مون سون کی بارشیں جہاں موسم کو خوشگوار بناتی ہیں، وہیں ان کے بعد کیڑوں اور حشرات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں صفائی کے ناقص انتظامات اور مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے کے باعث بارش کے بعد کئی اقسام کے کیڑے گھروں کا رخ کرنے لگتے ہیں، جو شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔
بارش کے بعد اکثر چھوٹے سیاہ کیڑے، جنہیں عام طور پر پتنگے کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں گھروں کی روشنیاں اور بلب کے گرد منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ بعض دیگر حشرات کے کاٹنے سے جلد پر خارش اور جلن بھی ہو سکتی ہے، جبکہ ان کے ذریعے مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ چند سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ان کیڑوں کی آمد کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
بارش کے موسم میں گھر سے باہر نکلتے وقت جسم پر مناسب حشرات سے بچاؤ کی دوا یا ریپلینٹ لگانا مفید رہتا ہے، تاکہ مچھر یا دیگر کیڑے جسم کو نہ کاٹ سکیں۔ خاص طور پر بارش کے بعد حشرات کی سرگرمی بڑھنے کے باعث یہ احتیاط زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
گھر کے کمروں میں کافور کی گولیاں رکھنا بھی ایک گھریلو تدبیر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کافور کی تیز مہک بعض حشرات کو دور رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، اس لیے بارش کے دنوں میں انہیں کمرے کے مختلف حصوں میں رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح بارش کے فوراً بعد گھر کے اندر کیڑے مار اسپرے کا استعمال بھی حشرات کی تعداد کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم اسپرے استعمال کرتے وقت اس پر درج حفاظتی ہدایات پر ضرور عمل کرنا چاہیے اور بچوں و پالتو جانوروں کو اسپرے کی جگہ سے دور رکھنا چاہیے۔
ایک اور گھریلو طریقے کے طور پر سیب کا سرکہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک پیالے میں پانی کے ساتھ سیب کا سرکہ ملا کر رکھنے سے اس کی تیز خوشبو بعض کیڑوں کو دور رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اسی طرح جلد پر ہلکی مقدار میں موزوں تیل لگانے کو بھی کیڑوں کے کاٹنے سے بچاؤ کی ایک تدبیر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
بارش کے موسم میں صرف حشرات کو دور کرنا ہی کافی نہیں بلکہ گھر کے ماحول کو صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔ گھر میں موجود پودوں کی باقاعدگی سے صفائی کی جائے اور کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ کھڑا پانی مچھروں اور دیگر حشرات کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔
کھانے پینے کی اشیا کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا چاہیے، جبکہ گھر کے بیرونی دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگانے سے کیڑوں کے اندر داخل ہونے کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔ گھر اور اس کے اطراف صفائی کا خصوصی خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق کچرا گھر سے مناسب فاصلے پر رکھا جائے اور ڈسٹ بن کا ڈھکن ہمیشہ بند رکھا جائے، تاکہ جراثیم اور حشرات کی افزائش کو روکا جا سکے۔ مون سون کے دوران صفائی اور احتیاطی تدابیر پر توجہ دے کر بارش کے بعد پیدا ہونے والی ان غیر ضروری پریشانیوں سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔