یوم استحصال

پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہند کے اول دن سے کشمیر کا تنازعہ بنیادی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب بنا ہوا ہے۔


ایم جے گوہر August 10, 2026

پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہند کے اول دن سے کشمیر کا تنازعہ بنیادی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھی قیامت پاکستان سے پہلے سے شروع ہے۔ کشمیریوں کا ہمیشہ سے یہی نعرہ رہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا نہیںچاہتے اور ان کا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے۔ آج بھی کشمیری پاکستان کو ہی اپنا وطن سمجھتے ہیں اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔

بھارت نے کشمیر پر قابض ہو کر آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے ظلم و ستم اور بربریت و سفاکی کے تمام حربے استعمال کر لیے، یہ سلسلہ آج بھی اسی شد و مد سے جاری ہے، لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں بری طرح ناکام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ کشمیر کے عوام کا ان علاقوں کے ساتھ گہرا تہذیبی‘ نسلی ‘لسانی ‘مذہبی اور تاریخی تعلق ہے جن علاقوں پر آج پاکستان مشتمل ہے۔

اس لیے صدیوں کے اس عمل کو بھارتی پالیسی ساز اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود منقطع کرنے میں ناکام چلے آ رہے ہیں۔ کشمیر کی معیشت کا انحصار بھی ہمیشہ سے  پاکستان پر رہا ہے۔ کشمیر سے جو دریا نکلتے ہیں ان کا رخ بھی پنجاب کی طرف ہے‘ یہاں سے یہ دریا پورے پنجاب کو سیراب کرتے ہوئے دریائے سندھ میں جا گرتے ہیں۔

کشمیری نوجوانوں، بزرگوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور معصوم بچوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر کشمیر کی تحریک آزادی کو آج بھی متحرک اور فعال رکھا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی آزادی کے نعروں کی گونج گھر گھر سنائی دیتی ہے۔ کشمیریوں کا بنیادی مطالبہ بھارت کے تسلط سے نجات اور آزادی کا حصول ہے جب کہ بھارت نہ صرف عسکری قوت کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبانا چاہتا ہے بلکہ آئینی و قانونی طریقے سے بھی کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کی سازش کرتا رہتا ہے۔

بالخصوص مودی سرکار نے بھارت کے آئین میں حاصل کشمیریوں کے حقوق پر 5 اگست 2019 کو ڈاکہ ڈالتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی بنیادی آئینی حیثیت کو ختم کر دیا۔ مودی سرکار کے اس جابرانہ اور یکطرفہ اقدام کے ذریعے وادی کو جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرکے براہ راست نئی دہلی کے کنٹرول میں دے دیا گیا ۔

مودی حکومت نے بھارتی آئین کے دو آرٹیکل منسوخ کیے تھے 35(1)۔اے، 370(2)۔ آئینی آرٹیکل 35 اے کے تحت صرف کشمیر کے مستقل شہریوں کو وہاں زمین خریدنے، سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس شق کے خاتمے سے غیر کشمیریوں کو بھی مقبوضہ وادی میں جائیدادیں خریدنے کا آزادانہ اختیار مل گیا ہے جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اپنا علیحدہ آئین اور پرچم رکھنے کا اختیار حاصل تھا مزید برآں دفاع، خارجہ، مواصلات اور دیگر تمام قوانین بنانے کی بھی نیم خودمختاری حاصل تھی، لیکن اس شق کے خاتمے سے کشمیریوں کے تمام مذکورہ حقوق غصب ہو چکے ہیں۔ کشمیری بھارت کے اس استحصالی اقدام پر آج تک سراپا احتجاج ہیں۔

 ہر سال 5 اگست کو پاکستان، آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور دنیا میں جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں بھارت کے اقدام کے خلاف ’’یوم استحصال‘‘ مناتے ہیں۔ امسال بھی پاکستان آزاد کشمیر، مقبوضہ وادی سمیت پوری دنیا میں 5 اگست کے بھارتی اقدام کے خلاف ’’یوم استحصال‘‘ منایا گیا۔ مظاہرے، ریلیاں، جلسے، جلوس، مذاکرے اور سیمینارز منعقد کیے گئے۔

صدر آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے اپنے اپنے پیغامات میں بھارتی اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ محض زبانی کلامی حمایت نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل درآمد کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ یہ عالمی ضمیر کی اجتماعی بے حسی ہے کہ 70 سال سے مسئلہ کشمیر سلگ رہا ہے اور سپرپاور امریکا سمیت کوئی ملک اس تنازع کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

خود اقوام متحدہ جیسا امن کا عالمی ادارہ اپنی ہی قراردادوں پر بھارت سے عمل درآمد کروانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ حالانکہ خود بھارت 1945 میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے جہاں سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کی قراردادیں منظور کی تھیں۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے عالمی ادارے میں کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک بھارت کے کسی وزیر اعظم نے عالمی ادارے کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کیا نتیجتاً مسئلہ کشمیر آج تک حل نہ ہو سکا اور بھارت کا تسلط برقرار ہے۔

 ادھر آزاد کشمیر میں دہائیوں سے سکون غالب رہا تھا، اب وہاں بھی حالات سازگار نہیں رہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے دھرنوں، ہڑتالوں اور احتجاج کا ایک طویل سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی سے لے کر جے یو آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں تک احتجاجی مظاہرین کے مطالبات کے حوالے سے اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں تاہم سب اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ کشمیریوں کی آواز کو سنا جائے ان سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ نکالی جائے نہ کہ دھمکی، دباؤ اور طاقت کے استعمال سے انھیں دیوار سے لگا دیا جائے۔ ہر مسئلہ طاقت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ نفرتوں کے بیج بو کر محبتوں کی فصل نہیں کاٹی جا سکتی۔

امریکا و ایران بھی طاقت کے استعمال سے اپنا مسئلہ حل کرنے میں ناکامی کے بعد اب مذاکرات اور امن معاہدے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ امن ہم سب کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سیاسی مسائل بھی سیاستدان باہمی مذاکرات اور بات چیت کے عمل سے حل کریں گے۔