فرض، وفا اور قربانی کی داستان

پولیس کی وردی محض ایک لباس نہیں بلکہ ایک مقدس ذمے داری ہے


نبیل احمد August 09, 2026

تاریخ کے اوراق میں کچھ نام صرف لکھے نہیں جاتے بلکہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں، کچھ لوگ اپنی زندگی اپنے لیے گزارتے ہیں، جب کہ کچھ عظیم جوان ایسے ہوتے ہیں جو اپنی خوشیاں، اپنے خواب اور آخرکار اپنی جان تک قوم کے امن، عوام کے تحفظ اور قانون کی سربلندی کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔ یہی وہ عظیم سپوت ہیں جنھیں قوم اپنے محسن، تاریخ اپنے ہیرو اور آنے والی نسلیں اپنی مشعل راہ سمجھتی ہیں۔

4 اگست، یومِ شہدائے پولیس، صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک احساس، ایک عہد اور ایک یاد دہانی ہے کہ آج ہمارے گھروں میں جو سکون ہے، بازاروں میں جو رونق ہے، سڑکوں پر جو تحفظ کا احساس ہے، اس کے پیچھے وردی میں ملبوس ان محافظوں کی قربانیاں شامل ہیں جنھوں نے اپنے آج کو ہمارے محفوظ کل کے نام کر دیا۔امن کبھی مفت میں حاصل نہیں ہوتا،اس کے پیچھے کسی محافظ کا لہو ضرور ہوتا ہے۔

پولیس کی وردی محض ایک لباس نہیں بلکہ ایک مقدس ذمے داری ہے۔ یہ وہ عہد ہے جس میں ایک افسر یا جوان گھر سے نکلتے وقت یہ نہیں جانتا کہ وہ شام کو اپنے اہل خانہ کے درمیان واپس لوٹے گا یا نہیں، لیکن وہ یہ ضرور جانتا ہے کہ کسی بے گناہ کی جان بچانی ہے، کسی مظلوم کو انصاف دلانا ہے اور قانون کی بالادستی قائم رکھنی ہے۔

سندھ پولیس کی تاریخ قربانی، بہادری اور فرض شناسی کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں ہوں، کچے کے دشوار گزار علاقوں میں امن کا قیام ہو یا عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمے داری، سندھ پولیس کے افسران اور جوان ہمیشہ صف اول میں کھڑے رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے بہادر سپوت ایسے ہیں جنھوں نے اپنے خون سے امن کی بنیاد مضبوط کی۔ انھوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک سچا محافظ اپنی جان سے زیادہ اپنے فرض کو اہمیت دیتا ہے۔

شہید کی قربانی صرف ایک خاندان کا غم نہیں ہوتی،یہ پوری قوم کا قرض بن جاتی ہے ۔

شہادت کا مقام عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں۔

’’جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، انھیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں اور ان کے رب کے پاس انھیں رزق دیا جاتا ہے۔ (سورۃ آلِ عمران: 169)

یہی یقین شہداء کے خاندانوں کو حوصلہ دیتا ہے اور یہی جذبہ پولیس کے ہر جوان کو آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔

یومِ شہدائے پولیس ہمیں صرف اپنے شہداء کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ ان عظیم خاندانوں کو سلام پیش کرنے کا بھی دن ہے جنھوں نے اپنے بیٹے، بھائی، شوہر اور والد وطن کی سلامتی کے لیے قربان کیے۔ ان ماؤں کا صبر، ان بیواؤں کی ہمت اور ان بچوں کی محرومی پوری قوم کے احترام کی مستحق ہے۔

شہداء کے ساتھ ساتھ ہمارے غازیان پولیس بھی ہمارے ہیروز ہیں، وہ بہادر جوان جو دورانِ ڈیوٹی زخمی ہوئے، مشکلات کا سامنا کیا، مگر ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ ان کی استقامت ہمیں سکھاتی ہے کہ خدمت صرف میدان میں کھڑے رہنے کا نام نہیں بلکہ ہر حال میں اپنے فرض سے وفادار رہنے کا نام ہے۔ کچھ لوگ خون دے کر تاریخ لکھتے ہیں اور کچھ لوگ زخم سہہ کر اس تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں۔

آج سندھ پولیس جدید تربیت، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ عوامی خدمت کے سفر پر گامزن ہے، لیکن اس سفر کی بنیاد انھی شہداء کی قربانیوں پر قائم ہے۔ ان کا نام ہر وردی پہننے والے افسر اور جوان کے لیے فخر، حوصلے اور ذمے داری کی علامت ہے۔ہم عہد کرتے ہیں کہ شہداء کی قربانیوں کو صرف یادگار تقریبات تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اپنے کردار، اپنی دیانت اور اپنی خدمت سے ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ قانون کی بالادستی، عوام کے احترام اور امن کے قیام کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔یہ وطن ان بہادر سپوتوں کا مقروض ہے، جنھوں نے ہمیں امن دیا اور خود ہمیشہ کے لیے یاد بن گئے۔

لوگ پولیس کو برا بھلا کہتے ہیں‘ان کی خامیاں بیان کرتے ہیںاور ان کو اچھا نہیں سمجھتے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی شخص کو کوئی مشکل پیش آتی ہے یا کسی کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے یا چوری ڈکیتی کی کوئی واردات ہوتی ہے تو سب سے پہلے پولیس ہی کو طلب کیا جاتا ہے۔

آخر ایسا کیوں؟صرف اس لیے کہ ہر شخص کو معلوم ہے کہ پولیس ہی وہ واحدادارہ ہے جو اس مشکل گھڑی میںہماری مدد کر سکتا ہے۔ یہ پولیس اہلکار ہی ہیں جو اپنی جانوں پر کھیل کر عوام کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ پولیس کا یہی وہ کردار ہے جو عوام کو یقین دلاتا ہے کہ ان کی جان اور مال محفوظ ہیں۔یہی وہ اعتماد ہے جس کے باعث شہری رات کو پرسکون نیند سوتے ہیں۔ چور اور ڈاکو بھی پولیس سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ پکڑے گئے تو جیل ان کی قسمت ہو گی۔پولیس اہلکا ر اپنی جانوں پر کھیل کر عوام کا تحفظ کرتے ہیں۔

آج ہم سندھ پولیس کے تمام شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہیں، ان کے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور تمام غازیانِ پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے فرض کی راہ میں عظیم قربانیاں دیں۔

شہداء کبھی رخصت نہیں ہوتے،وہ ہر اس قدم میں زندہ رہتے ہیں جو انصاف کے لیے اٹھتا ہے، وہ ہر اس وردی میں زندہ رہتے ہیں جو خدمت کو اپنا فخر سمجھتی ہے اور وہ ہر اس دل میں زندہ رہتے ہیں جو وطن سے محبت کرتا ہے۔