یہ نوجوان

معاشرے میں پہلے ہی ایسے پیرا سائٹس موجود ہیں، جو نظام پر حملے کرتے ہیں


شہلا اعجاز August 09, 2026

میڈیکل کالج میں داخلے کے سلسلے میں ہونے والے ٹیسٹ پرچہ لیک ہونے والے مسئلے نے سر اٹھایا تو ایک ہنگامہ برپا ہوگا۔ این ای ای ٹی یو جی دراصل یہ ایک انٹرنس ٹیسٹ ہے جو میڈیکل کے مختلف کورسز میں داخلے کے لیے کروایا جاتا ہے۔

بھارت میں ہر سال لاکھوں طلبا و طالبات حصہ لیتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ ہر نوجوان طالب علم کے لیے بہت اہم ہے اس میں کامیابی ان کے مستقبل کی ضمانت نظر آتی ہے، کیا وہ سب واقعی کامیاب قرار پا کر ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں؟

پاکستان ہو یا بھارت طالب علموں کے لیے پروفیشنل ایجوکیشن کا مرحلہ دشوار کن ہے ،اس پر اگر دھاندلی کا لیبل بھی لگ جائے تو بچوں کے دل مرجھا جاتے ہیں۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب نوجوان اپنے دل میں مستقبل کے حوالے سے کئی پلان لیے ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں خواب بنتی ہیں وہ اپنا بہترین پیش کرکے بہترین حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، کرپشن اور دیگر کئی مسائل ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

سولہ مئی 2026 کو ایک نوجوان اس دوغلے نظام کے تحت ایک طنز کو باقاعدہ سیاسی تحریک کا نام دے دیتا ہے یعنی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ ابھی جیت دیپکے کوئی نیا شخص نہ تھا وہ پہلے بھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کر چکا تھا، لہٰذا اسے اس ایشو کو ابھارنے اور بنانے میں دقت نہ ہوئی اور کاکروچ پھیلتے گئے۔

ہر ایک رتبے کا اپنا مقام ہوتا ہے جو اگر بے احتیاطی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اس کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے جو بھارت کے جسٹس سوریا کانت کے ساتھ ہوا، جنھوں نے عدالت عظمیٰ کے ایک کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں بھارت کے بے روزگار نوجوانوں کو مبینہ طور پر ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی تھی۔ بات کہاں سے کہاں تک پہنچی۔ ایک وکیل کو سینئر ایڈوکیٹ کا درجہ دینے کی استدعا تھی جسے سوریا کانت کی بنچ نے قابل اعتنا نہ سمجھا۔ ان کے طنزیہ جملے تاریخ میں ثبت ہو گئے۔

’’معاشرے میں پہلے ہی ایسے پیرا سائٹس موجود ہیں، جو نظام پر حملے کرتے ہیں اور آپ بھی ان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔‘‘

اسی پر بس نہ کیا اور سخت ریمارکس میں لاکھوں دلوں کو کچلتے ہوئے کہا ’’کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں، جنھیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ۔ ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا، آر ٹی آئی کارکن یا دوسرے کارکن بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملے ہوتے ہیں۔‘‘

ان کا اس وقت اس نوجوان وکیل کے لیے جو بھی خیال ہو اور جتنا بھی ان کے دل میں اس کے لیے ابھرا تھا جو انھوں نے اپنے منہ سے ادا کرکے اپنا دل مطمئن کیا کہ وہ اس رتبے پر ہیں کہ بے عزتی کر سکتے ہیں ۔

ان کو سینئر ہونے کے حق کے تحت ایسا کچھ کہہ دینا برا نہیں، لیکن برا بن گیا اور لوگوں کے اعتراضات، تبصرے شروع ہو گئے جو بھارت میں ایسے شروع ہوئے کہ طعنے، تشنے اور تبصروں تلے ایک سیاسی پارٹی جنم لیتی گئی اور طلبا و طالبات کے ساتھ ان کے والدین، رفقا، رشتے دار، یہاں تک کہ سیاسی سے لے کر فلمی دنیا تک کے اشخاص ان کے حق میں بولنے لگے، بھوک ہڑتال ہوئی اور ملک بھر میں مودی کے خلاف بینڈ پوری قوت سے بجنا ہی چاہتا تھا کہ حکومت ہوش میں آئی اور بات جو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان تک جا رہی تھی اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ان کی تعلیمی پالیسیوں اور فرسودہ روایات نے کرپشن اور طلبا کے لیے مسائل کھڑے کیے تھے۔

اب جو ٹرول سپریم کورٹ کی بینچ سے شروع ہوا تھا، اسے دھرمیندر پردھان کی گردن میں ڈال دیا گیا، انھیں استعفیٰ دینا پڑا، گو اس میں کوئی معافی تلافی نہیں کی گئی تھی لیکن نوجوان نسل جیت گئی، ایک سیاسی جماعت کے بینر تلے یہ کامیابی ثبت ہو گئی۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ دو مہینوں جیسی قلیل مدت میں جنم لینے والی پارٹی کے پیچھے اصل حقیقت کیا تھی اور کن کو ہانکا گیا تھا؟ تو واضح صورت نظر آتی ہے کہ ہر بڑی طاقت کا ایک انت ہوتا ہے، چاہے مظاہرین ’’جین زی‘‘ہو یا غریب مزدور کسان۔

2024 میں اسی طرح کے مظاہرے، جلاؤ گھیراؤ کا سیلاب امڈا تھا اور مظاہرین تھے نوجوان جو سرکاری نوکریوں کے سلسلے میں اپنا غم و غصہ نکال رہے تھے ،بات پھر وہی غصہ ابھارنے والے اور حقیر ہونے کا احساس دلانے والے جملے تھے۔

حسینہ واجد کی حکومت کے لیے چند جملے ٹرننگ پوائنٹ بن گئے اور انھیں تھک کر ہار ماننی ہی پڑی تھی۔ نوجوان تو اپنے حق کے لیے لڑ رہے تھے لیکن حسینہ واجد نے کوٹہ نظام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو 1971 کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے والے رضاکاروں سے تشبیہ دی تھی جو ان کے جذبات کو جھنجھوڑ گئے، ان کا کہنا تھا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔

حسینہ واجد کے بیان کی بعد میں متعدد حکومتی وزرا نے بڑی وضاحتیں دیں لیکن بات ان کی پہنچ سے دور ہوتی گئی، یہ زور بڑھتے بڑھتے پورے بنگلہ دیش میں پھیلتا گیا اور دنیا بھر میں نوجوان طلبا کا مظاہرہ توجہ سے دیکھا جانے لگا جو بڑے منظم تھے۔

26 سالہ نوجوان ناہید اسلام ویسے تو سوشیالوجی کا طالب علم تھا لیکن اس تحریک کا مرکزی کردار وہی تھے، جو پہلے ہی عوامی خدمات انجام دیتے رہتے تھے، افسوس ناک بات وہ اموات ہیں جو اس پر تشدد طریقے سے اختیار کی جانی والی ترکیبیں تھیں جسے طالب علموں کے خلاف استعمال کیا گیا، اس طرح بجھنے والے اور بھڑک اٹھے تھے انھوں نے کھل کر حسینہ واجد کے خلاف پکار بلند کی اور ان کا احتجاج رنگ لایا اور یوں ایک اقتدار نبٹ گیا۔

سولہ سترہ سال کے نرم و حساس خیالات کے مالک پیارے سے بچے کب بڑی سوچ رکھنے والے انسان بن جاتے ہیں، والدین اور اساتذہ کو پتا ہی نہیں چلتا۔ والدین کا تو ان سے خونی رشتہ ہوتا ہے ۔ پرخلوص اساتذہ جو واقعی اپنے بچوں کی طرح انھیں چاہتے ہیں اور ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اگر یہی بچے آگے بڑھ کر سخت اور جارحانہ انداز اختیار کر لیں تو اس کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ یہ قوموں کے معیار ہیں جنھیں سمجھنا اور ان کو سمجھانا وہ بھی مثبت انداز میں بڑی ذمے داری کا کام ہے کہ ذرا جو زبان پھسلی اور ساری عمر کی ریاضت ہاتھ سے گئی۔

ساری طاقت کا نشہ اپنی اولاد کے سامنے صفر ہو جاتا ہے، یہ نوجوان براہ راست نہیں تو کسی نہ کسی طرح سے بڑوں کے سامنے اپنی اولاد کی مانند ہو جاتے ہیں کہ قدرت نے ان کی ذمے داری سینئر کندھوں پر ڈالی ہے۔ اب اسے تحقیر آمیز ذلت سے نوازنا ہے یا اپنی احمقانہ خواہشات کے تحت روند ڈالنا ہے۔

بنگلا دیش کے بعد بھارت میں ایسا ہو کر رہا ہے۔ نریندر مودی بنگلا دیش میں یہ صورت حال دیکھ چکے تھے لہٰذا انھوں نے اپنے ایک کھلاڑی کی قربانی دے کر فی الحال اپنی سیٹ بچا لی ہے لیکن آگے دیکھنا ہے کہ یہ سورج کب اور کیسے غروب ہوتا ہے۔