نوجوان صبح کی نماز ادا کرتے ہیں، پھر ناشتہ کرنے کے بعد پاکستان کے ہر شہر میں ہزاروں نوجوان گھروں سے نکلتے ہیں، کسی کے ہاتھ میں انجینئرنگ کی ڈگری ہوتی ہے، کسی کے پاس ایم اے یا ایم ایس سی کی سند، کوئی ڈپلومہ ہولڈر ہوتا ہے یا کوئی برسوں کا تجربہ کار ہنرمند مستری، سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے جس کے لیے وہ صبح سے شام تک مختلف دفاتر، فیکٹریز، اسمال کاٹیجز، تعمیراتی اداروں، بلڈرز کے در پر آتے جاتے رہتے ہیں اور پھر شام ڈھلتے ہی ان کے قدم واپس اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں جہاں ماں کی نظریں سوال کرتی ہیں، باپ خاموش رہتا ہے، چھوٹے بہن بھائی یاس و ناامیدی کے ساتھ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اس کا جواب آج پھر کل کی طرح ہی ہوتا ہے ’’اماں! آج بھی بات نہ بن سکی۔‘‘
بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ برس کے بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو کر مجموعی تعداد 59 لاکھ ہو گئی ہے اور اب بے روزگاری کی شرح 7.1 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ اس بے روزگاری سے نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزگار کی رفتار افرادی قوت میں ہونے والے اضافے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ بظاہر یہ ایک معاشی حملہ ہے مگر اس کے پس منظر میں لاکھوں نوجوانوں کی امیدیں، خاندانوں کی پریشانیاں اور ایک قوم کے مستقبل کی دھندلی ہوتی تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔
59 لاکھ گزشتہ برس کے اعداد و شمار ہیں، فروری 26 سے امریکا، ایران کشیدگی نے تو دنیا بھر کی بے روزگاری کی شرح کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان جس نے جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پٹرول کی قیمت کو آسمان پر چڑھا دیا تھا، جس کے باعث صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع تیزی سے نیچے گرنے لگے۔ اس لیے امید ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ اب یہ تعداد مزید بڑھ چکی ہے، کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان اپنی تعلیم کو جب اپنے طور پر مکمل سمجھتے ہیں یا ان کی مجبوری ہوتی ہے کوئی میٹرک سے پہلے ہی بے روزگاروں کی قطار میں آ جاتا ہے، کوئی میٹرک کے بعد، کوئی انٹرمیڈیٹ کر لینے کے بعد کوچۂ بے روزگاراں کا رخ کرتا ہے جب کہ حکومت، ملکی صنعت و معیشت، کاروباری شعبہ، شعبہ تعمیرات اور دیگر نجی شعبے اتنی تیزی سے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر پاتے جس سے بے روزگاروں کی قطار لمبی سے لمبی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہ ایک اقتصادی مسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ انتہائی سخت ترین سماجی مسئلہ بھی بن چکا ہے جس سے معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے جب نوجوان کی جیب خالی ہو تو اس کی قوت خرید کا نام و نشان نہیں ہوتا، جس سے مارکیٹ کی رونق ہی غائب ہو جاتی ہے، صنعتوں کو اپنی پیداوار میں کمی لانا پڑتی ہے جس سے حکومت کو ٹیکس بھی کم ملتا ہے۔
سماجی مسئلہ بھی گمبھیر ہوتا چلا جا رہا ہے، نوجوانوں کی شادیاں رک جاتی ہیں، ان کی بہنوں کے رشتے ناتے سست پڑ جاتے ہیں۔ دوسرا انتہائی خطرناک ترین مسئلہ گزشتہ تین یا چار دہائیوں سے پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔ دن بھر میں ہزاروں موبائل فون چھینے جا رہے ہیں، سیکڑوں موٹرسائیکلیں چھینی جا رہی ہیں، اس قسم کا جرم کرنے والے 99 فی صد نوجوان بے روزگار ہی ہوتے ہیں۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے جن قوموں نے اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی تگ و دو کی انھوں نے ہی ترقی کی داستانیں رقم کی ہیں۔
دوسری عالمی جنگ ختم ہوتے ہی ایٹم بم سے شکست خوردہ جاپان نے اپنے نوجوانوں کو صنعت و ٹیکنالوجی اور ہنر سے جوڑا۔ جنوبی کوریا نے طالب علموں کے لیے تعلیم اور برآمدات پر سرمایہ کاری کی طرف توجہ دی، سنگاپور نے بندرگاہ تجارت اور اپنے طالب علموں کو اپنی طاقت بنایا۔ آج اس طرح کے ممالک ہی عالمی معیشت کے روشن ستارے ہیں اور ہم نے اس سلسلے میں کیا کیا؟ ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر اور جو بچے اسکول میں رہ گئے وہ ڈنڈے کھا کر اسکول سے باہر ہو رہے ہیں۔ بہت سے اساتذہ کی مار سے گھبرا کر گھر سے بھی بھاگ رہے ہیں۔
اکثر بڑے شہروں میں اس طرح کے گھر سے بھاگے ہوئے لڑکے سڑکوں پر رُل رہے ہوتے ہیں۔ ان میں بہت سے تو مختلف اقسام کے ’’ڈان‘‘ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور جلد ہی مجرم بن جاتے ہیں۔حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو آئی ٹی پروگرام مفت سکھانے کا انتظام کیا ہے۔ یہاں پر تو لاکھوں یا نصف کروڑ سے زائد نوجوان آئی ٹی کی تربیت لینا چاہتے ہیں جب کہ حکومت صرف چند سو افراد کو مفت ٹریننگ دے کر سمجھتی ہے کہ بڑا تیر مار لیا ہے۔
حکومت لاکھوں کی تعداد میں نوجوانوں کو دیار غیر میں روزگار دلانے کے لیے ان کی ہر طرح کی مدد کرے۔ کوئی نوجوان کسی ملک بھی چلا جائے اسے معلوم ہو کہ پاکستانی سفارتخانہ فلاں جگہ پر ہے، وہاں جا کر اطلاع دے۔ سفارت خانہ فوری طور پر اس کی عارضی رہائش اور مستقل روزگار کا بندوبست کرے۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ سفارت خانے تو پاکستانیوں کے لیے بند ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس بے روزگاروں کی تعداد 59 لاکھ تھی بہت جلد کروڑ سے بھی اوپر چلی جائے گی۔ حکومت اس مسئلے کو انتہائی ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ خاص طور پر بیرون ملک جانے والے بے بس و لاچار اور بے روزگار سڑکوں پر دن رات بسر کرنے والے ان دیار غیر کے پاکستانیوں کی مدد کے لیے ہر دم پاکستانی سفارت خانے تیار رہیں۔