2025 کا ’کمال فن ایوارڈ‘ ادیب عبدالرحمٰن براہوی کو دینے کا فیصلہ

قومی ادبی ایوارڈ حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دو لاکھ روپے بطور انعامی رقم دی جائے گی


ذوالفقار بیگ August 07, 2026

اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے عمر بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں سال 2025 کا ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ معروف براہوی ادیب و شاعر عبدالرحمٰن براہوی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ پاکستان کا سب سے بڑا اور باوقار ادبی اعزاز ہے، جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جاتی ہے۔ 2025 کے اس ایوارڈ کا فیصلہ ملک کے ممتاز اور مستند اہلِ دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا۔ پینل میں منیر احمد بادینی، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈاکٹر فہمیدہ حسین، مبین مرزا، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، رانا محبوب اختر، ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر روبینہ شاہین، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، حسام حر، ثروت محی الدین، محمد قاسم نسیم اور حارث خلیق شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت معروف ادیب و دانش ور منیر احمد بادینی نے کی۔ صدرنشین اکادمی نے اپنی اور اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوی اور اہلِ بلوچستان کو اس اہم ادبی اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کی۔

اس موقع پر اجلاس کے صدر منیر احمد بادینی نے کہا کہ انہیں اس بات کی دلی مسرت ہے کہ اس سال ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ براہوی زبان کے ایک ایسے ممتاز ادیب کو دیا جا رہا ہے جس کی ادبی خدمات نہ صرف براہوی زبان بلکہ پاکستان کے مجموعی ادبی منظرنامے کا بھی قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے قومی اور علاقائی زبانوں کے ادب کو یکساں اہمیت دے کر ادبی تنوع اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا ہے، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔

منیر احمد بادینی نے اکادمی ادبیات پاکستان کی مجموعی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق، جب سے پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ادارے کی سربراہی سنبھالی ہے، بلوچستان سے آنے والے اہلِ قلم کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرپرسن اور ان کی پوری ٹیم نے ہمیشہ پاکستان کی تمام زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کی عزت افزائی کی ہے اور ملکی زبانوں کے فروغ کےلیے عملی اقدامات کیے ہیں۔  انہوں نے اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ ایوارڈز کے انتخاب میں ادبی معیار، شفافیت اور غیر جانب داری کو مقدم رکھا گیا۔ 

چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بتایا کہ اردو نثر (تخلیقی ادب، فکشن) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ اخلاق احمد کی کتاب ’’بھید بھرے‘‘ کو دیا گیا (منصفین: مبین مرزا، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، محمد حمید شاہد)۔ اردو نثر (تخلیقی ادب، نان فکشن) کے لیے مشتاق احمد یوسفی ایوارڈ محمد اظہار الحق کی کتاب ’’بکھری ہے میری داستاں‘‘ کو دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر ناصر عباس نیّر، محمد حمید شاہد، عرفان جاوید)۔ اردو نثر (تحقیقی و تنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ساجد صدیق نظامی کی کتاب ’’تحولاتِ نثرِ اردو‘‘ کو دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر امجد طفیل)۔

اردو شاعری کے لیے ’’علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’حافظہ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: شعیب بن عزیز، نصیر احمد ناصر، سرور جاوید)۔ پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ ظہیر وٹو کی کتاب ’’کانہہ دے بلوں‘‘ جبکہ پنجابی نثر کے لیے ’’افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘‘ سلیم شہزاد کی کتاب ’’ورلاپ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: غلام حسین ساجد، رائے محمد خان ناصر، ڈاکٹر نبیلہ رحمان)۔ 

سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبداللطیف بھٹائی ایوارڈ‘‘ انور کاکا کی کتاب ’’پيشانيءَ سان لکيل نظم‘‘ جبکہ سندھی نثر کے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ مشترکہ طور پر اکبر سومرو کی کتاب ’’مراڪش جي گهٽي‘‘ اور ڈاکٹر ریاضت برڑو کی کتاب ’’سنڌي ٻوليءَ ۾ لغت نويسي جو تحقيقي مطالعو‘‘ کو دیا گیا (منصفین: مدد علی سندھی، ڈاکٹر شبنم گل، تاج جویو)۔ پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ مشترکہ طور پر جمشید علی جمشید کی کتاب ’’مخونہ کتابونہ‘‘ اور ڈاکٹر کلیم شنواری کی کتاب ’’سخن کدہ‘‘ جبکہ پشتو نثر کے لیے ’’محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ‘‘ گل محمد بیتاب کی کتاب ’’د اباسین پہ غاڑہ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: فاروق سرور، اظہار اللہ اظہار، کلثوم زیب)۔

بلوچی شاعری کے لیے ’’مست توکلی ایوارڈ‘‘ منیر مومن کی کتاب ’’واب شہر انت نہ بوتگنت مانا‘‘ جبکہ بلوچی نثر کے لیے ’’سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر فضل خالق کی کتاب ’’مر، اوتاک‘‘ کو دیا گیا (منصفین: ڈاکٹر ضیاء الرحمن بلوچ، ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ، محمد یوسف گچکی)۔سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘ شاہد ماکلی کی کتاب ’’اجوک‘‘ جبکہ سرائیکی نثر کے لیے ’’ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ‘‘ رفعت عباس کی کتاب ’’مسخریاں دا میلہ‘‘ کو دیا گیا (منصفین: سلیم شہزاد، مسرت کلانچوی، رانا محبوب اختر)۔ 

براہوی شاعری کےلیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ‘‘ سائر سریابی کی کتاب ’’گٹکار‘‘ جبکہ براہوی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ شہزاد غنی کی کتاب ’’جادوئیا جنت روس‘‘ کو دیا گیا (منصفین: طاہرہ احساس جتک، افضل مراد، وحید زہیر)۔

ہندکو شاعری کے لیے ’’سائیں احمد علی ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’خالی آسمان‘‘ جبکہ ہندکو نثر کے لیے ’’خاطر غزنوی ایوارڈ‘‘ پروفیسر ملک ناصر داؤد کی کتاب ’’علامہ محمد اقبال‘‘ کو دیا گیا (منصفین: حسام حر، بشریٰ فرخ، محمد حنیف)۔ انگریزی نثر کے لیے ’’پطرس بخاری ایوارڈ‘‘ محمد اطہر طاہر کی کتاب "Where Cicadas Sing" کو دیا گیا (منصفین: محمد سفیر اعوان، ارشد وحید، محمد افسر ساجد)۔ ترجمے کے شعبے میں ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘ انعام ندیم کی کتاب ’’غزہ سے ایک اور خط‘‘ کو دیا گیا (منصفین: سلمان باسط، ہما انور، ظفر (زیف) سید)۔

قومی ادبی ایوارڈ حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دو لاکھ روپے بطور انعامی رقم دی جائے گی۔