پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے خواتین کی جانب سے گھروں میں کھانا نہ پکانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر فطری قرار دیا ہے۔
مولانا طارق جمیل نے حال ہی میں ڈاکٹر عفان قیصر کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
خواتین کے گھروں میں کھانا نہ پکانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر واقعی جدید دور میں خواتین نے گھر میں کھانا پکانا چھوڑ دیا ہے تو یہ ایک غیر فطری رجحان ہے۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ 1998 میں امریکہ کے دورے کے دوران ایک ڈاکٹر نے انہیں شمالی امریکہ کے ایسے اعداد و شمار دکھائے تھے جن کے مطابق صرف ایک سال میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ غیر فطری اور مصنوعی غذا انسان کے رویے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فاسٹ فوڈ اور مصنوعی خوراک مزاج میں چڑچڑاپن، غصہ اور بے صبری پیدا کر سکتی ہے، جس سے میاں بیوی کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
طارق جمیل نے کہا کہ غیر صحت بخش غذا مردوں کی صحت، توانائی اور جسمانی قوت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے لوگوں کو دیسی گھی اور گھریلو کھانوں کے استعمال کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جن گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں، وہاں بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے ڈاکٹروں کا کاروبار فروغ پاتا ہے۔