بھارت؛ تہلکہ نیوز کے صحافی ترون تیج پال کو زیادتی کیس میں 10 سال قید کی سزا

عدالت نے صحافی ترون تیج پال کو 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا


ویب ڈیسک August 06, 2026
بھارت میں انویسٹی گیشن صحافت کے موجد کو زیادتی کیس میں سزا؛ اے آئی سے بنوائی گئی تصویر

بھارت کی ایک اعلیٰ عدالت نے معروف صحافی، ناول نگار اور تہلکہ میگزین کے سابق مدیر ترون تیج پال کو خاتون ساتھی سے زیادتی کے جرم میں 10 سال قید کی سزا سنا دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاست گوا میں بمبئی ہائی کورٹ کے گوا بینچ نے عدالت نے اس مقدمے میں 2021 میں سنائے گئے بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تیج پال کو جنسی زیادتی اور جنسی ہراسانی کے الزامات میں قصوروار قرار دیا۔

جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے ترون تیج پال کو بھارتی قانون کی مختلف دفعات، جن میں زیادتی اور جنسی ہراسانی سے متعلق شقیں شامل ہیں کے تحت سزا سنائی اور ساتھ ہی 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

مقدمہ کیا تھا؟

یہ مقدمہ نومبر 2013 کا ہے جب تہلکہ میگزین کی ایک خاتون صحافی نے الزام لگایا تھا کہ ترون تیج پال نے گوا میں منعقدہ تہلکہ کے بین الاقوامی پروگرام کے دوران ہوٹل کی لفٹ میں ان سے جنسی ہراسانی کی۔

اس کانفرنس میں بالی ووڈ کے سپر اسٹار امیتابھ بچن اور ہالی ووڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو سمیت متعدد معروف شخصیات شریک تھیں۔ بھارتی قانون کے تحت متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔

ترون تیج پال کا مؤقف

62 سالہ ترون تیج پال نے ابتدا میں اس واقعے کو صورتحال کو غلط سمجھنے کا نتیجہ قرار دیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایک سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سزا سنائے جانے سے قبل عدالت میں انہوں نے کہا کہ میں خود کو سیاسی انتقام کا شکار سمجھتا ہوں۔ میری دو بیٹیاں ہیں، میری اہلیہ ہے، ہم سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔

سنہ 2021 میں بری اور اب سزا

ترون تیج پال کو 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تقریباً سات ماہ جیل میں رہے جس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔

سال 2021 میں گوا کی ایک سیشن عدالت نے انھیں تمام الزامات سے بری کر دیا تھا تاہم اس فیصلے پر شدید تنقید ہوئی کیونکہ عدالت نے اپنے 527 صفحات پر مشتمل فیصلے میں متاثرہ خاتون کے رویے پر سوالات اٹھائے تھے۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مبینہ واقعے کے فوراً بعد لی گئی تصاویر میں خاتون مسکراتی ہوئی اور معمول کے مطابق دکھائی دے رہی تھیں اس لیے وہ خوف زدہ یا صدمے کا شکار محسوس نہیں ہوئیں۔

ان ریمارکس کو خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

بعد ازاں گوا حکومت نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے بریت کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے ترون تیج پال کو مجرم قرار دیا۔

استغاثہ کا مؤقف

گوا حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے زیادہ سے زیادہ سزا دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کو معاشرے کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ جب کوئی خاتون نہیں کہے تو اس کا مطلب واقعی نہیں ہوتا ہے۔

ترون تیج پال کون ہیں؟

ترون تیج پال نے سال 2000 میں تحقیقی صحافت کے لیے مشہور تہلکہ میگزین کی بنیاد رکھی تھی۔ میگزین نے متعدد اسٹنگ آپریشنز اور تحقیقی رپورٹس شائع کیں، جن میں آپریشن ویسٹ اینڈ خاص طور پر مشہور ہوا۔

اس آپریشن میں صحافیوں نے اسلحہ فروش بن کر خفیہ ویڈیوز ریکارڈ کی تھیں، جن میں فوجی افسران، بیوروکریٹس اور اس وقت برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک صدر کو مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔