تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے صوبہ نونتھابوری کے دیبسیرین نونتھابوری سیکنڈری اسکول میں ہولناک فائرنگ کے واقعے کی دل دہلا دینے والی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے قانونی وجوہات کی بنا پر حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم بتایا گیا ہے کہ وہ 14 سالہ نویں جماعت کا طالب علم تھا اور اسی اسکول میں زیر تعلیم تھا۔ وہ اپنے والدین کے بجائے دادا دادی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔
اس واقعے کی تازہ ترین معلومات مزید دردناک ہیں۔ طالب علم نے اپنے گھر میں دادا کا نائن ایم ایم پستول لیا اور سب سے پہلے اپنے دادا اور دادی کو گولی مار کر قتل کیا پھر اسکول پہنچا۔
اسکول میں بھی اندھا دھند فائرنگ کی جس یں 5 اساتذہ ہلاک جبکہ 20 سے زائد طلبا اور عملے کے افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔
بعد ازاں 14 سالہ حملہ آور نے اُسی پستول سے خود کو بھی گولی مار لی، اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
پولیس کے بقول نوعمر لڑکے نے اسکول میں تقریباً 26 گولیاں چلائیں جب کہ مرتے وقت اس کے پاس 34 مزید گولیاں بھی موجود تھیں یعنی وہ زیادہ بڑے پیمانے پر حملے کا ارادہ رکھتا تھا۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ طالب علم گھر سے براہ راست اسکول پہنچا اور راستے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جب کہ اس نے آن لائن پلیٹ فارمز پر اجتماع پر فائرنگ سے متعلق معلومات بھی تلاش کیں۔
جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور اسکول پر فائرنگ کی منصوبہ بندی کئی دنوں سے کر رہا تھا تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ دادا دادی کو کیوں قتل کیا اور اسکول پر حملے کا محرک کیا تھا۔
اسکول میں فائرنگ کے وقت طلبا کلاس رومز میں چھپ گئے جب کہ کئی کھڑکیوں سے کود کر باہر نکلے جبکہ اساتذہ نے بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کی۔
تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں حکام نے بتایا ہے کہ لڑکا کافی عرصے سے Academic Stress یعنی تعلیمی دباؤ کا شکار تھا۔ وزیر اعظم نے بھی تصدیق کی کہ ابتدائی شواہد میں طالب علم کے شدید ذہنی دباؤ میں ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی حتمی طور پر واقعے کے محرکات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تحقیقات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں۔ حملہ آور کے موبائل فون، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور دیگر شواہد کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے ملک میں اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کے ذاتی اسلحہ رکھنے اور عوامی مقامات پر اسلحہ لے جانے سے متعلق قوانین کا ازسرنو جائزہ لے گی۔
وزیراعظم نے اسکول آئندہ ہفتے تک بند رکھنے، متاثرہ خاندانوں کو نفسیاتی مدد فراہم کرنے اور خون کے عطیات کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 2022 میں نرسری پر ہونے والے بدترین حملے اور 2023 میں ایک شاپنگ مال میں 14 سالہ لڑکے کی فائرنگ کے واقعات کے باوجود تھائی لینڈ کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں شہریوں کے پاس اسلحہ رکھنے کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔