سسٹم بیٹھ گیا ہے

ہمارے ہاں سسٹم بیٹھنے کی بہت ساری دیگر وجوہات بھی ہیں



جب سے ہوش سنبھالا الیکشن کے دنوں میں یہ سنتے آئے ہیں کہ فلاں امیدوار جو پہلے میدان میں کھڑا تھا اب کسی امیدوار کے حق میں بیٹھ گیا ہے اور امیدواروں کے بیٹھنے کا یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

اس کے بعد جب انٹرنیٹ کا دور آیا اور دیگر اداروں کی طرح سارا بینکنگ سسٹم بھی کمپیوٹر پر منتقل ہوا تو اکثر اوقات جب بینک میں کسی کام سے جائیں تو متعلقہ اسٹاف کہہ دیتا ہے کہ ابھی یہ کام نہیں ہوسکتا کیوں کہ سسٹم ڈاؤن ہے اور پھر وہ سسٹم اسٹاف کے کام کرنے کے موڈ کے مطابق ہی کھڑا ہوپاتا ہے ورنہ سائل اپنا سا منہ لے کر واپس آجاتا ہے، کیونکہ اس کے بس میں نہیں ہوتا کہ ڈاؤن سسٹم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکے۔

سسٹم بیٹھنے کے حوالے سے ابھی چند دن پہلے ملک کی سب سے اہم وزارت یعنی وزارت داخلہ کے وزیر نے عوامی طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ہم جو مرضی کرلیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ ’’سسٹم بیٹھ گیا ہے‘‘۔ اور یاد رہے کہ سسٹم کا بیٹھنا نہ تو الیکشن میں کسی امیدوار کے بیٹھنے کی طرح ہے اور نہ ہی بینک کے آن لائن سسٹم کے ڈاؤن ہونے جیسا ہے، بلکہ وزیر صاحب نے بڑے صاف الفاظ میں عوام کو جس سسٹم کے بیٹھنے کی نوید سنائی ہے وہ حکومت کا سسٹم ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس سسٹم کو جتنا نچوڑنا تھا نچوڑ لیا ہے اور اب کوئی بھی مائی کا لعل آجائے، بھلے وہ بیس گھنٹے بھی لگے رہے سسٹم کی اس گائے سے دودھ کا ایک قطرہ بھی نہیں نکال سکتا کیوں ہم پہلے ہی اس گائے کو دودھ دینے کے انجکشن لگا لگا کر اتنا نچوڑ چکے ہیں کہ مزید کوشش کی صورت میں گائے کا دودھ دینا تو کجا اس کا زندہ رہنا بھی کسی معجزے سے کم نہ ہوگا۔

وزیر موصوف کا بہت شکریہ کہ انہوں نے گھسے پٹے پرانے محاورے ’ملک نازک دور سے گزر رہا ہے‘ کے بجائے نئی اور جدید ٹرم استعمال کی ہے کہ ’سسٹم بیٹھ گیا ہے‘۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ معاملہ نازک دور سے بھی گزر گیا ہے، کیوں کہ نازک دور جلد یا بدیر آخر کار گزر ہی جاتا ہے لیکن اب جب تک سسٹم میں ضروری اصلاحات نہ کی جائیں تب تک یہ سسٹم عوام کو فائدہ دینے کے بجائے الٹا نقصان دے گا، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جائے گا اور اگر ہم ایسے ہی چلتے رہے تو خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان کو دستک دیں گے۔

ویسے یہ ہمارے لیے کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں۔ ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جس نے حکومت میں آنا ہوتا ہے تو وہ عوام کے سامنے اپنے آپ کو عقل کُل بتا کر پیش کرتا ہے اور حکومت سنبھالنے سے پہلے ایسے ایسے فلسفے جھاڑتا ہے کہ عام آدمی اسے اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر جب ہمارے مسائل حل کرنے کے دعوے دار جیسے تیسے حکومت ہاتھ میں لے لیتے ہیں تو وہ ہمیں یہ حقیقتیں بتانا شروع کردیتے ہیں کہ گزشتہ حکومت قومی خزانے اور قومی اقدار کا ستیاناس کرگئی ہے اور حالات اتنے خراب ہیں کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ خیر اس کے ساتھ وہ عوام کو تسلی بھی دیتے ہیں کہ آپ پریشان نہ ہوں ہم یہ سارے مسائل حل ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کو ملک میں ہونے والی ترقی کے اعداد و شمار بتانے شروع کردیے جاتے ہیں اور چھ ماہ یا سال کے بعد یہ خوش خبری بھی سنا دی جاتی ہے کہ اب ملک نازک دور سے گزر آیا ہے اور ہم نے مقبول کے بجائے ملکی مفاد کے فیصلے کرکے معیشت کو راہ راست پر ڈال دیا ہے اور ملک اب اڑان کے مرحلے پر آن پہنچا ہے۔ دوسری طرف اس وقت تک عام آدمی کی زندگی پہلے سے زیادہ اجیرن ہوچکی ہوتی ہے کیوں کہ حکومت کے کسی بھی فیصلے یا پالیسی کا عوام مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اور پھر جب حکومت کو ڈھائی سے تین سال کا عرصہ ہوجاتا ہے تو وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ ہوتا ہے، یعنی سسٹم بیٹھ جاتا ہے اور عوام لیٹ جاتے ہیں اور مقتدرہ قوتیں عوام کو نئے سسٹم اور اصلاحات کی برکات گنوانا شروع کردیتی ہیں اور لوگوں کو ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں جہاں سسٹم بیٹھنے کی بہت ساری دیگر وجوہات بھی ہیں، وہاں ایک بڑی وجہ مخلوط حکومتوں کا قیام ہے کیوں کہ ہر پارٹی کا نصب العین الگ الگ ہے جو اس کے مفادات سے وابستہ ہے۔ چھوٹی پارٹیاں حکومت سے اپنے مفادات نچوڑنا چاہتی ہیں اور تین سال کے اتحاد کے بعد ہر کسی کے پر پرزے نکل آتے ہیں اور اقتدار میں حصہ بقدر جثہ نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ مانگتے ہیں، بعض اوقات 6 سے 10 سیٹوں والی پارٹیاں کنگ تو نہیں بن سکتیں لیکن کنگ میکر ضرور بن جاتی ہیں اور 100 سیٹوں والی پارٹی ان کے رحم و کر م پر ہوتی ہے، کیوں کہ جیتنے اور ہارنے والے اتحادوں کے درمیان جیب کا مارجن اتنا کم ہوتا ہے کہ ٹانگے کی سواریوں والی پارٹیاں بھی حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ داؤ پیچ کھیلنے کی پوزیشن میں آجاتی ہیں اور سارے سسٹم کو چلتا کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے نظریات کے بھی کیا ہی کہنے۔ جو حکومت میں اور ہوتے ہیں اور اپوزیشن میں اس کے بالکل برعکس ہوجاتے ہیں۔ اور دونو ں بار ان کی ٹیم کے پاس بے شمار دلائل اور عوام کی محبت میں جینے مرنے کے دعوے ہوتے ہیں۔ یہ ڈرامے پہلے چل جاتے تھے مگر اب دنیا سمٹ کر گلوبل ولیج بن چکی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت دنیا کے ایک کونے کی خبر دوسرے کونے میں مہینوں اور دنوں میں نہیں سیکنڈز میں پہنچ جاتی ہے اور پرانا ریکارڈ انگلی کے ایک کلک پر سامنے آجاتا ہے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود جن کا اوڑھنا بچھونا اور روزگار ہی سیاست ہے وہ اس سے باز نہیں آتے اور ہر بار عوام کو کسی نئے طریقے سے چکمہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اب رہے عوام تو خود پارٹی بازی اور شخصیت پرستی کی اس دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں کہ اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتے، اور اپنی پسند کے چور ڈاکو کو تو قبول کرنے پر تیار ہوتے ہیں مگر مخالف فرشتے کو بھی برداشت نہیں کرتے۔

اس لیے آپ سسٹم بدلیں یا چہرے بدلیں، جب تک ان میں خوف خدا، ملک کو فلاحی ریاست بنانے کا خواب اور عوام کے مسائل سمجھنے اور حل کرنے کا جنون نہیں ہوگا، تب تک کچھ بھی نہیں ہو گا اور یہ سسٹم اور دو سال، تین سال بعد بیٹھتا ہی رہے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
محمد مشتاق ایم اے
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔