جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے میر رضا کی قبر کشائی سے متعلق درخواست کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ مقتول کے والد کی جانب سے قبر کشائی کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواستگزار نے استدعا کی کہ مقتول کی قبر کشائی کی جائے۔ مزید استدعا کی سینئر فرانزک اور پیتھالوجی ایکسپرٹ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم، ایکسرے اور ڈی این اے کیا جائے۔
پراسیکیوشن کی جانب سے درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پولیس سرجن اور سیکریٹری ہیلتھ ٹیم تشکیل دیکر جلد از جلد تمام مراحل مکمل کریں۔
عدالت نے ایس ایچ او فیروز اباد کو تمام تر انتظامات کرنے کا حکم بھی صادر فرما دیا۔ اس سے پہلے میر رضا کی موت جاننے کے لیئے قبر کشائی کرنے سے متعلق والد میر حسن کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم تفتیشی افسر کو بلالیتے ہیں۔ میر حسن کے وکیل نے موقف دیا کہ آپ تفتیشی افسر کو نوٹس کرنا چاہتے ہیں تو کردیں۔ کل تک پوسٹ مارٹم ہوسکتا ہے، ورنہ باڈی خراب ہوجائے گی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میں تفتیشی افسر کو سنے بغیر درخواست پر فیصلہ نہیں کروں گا۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ایک گھنٹے میں ٹفتیشہ افسر کو بلالیں۔ اگر آپ چاہیں تو سیکریٹری صحت کوحکم دیں، چند گھنٹوں میڈیکل بورڈ بن سکتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وکیل صاحب سرکار آپ کے ساتھ ہے، میڈیا آپ کے ساتھ ہے۔ وکیل نے موقف دیا کہ جوڈیشری بھی ساتھ ہونی چاہیئے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جوڈیشری تو پہلے ہی آپ کے ساتھ ہے۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قبر کشائی کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ بناکر قبر کشائی کا حکم دیدیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ جتنا جلد ہوسکے عدالتی حکم پر عمل کیا جائے۔
ادھر گلستانِ جوہر میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کے معاملے میں قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق میر رضا علی کی قبر کشائی کل بروز جمعہ صبح 9 بجے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو پوسٹ مارٹم کی جگہ سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق قبر کشائی کے بعد لاش سے مختلف نمونے حاصل کیے جائیں گے، جبکہ نمونے لینے کے فوراً بعد دوبارہ تدفین کر دی جائے گی۔
میڈیکل بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پیتھالوجی، ڈاؤ میڈیکل کالج، ڈاکٹر فرح وسیم، اسسٹنٹ پروفیسر فارنزک میڈیسن، سندھ میڈیکل کالج، عامر حسن خان، فارنزک آئیڈنٹیفکیشن ایکسپرٹ، ای ٹی ایف شناخت، سی پی ایل سی، ڈاکٹر شری چند، ایڈیشنل پولیس سرجن، ڈاکٹر کامران خان، ڈی ایم جے میڈیکو لیگل آفیسر جناح اسپتال کراچی، ڈاکٹر دانیال مرزا، میڈیکو لیگل آفیسر جناح اسپتال کراچی، ڈاکٹر محمد یاسین، ایڈمن انچارج، اور پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید شامل ہیں۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول میر رضا علی کے والد میر حسین نے کہا کہ رپورٹ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ تفتیش کس سمت جا رہی ہے، کبھی مالی معاملات کی بات کی جاتی ہے اور کبھی کسی اور پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ ہم قتل کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بچے پر قرضہ تھا تو پورے ملک پر بھی قرضہ ہے، مگر انویسٹی گیشن میں مالی معاملات اور سرمایہ کاری پر بات کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کہاں ہیں، وہ سامنے کیوں نہیں آ رہے؟
میر حسین نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچے کو پہلے ہی انتہائی تکلیف میں دیکھا، اب دوبارہ قبر کشائی بھی ان کے لیے باعثِ اذیت ہے، تاہم پولیس کو تحقیقات کرنی چاہئیں کہ شناخت کیوں مٹائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اب تک قتل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ان کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس ان سے کچھ اور بات کرتی ہے جبکہ باہر کچھ اور مؤقف اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد پولیس سے رپورٹ طلب کی گئی تو رپورٹ ملی، جبکہ انہیں صرف انصاف چاہیے۔
دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبر کشائی کی درخواست پولیس کو دینی چاہیے تھی، تاہم ایسا نہ ہونے پر والدین نے خود درخواست دائر کی۔
وکیل نے کہا کہ اصل قاتلوں تک پہنچنے یا وجۂ موت کے تعین کے لیے قبر کشائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق پولیس کیس کو نمٹانا چاہتی ہے، جبکہ پولیس سرجن آفس میں ڈاکٹر اسامہ کی رپورٹ کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد آج تک تفتیشی افسر نے مدعی کا بیان تک ریکارڈ نہیں کیا، افواہیں گردش کر رہی ہیں مگر شواہد جمع نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدعی کو تفتیش کے عمل سے مطمئن کریں۔