فراڈ

 ہم خود کو زندہ قوم کہتے ہیں مگر درحقیقت ہم زندہ نہیں ہیں



لفظ فراڈ کے معنی دھوکہ دہی، دغا بازی اور فریب کے ہیں ،کسی کو غلط بات بتانا یا یقین دلانا اور چالاکی سے نقصان پہنچانا فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔ہماری روزمرہ زندگی میں فراڈ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ معاشرے میں فراڈ کا عنصر آج کل ایک عام سی بات بن چکا ہے، اگر معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اپنے مفادات کی خاطر ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ فراڈ کر جاتا ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے سیاست دان بھی اکثر و بیشتر قوم کے ساتھ فراڈ کر کے چلے جاتے ہیں۔ عوام کی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ فراڈ ہو جاتا ہے۔ درحقیقت فراڈ کا یہ سلسلہ اقوام عالم میں بھی عام سی بات ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی فرد کے ساتھ کوئی نہ کوئی فراڈ ہو جاتا ہے۔

فراڈ کی ایک قسم سائبر کرائم ڈیجیٹل جرم بھی ہے ،اسے اردو میں انٹرنیٹ کا جرم، کمپیوٹر کی چوری یا سائبر جرم کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے جرائم میں کمپیوٹر،موبائل فون یا کسی نیٹ ورک کا استعمال کر کے قانون کے خلاف کام کیے جاتے ہیں۔ سائبر کرائم کی چار اقسام ہیں۔

1۔ آن لائن فراڈ، انٹرنیٹ یا فون کے ذریعے لوگوں سے پیسے یا معلومات لوٹنا ۔

2۔ بینکنگ، کسی کمپیوٹر یا اکاؤنٹ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا۔

3۔ آن لائن ہراسانی، سوشل میڈیا پر کسی کو تنگ کرنا یا دھمکیاں دینا ۔

4۔ ڈیٹا چوری ،کسی کی ذاتی یا خفیہ معلومات چرا کر غلط استعمال کرنا۔

وطن عزیز میں اس قسم کے تمام جرائم کی روک تھام کا کام ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ پیکا ایکٹ 2016 کے تحت کرتا ہے۔آج کل سائبر کرائم ایک عام سی بات ہے کسی نہ کسی ذریعے سے عام شہری اس کا شکار ہو جاتا ہے ۔ فراڈیوں کا یہ عالم ہے کہ وہ آپ کا واٹس ایپ فیس بک میسنجر بھی ہیک کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ دیکھا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے نام پر لوگ فراڈ کر جاتے ہیں اور ہمارے نادان عوام اس کا با آسانی شکار ہو جاتے ہیں۔

راقم جو کالم لکھ رہا ہے وہ سچ ہے، درحقیقت سائبر کرائم کا شکار میں خود ہو گیا ہوں 27 جولائی 2026 کی شام تقریبا ساڑھے سات بجے مجھے ایک میسج سندھ پولیس کی طرف سے موصول ہوا ،جس کے مطابق میری گاڑی کی حد رفتار سے زیادہ خلاف ورزی پر مجھے چالان بھیجا گیا ہے اور ایک لنک مجھ سے شیئر کیا گیا۔

اس لنک پر نادانی سے میں نے اپنے بینک کا ڈیبٹ کارڈ نمبر اور او پی ٹی ڈال دیا میسج میں جو کہ سندھ پولیس ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے آیا تھا ،درحقیقت ایک ڈیجیٹل فراڈ تھا جس کی بدولت میرے اکاؤنٹ سے تقریبا ایک لاکھ 47 ہزار 207 روپے نکل گئے، بعد میں مجھے میسج آیا کہ یہ رقم میرے اکاؤنٹ سے نکل چکی ہے پھر میں نے فورا بینک جس میں میرا اکاؤنٹ ہے۔

ان کی ہیلپ لائن سے رابطہ کیا انھوں نے فوری طور پر میرے تمام ڈیبٹ کارڈ بلاک کر دیے اور مجھے بتایا گیا کہ تین ماہ کے عرصے میں آپ کا یہ مسئلہ حل کیا جائے گا اور متعلقہ رقم آپ کے اکاؤنٹ میں ریورس کی جائے گی۔ میری متعلقہ بینک سے یہ درخواست ہے کہ وہ یہ جو فراڈ میرے ساتھ ہوا ہے اس کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایکشن لیں، آج یہ فراڈ میرے ساتھ ہوا ہے کل کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

لہٰذا میں حکومت وقت سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں کہ سائبر کرائم کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ میری عوام سے بھی یہ پرزور اپیل ہے کہ وہ بھی اس قسم کی لنکس کا خیال رکھیں اور اپنی معلومات شیئر نہ کریں ۔

میری بینکنگ محتسب سے بھی یہ درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایکشن لیں کیونکہ ان کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بینک صارفین کی شکایت کا ازالہ کریں اور گاہکوں اور بینک کے درمیان تنازعات کو حل کریں۔ بینک والوں نے تو مجھے امید دلائی ہے کہ میری رقم ریورس ہو جائے گی۔

اس سلسلے میں، میں نے ایف آئی اے سائبر کرائم میں بھی آن لائن شکایت درج کرائی ہے، میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے افسران سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں میری مدد کریں چونکہ میرے کالم کا عنوان ’’فراڈ‘‘ ہے، لہٰذا معاشرے کے دوسرے عناصر پر بھی اس پر بات کرنی چاہیے۔

ہم خود کو زندہ قوم کہتے ہیں مگر درحقیقت ہم زندہ نہیں ہیں ،معذرت کے ساتھ مجھے کہنے دیجیے، دودھ میں پانی ملانا ایکسپائر ادویات کھانے پینے کی دیگر چیزیں، بکرے کے گوشت کے نام پر نہ جانے کس قسم کا گوشت کھلانا یہ سب بھی فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اصلاح کریں پھر دوسروں پر تنقید کریں۔ راقم الحروف یہ نہیں کہتا کہ ہمارے ہر دل عزیز سیاست دان عوام سے مخلص ہیں لیکن عوام کیا اپنے آپ سے مخلص ہیں ؟کیا عام آدمی دوسرے فرد کے ساتھ مخلص ہے، روزمرہ زندگی میں کیا ہم ایک دوسرے کو دھوکہ نہیں دیتے، فراڈ نہیں کرتے ۔

پھل یا سبزی لینے جائیں تو دکان دار کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ گاہک غیر معیاری ا ور گندی سبزی یا پھل بھی خرید کر لے جائے۔وہ گاہک کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔

آج بحیثیت قوم ہم ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، فراڈ، دھوکہ، جھوٹ کسی بھی شکل میں ہو وہ قابل قبول نہیں ہوتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اندر داخلی تبدیلی پیدا کریں، داخلی تبدیلی ہوگی تو خارجی تبدیلی خود بخود آجائے گی، کاروبار تجارت بھی جھوٹ اور فراڈ پر چل رہی ہے، اجتماعی طور پر ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے ۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں۔ اقوام عالم میں معذرت کے ساتھ مجھے کہنے دیجیے پاکستان کو معاشی لحاظ سے وہ مقام حاصل نہیں جو دوسرے ممالک کو حاصل ہے، اس کی ایک وجہ دھوکہ دہی ہے۔

معاشی ناکامیوں کی وجہ دو چار اور عوامل بھی ہیں جن میں مہنگی بجلی، گیس اور لیبر شامل ہے اس کے برعکس سفارتی محاذ میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے جس کی بدولت سفارتی محاذ پر پاکستان کو کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں ۔