ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا نیا دفاعی معاہدہ عملی اور تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 میں موجود باہمی دفاع کے اصول سے مماثلت رکھتا ہے۔
ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ تینوں ممالک کے درمیان گزشتہ روز طے پانے والے دفاعی معاہدے کے تحت ایسا ادارہ جاتی نظام قائم کیا جائے گا جو نیٹو کے باہمی دفاعی ڈھانچے سے مشابہ ہوگا۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ نئے دفاعی اتحاد کے تحت وزرائے دفاع یا متعلقہ وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس کا کردار کسی حد تک نیٹو کے اندر موجود متعلقہ ادارے سے ملتا جلتا ہوگا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نئے دفاعی اتحاد کے لیے ایک جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا جس کا صدر دفتر سعودی عرب میں ہوگا۔
ان کے بقول اس انتظام کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطے کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینا اور کسی ممکنہ سکیورٹی بحران کی صورت میں مشترکہ ردعمل کے لیے رابطے کا مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔
آرٹیکل 5 سے کیا مراد ہے؟
نیٹو کے معاہدے کا آرٹیکل 5 اس اتحاد کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے جس کے تحت ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور اتحادی ممالک حملے کا نشانہ بننے والے رکن کی مدد کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔
ترک وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نیا دفاعی بندوبست بھی اسی نوعیت کے باہمی دفاعی تصور پر مبنی ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مصر بھی مستقبل میں اس دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے تاہم اس کے لیے بعض تکنیکی معاملات کو پہلے حل کرنا ہوگا۔
اگر مصر بھی اس کا حصہ بنتا ہے تو اس دفاعی شراکت داری کا جغرافیائی دائرہ مزید وسیع ہوجائے گا اور بحیرہ احمر، مشرقی بحیرہ روم اور خلیجی خطے سے متعلق سکیورٹی معاملات میں اس کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔