پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی موڑ پر کھڑا ہے جہاں مہنگائی، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ، غیر ملکی قرضوں کا انبار، زرمبادلہ کے محدود ذخائر اور کمزور اقتصادی حکمرانی ایک دوسرے سے جڑ کر قومی معیشت کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بحران محض قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ اس نے عام شہری کی قوت خرید، کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار، سماجی تحفظ اور ریاست پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ آج سوال صرف یہ نہیں کہ مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے زرعی وسائل، معدنی ذخائر، نوجوان افرادی قوت اور اہم جغرافیائی محل ِ وقوع رکھنے والا ملک بار بار معاشی بحرانوں اور بیرونی مالیاتی امداد کا محتاج کیوں بن جاتا ہے۔
ملک گزشتہ کئی دہائیوں سے بیرونی قرضوں پر انحصار کرتا آ رہا ہے۔ آزادی کے بعد محدود مالی وسائل، کمزور صنعتی بنیاد اور درآمدات پر بڑھتے ہوئے انحصار نے بیرونی قرضوں کی ضرورت پیدا کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ضرورت ایک مستقل معاشی حکمت ِ عملی کی صورت اختیار کرتی گئی۔ ہر نئی حکومت نے مالیاتی خسارے، ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئے قرض حاصل کیے، جب کہ معیشت کو خود کفیل بنانے والی بنیادی اصلاحات اکثر سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوتی رہیں۔ نتیجتاً آج قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے اصل زر اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے لیے ایک اہم مگر متنازع مالیاتی شراکت دار بن چکا ہے۔ آئی ایم ایف کا بنیادی مقصد مالی بحران کے شکار ممالک کو وقتی مالی سہارا فراہم کرنا اور انھیں ایسی اصلاحات کی طرف لے جانا ہے جو طویل مدت میں معاشی استحکام پیدا کریں، تاہم ان قرضوں کے ساتھ منسلک شرائط، جن میں مالیاتی نظم و ضبط، سبسڈیز میں کمی، ٹیکس اصلاحات، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور شرحِ مبادلہ میں لچک شامل ہوتی ہے، عوام کے لیے فوری معاشی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
تاہم پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کی تمام ذمے داری آئی ایم ایف یا بیرونی قرضوں پر عائد کرنا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہوگا۔ داخلی سطح پر پالیسیوں کا عدم تسلسل، کمزور ادارہ جاتی نظم، محدود برآمدی صلاحیت، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ، ٹیکس وصولی کا ناقص نظام، غیر دستاویزی معیشت اور سیاسی عدم استحکام بھی اس بحران کے بنیادی عوامل ہیں۔ پاکستان میں قیمتوں کے اضافے کی ایک بڑی وجہ داخلی انتظامی کمزوریاں بھی ہیں۔ طلب و رسد میں عدم توازن، ناقص سپلائی چین، درآمدی انحصار، روپے کی قدر میں کمی اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری نے مہنگائی کو محض ایک معاشی رجحان نہیں بلکہ ایک مستقل سماجی بحران میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے اثرات سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کی شدت کو صرف عالمی معاشی حالات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ داخلی سطح پر منڈی کے ڈھانچے میں موجود خرابیاں بھی اس بحران کو بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، مصنوعی قلت اور چند طاقتور کاروباری گروہوں کی اجارہ داری نے آزاد منڈی کے اصولوں کو کمزور کر دیا ہے۔ پاکستان کا ٹیکس نظام بھی معاشی عدم مساوات کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ملکی محصولات کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جن کا بوجھ امیر اور غریب دونوں پر یکساں شرح سے پڑتا ہے، حالانکہ ان کی مالی استطاعت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اس کے برعکس براہِ راست ٹیکسوں کی بنیاد محدود ہے اور معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
پاکستان میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ بڑھایا جاتا ہے، جب کہ حکومتی سطح پر غیر ترقیاتی اخراجات، شاہانہ پروٹوکول، غیر ضروری سرکاری مراعات اور کمزور مالی نظم و ضبط بدستور برقرار رہتے ہیں، اگر ریاست عوام سے قربانی کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی مالی شفافیت، احتساب اور سادگی کی عملی مثال قائم کرے۔حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا بذات خود ناکامی کی علامت نہیں، بلکہ مستقل طور پر قرضوں پر انحصار کرنا اصل مسئلہ ہے۔
کوئی بھی ملک صرف قرض لے کر خوشحال نہیں بن سکتا، دیرپا ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب معیشت کی بنیاد پیداوار، برآمدات، جدت، شفاف حکمرانی اور مالی نظم و ضبط پر استوار ہو، اگر پاکستان نے اپنے معاشی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات نہ کیں تو مہنگائی، قرضوں اور مالیاتی بحرانوں کا یہ سلسلہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا۔ عوام کو ترقی کے حقیقی ثمرات پہنچائے جائیں تو پاکستان نہ صرف قرضوں کے دائمی چکر سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، خودمختار اور پائیدار معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔