکلات بڑھ گئیں

برقی زینے بند ہونے کے باعث مسافر بھاری سامان خود گھسیٹنے پر مجبور ہیں، جبکہ قلی بھی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں


طالب فریدی August 06, 2026

پاکستان ریلوے اسٹیشن لاہور پر صفائی کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ سیوریج کا نظام ناقص ہونے کے باعث تعفن اور بدبودار پانی ٹریک پر جمع رہتا ہے، جس سے مسافروں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریل گاڑیوں کی کئی کئی گھنٹے تاخیر سے روانگی اور شدید حبس نے مسافروں کے لیے اپنی ٹرین کا انتظار کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

برقی زینے بند ہونے کے باعث مسافر بھاری سامان خود گھسیٹنے پر مجبور ہیں، جبکہ قلی بھی من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

ریلوے انتظامیہ نے صفائی ستھرائی کا کام ستھرا پنجاب کے حوالے کیا مگر عملہ اور افسران بھی غائب ہے۔ ریلوے آفیسر ریلوے اسٹیشن کے مخصوص ایریا کا دورہ کرکے روانہ ہو جاتے اور سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔

لاہور کا تاریخی ریلوے اسٹیشن کو گندگی، غلاضت اور انتہائی بدبودار تعفن زدہ سیوریج کے پانی نے ہزاروں لاکھوں روپے مالیت کی ٹکٹیں لے کر سفر کرنے والے کے سفر سے قبل اپنی اپنی ریل گاڑیوں کے انتطار کو اذیت ناک بنا ڈالا۔

پلیٹ فارم نمبر دو، تین، چار اور پانچ پر صفائی ستھرائی کا نظام انتہائی خراب ہے۔ ستھرا پنجاب کے چند ملازمین نظر آتے ہیں لیکن ان کے پاس بھی صفائی کے آلات ہی نہیں، چند جھاڑو اور گندے کپڑے سے بنے ہوئے وائپر ہیں جو ماحول کو مزید بدبودار بنا دیتے ہیں۔

مسافروں کا ریلوے اسٹیشن میں بیٹھنا مشکل ہو چکا ہے جبکہ صفائی ملازمین نے بتایا کہ ان کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، پلیٹ فارم سمیت ٹریک کی صفائی ستھرائی نہ ہونے کے برابر ہے، پلیٹ فارم کے آس پاس گھاس پھوس بھی بڑی تعداد میں اگ چکی ہے جس میں کئی قسم کے حشرات پیدا ہو چکے جبکہ بڑے بڑے چوہوں نے بھی ریلوے اسٹیشن پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

اس کے علاوہ، رہی سہی کسر ریل گاڑیوں کی ٹوٹی پھوٹی بوگیوں نے پوری کر دی ہے، گاڑیوں کے واش روم انتہائی گندے جیسے کبھی صفائی ستھرائی ہی نہیں ہوئی جبکہ ہر گاڑی واشنگ ایریا میں روزانہ واش کے لیے جاتی ہے لیکن پتا نہیں کہ واشنگ لائن ایریا میں کیا ہوتا ہے۔

مسافر ارم، عباس، تنویر، امجد، کاشف اور عقیل نے بتایا کہ ریل گاڑی دیر سے آتی ہے، گاڑی میں سوار ہو جائیں تو بدبودار تعفن زدہ سیوریج کا پانی بیٹھنے نہیں دیتا، اتنی بدبو ہے کہ سانس لینے میں دشواری ہے، ریل گاڑیوں کی بوگیوں کی کھڑکیاں کھلتی نہیں اور کھل جائیں تو بند نہیں ہوتیں، واش روم خراب اور پانی نہیں آتا، استعمال کرنے کے قابل نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کسی ریلوے آفیسر سے بات کریں تو جواب ملتا ہے کہ لاؤنج میں انتظار کریں وہ کس لیے بنائیں ہیں، لاؤنج میں جگہ کم ہے اور رش زیادہ ہے، ایئر کنڈیشن بند ہیں، شدید گرمی اور حبس میں انتظار کرنا کسی عذاب سے کم نہیں۔ رہی سہی کسر گاڑیوں کی روانگی میں کئی کئی گھنٹے تاخیر ہے، کھانے پینے کی اشیاء غیر معیاری ہیں اور قیمت بھی کئی گنا زائد جبکہ قلی من مانے ریٹس پر سامان اٹھاتے ہیں، برقی زینے بھی بند ہوتے ہیں، ریلو ے انتظامیہ اپنی مرضی سے برقی زینے چلاتی ہے۔

دوسری جانب، جب ستھرا پنجاب کے آفیسر طیبہ سے رابط کیا تو انہوں نے کہا کہ سامان کی کوئی کمی نہیں، ریلوے اسٹیشن 100، 150 سال پرانہ ہے اس کا سسٹم کام تو کر رہا ہے لیکن کبھی کبھار بارش کی وجہ سے چوک ہو جاتا ہے جس کو فوری طور پر کھول دیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عملہ دن رات ریلوے اسٹیشن کی صفائی ستھرائی پر معمور ہے، گاڑیاں جیسے ہی روانہ ہوتی ہیں ٹریک سمیت پلیٹ فارم کی صفائی ستھرائی شروع کر دی جاتی ہے تاہم اس سلسلے میں ڈویژنل میڈیکل آفیسر ریلوے سمیرا سے بھی کئی بار رابطہ کیا گیا مگر ان کی طرف سے جواب نہیں ملا۔