پسپائی

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ایران میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے


عثمان دموہی August 09, 2026

صدر ٹرمپ شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ دنیا میں سب ہی ملک امریکا سے ڈرتے ہیں۔ ایران کی مثال تو اب ان کے سامنے ہے کہ وہ اس وقت ان کا مردانہ وار مقابلہ کر رہا ہے۔ اور بھی ملک ہیں جو امریکا کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں اور وہ امریکا کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اسے زیادہ مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

بہرحال اس وقت سب ہی دیکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیل کی محبت میں اپنے ملک کو مشکل میں ڈالنے سے بھی دریغ نہیں کر رہے مگر یہ ایسی غلطی ہے جو ناقابل تلافی ہو سکتی ہے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ٹرمپ نے شروع کی ہے مگر اس جنگ کا اصل محرک نیتن یاہو ہے، اگر اس نے اپنی جغرافیائی حدود پر اکتفا کیا ہوتا اور اپنی جنگجویانہ روش کو لگام دی ہوتی تو شاید آج مشرق وسطیٰ جس آگ میں جل رہا ہے، وہ اس سے محفوظ ہوتا۔

اس آگے نے پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس آگ کی آنچ سے تمام ہی ملک متاثر ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تیل کے بحران نے اکثر ممالک کو شدید معاشی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

نیتن یاہو کی جنگجویانہ ذہنیت سے خود امریکی عوام پریشان ہیں مگر اسے کیا کہیے کہ صدر ٹرمپ کو نیتن یاہو نے ایسا شیشے میں اتارا ہے کہ وہ اس کے ہر جنگجویانہ منصوبے میں پیش پیش ہیں۔ وہ اگر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے چاہتے تو نیتن یاہو کو مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک خصوصاً غزہ پر جارحیت سے باز رکھتے۔

اس نے اب تک ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے جس میں عورتیں اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی کابینہ میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ ان کا کوئی بھی وزیر یا مشیر ان کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کی مخالفت نہیں کر سکتا مگر اب حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ فوجی کمانڈرز بھی ان کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے ہیں۔

یورپی کمانڈ کے امریکی سربراہ جنرل الیکس گرینکوچ نے ٹرمپ کی اسرائیل نوازی کے خلاف اختلاف کیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے لیے اسرائیل کا دفاع برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اب امریکی انتظامیہ کے پاس ایک ہی چوائس ہے کہ یا تو امریکا کو بچایا جائے یا پھر اسرائیل کا دفاع کیا جائے۔

اس کا مطلب واضح ہے کہ اسرائیل کے بجائے امریکیوں کو اپنی سرزمین کو ترجیح دینا ہوگی۔ اس وقت پینٹاگون کے اعلیٰ حکام بھی ٹرمپ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور اسرائیل کے دفاع میں امریکی سرزمین پر منڈلاتے خطرات کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔

جنرل الیکس نے آگاہ کیا کہ امریکی بحریہ کے پاس ڈسٹرائرز جنگی جہازوں کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے وہ اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے حالیہ آپریشن کو جاری نہیں رکھ سکتے، اگر جلد مزید ڈسٹرائرز فراہم نہ کیے گئے تو اسرائیل کا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ صورت حال اس لیے پیش آئی کہ تقریباً چھ ماہ سے امریکا وقفے وقفے سے ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی تجزیہ کار بھی کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو درپیش ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل خطرات کو ناکام بنانے کا اصل بوجھ امریکی افواج اٹھا رہی ہیں جس کی وجہ سے اسلحے کے ذخائر اور فوجی تیاری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی وائس پریذیڈنٹ جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی ایران سے بڑھتی ہوئی بے نتیجہ جنگ اور امریکی جنگی ساز وسامان کی کمی سے متعلق صدر ٹرمپ کو آگاہ کر چکے ہیں جس کے نتیجے میں اب امریکی حکومت نے پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹریپٹر میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکی اسلحہ ساز کمپنی کے ساتھ تین ارب ڈالر سے زائد کا معاہدہ کیا ہے اور اسلحہ سازی میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔

امریکا کے یورپی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ امریکا اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے اپنی اسٹرٹیجک شکست کی جانب بڑھ رہا ہے جب کہ تہران کا دبدبہ اب بھی جاری ہے کیونکہ وہ خود کو فاتح قرار دے رہا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ایران میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے حتیٰ کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام کو بھی ختم نہیں کر سکے۔ ایسی صورت حال میں روس اور چین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ امریکا کی کمزوریاں ان کے سامنے آرہی ہیں جو امریکا کی اپنی بقا کے لیے خطرناک ہیں مگر ٹرمپ تو نیتن یاہو کے عشق میں ایسے مدہوش ہیں کہ وہ اسرائیل کے لیے امریکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا رسک بھی لینے کے لیے تیار ہیں، اگرچہ ٹرمپ ایران کو ایک دم کمزور اور شکست خوردہ خیال کر رہے ہیں مگر یہ بات حقیقت کے برعکس ہے۔

دراصل ان کی یہ سوچ خود امریکی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ٹرمپ ایک خوش فہم انسان ہیں، اسی لیے شاید وہ ایران کو بہت ہلکا لے رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ ایران نے کئی مہلک ہتھیار تیار کر رکھے ہیں جیسے کہ اس کا خیبرشکن میزائل امریکی فوج کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق ایرانی میزائل حملے اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور جدید حکمت عملی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ ایران کا خیبرشکن میزائل طویل مار کرنے والا ہتھیار ہے جو 1450 کلو میٹر تک مار کر سکتا ہے۔ اس کا ہدف پورا مشرق وسطیٰ اور وہ اس سے بھی آگے تک مار کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی حالت اگرچہ ایران کے مقابلے میں کمزور نظر آتی ہے مگر وہ امریکا کے سہارے ایران کو دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ وہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر پہلے حملے بھی کر چکا ہے۔

امریکا نے اسرائیل کو نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی حتیٰ کہ اسے ایٹمی طاقت بھی بنا دیا ہے جب کہ خطے کے کسی اور ملک کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایران کے قائدین تو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ایٹمی طاقت حاصل کرنا نہیں چاہتے مگر اس کے باوجود بھی ٹرمپ کی ایران سے دشمنی ناقابل فہم ہے۔

امریکا چین اور روس کو اپنا دشمن خیال کرتا ہے۔ وہ دونوں ممالک امریکا کی ایران سے بے مقصد جنگ کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ایران کی مدد بھی کر رہے ہیں جسے امریکا روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا۔ امریکا تو یوکرین کو بھی روسی حملوں سے نہیں بچا سکا ہے۔

امریکا اس وقت ایران کے مسئلے میں ایسا پھنسا ہے کہ وہ مشرق بعید میں اپنے اتحادیوں کی بھی خبر گیری نہیں کر پا رہا ہے۔ ادھر چین اپنے بچھڑے ہوئے حصے تائیوان کو حاصل کرنے کے لیے تیاری مکمل کر چکا ہے اور کسی بھی وقت کارروائی کر سکتا ہے۔

یہ اس لیے بھی ممکن ہے کیونکہ اس وقت امریکا مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکا ہے اور چین اس کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر چین ایک امن پسند اور بااصول ملک ہے، وہ شاید ایسا نہ کرے کیونکہ تائیوان کے عوام خود چین کا حصہ بننے کے لیے جمہوری جدوجہد شروع کر چکے ہیں اور وہ اس میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔