بھولی ہوئی یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، تحقیق میں اہم انکشاف

وقت کے ساتھ بعض یادیں مٹنے کے بجائے دماغ میں ایسی حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں انہیں فوری طور پر یاد نہیں کیا جا سکتا


ویب ڈیسک August 10, 2026

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہ سکتی ہیں اور مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ ذہن میں واپس لایا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا کہ جس ماحولیاتی ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد دوبارہ فعال ہو سکتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض یادیں مٹنے کے بجائے دماغ میں ایسی حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں انہیں فوری طور پر یاد نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت انتہائی پیچیدہ اور ناقص نظام ہے۔ کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، بو یا دوسرے اشارے سے اچانک واپس آ سکتی ہیں۔

تاہم، محققین کے مطابق دماغ حقیقی یادوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جھوٹی یادیں بھی کیوں تشکیل دیتا ہے، اس عمل کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا۔

تحقیق میں کہا گیا کہ حقیقی یادوں کی بازیابی اور غلط یادوں کی تشکیل کے پیچھے موجود عصبی عمل اب بھی سائنس کے لیے ایک اہم سوال ہیں۔

یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں ماحول اور بیرونی اشارے کس کردار ادا کرتے ہیں۔