پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں کامیابی کو عوام کے اعتماد کا ثبوت قرار دیا ہے اور اس کامیابی کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی دور اندیشی پر مبنی قائدانہ صلاحیت اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی حکومتی کارکردگی بھی کہا ہے کہ جنھوں نے آزاد کشمیر جا کر اپنی پارٹی کے امیدواروں کی پرزور انداز میں انتخابی مہم چلائی اور مسلم لیگ ن کو اسی اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پرآزاد کشمیر کے عوام میں انتخابی کامیابی دلائی ہے۔
جن حلقوں میں ابھی انتخابات ہونا باقی ہے وہاں بھی امید یہی کی جاتی ہے کہ آزاد کشمیر کے پہلے دو مرحلوں جیسے ہی نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ بھی درست ہے کہ گلگت بلتستان کے برعکس آزاد کشمیر پنجاب کے بہت قریب ہے بلکہ آزاد کشمیرکی سرحد کا زیادہ حصہ پنجاب کے ساتھ ملتا ہے۔ادھر لاکھوں کی تعداد میں کشمیری باشندے پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں رہتے ہیںخصوصاًسیالکوٹ‘گوجرانوالہ اور لاہور میں کشمیری باشندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
اور کشمیری مہاجرین کی زیادہ نشستیں پنجاب میں ہیں جہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو اس بار بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ماضی میں بھی ان نشستوں سے مسلم لیگ کے امیدوار ہی کامیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔اس بار بھی ماضی کی تاریخ کو ہی دہرایا گیا ہے لہٰذا اس پر کسی کو زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پنجاب اور کشمیر میں جو بستے ہیں وہ نسلی اور لسانی اعتبار سے بھی ایک ہی اسٹاک سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ان کے درمیان باہمی رشتے داریاں بھی بہت زیادہ ہیں۔
یہ بات آزاد کشمیر کی حد تک درست ہے کہ جہاں کے لوگوں کو حکومت پاکستان بے شمار مراعات دے رہی ہے۔ جہاں انتہائی سستی بجلی اور گندم دینے کے علاوہ بھی متعدد مراعات شامل ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی مراعات کے باوجود وہاں آزاد جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیوں اتنی موثر طاقت بنی کہ حکومت نے اس کے اکثر مطالبات مان لیے مگر یہ کمیٹی کالعدم ہونے کے باوجود اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے اور دھرنا ختم نہیں کر رہی اور اس نے لاقانونیت کے بھی نئے ریکارڈ قائم کیے اور سیکیورٹی اداروں کے افراد کو جانی نقصان بھی پہنچایا جا چکا ہے۔
پنجاب سے قریبی وابستگی اور مراعات لینے والے آزاد کشمیر کے ووٹروں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کو مسترد کرکے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی بہترین کارکردگی سے متاثر ہو کر ممکن ہے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو کامیاب کرایا ہو اور آزاد کشمیر میں 6 ماہ سے قائم پیپلز پارٹی کی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث ممکن ہے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کرکے اسے وہاں اقتدار دینے کا فیصلہ کیا ہو مگر اب تک یہ اعتماد صرف آزاد کشمیر تک ہی ہے۔
پنجاب میں (ن) لیگی حکومت کی بہترین کامیابی نے بلاشبہ ملک بھر میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا مگر کیا وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو ملک میں عوام کا اعتماد حاصل ہے جنھوں نے عوام کی زندگی مہنگائی پر مہنگائی بڑھا کر مشکل بنا رکھی ہے ۔ وفاقی حکومت سابقہ حکومتوں کی طرح لاکھ کہے کہ اپریل 2022 میں ختم کی جانے والی پی ٹی آئی کی حکومت ملک کی موجودہ معاشی بدحالی کی ذمے دار ہے اور آئی ایم ایف موجودہ حکومت کی راہ میں رکاوٹ ہے اور حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کی اجازت نہیں دے رہا جس کا حالیہ اعتراف ایک وزیر کا بیان ہے کہ آئی ایم ایف مخصوص اوقات میں عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا۔
پاکستانی عوام حکومت سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ حکومت نے آزاد کشمیر کو جو بجلی نہایت کم نرخ پر دے رکھی ہے ،کیا اس کی اجازت بھی حکومت نے آئی ایم ایف سے لی تھی؟ پاکستان میں بجلی اس قدر مہنگی کر دی گئی ہے کہ سخت گرمی میں غریب پنکھے چلانے میں بھی احتیاط کرتے ہیں کہ پنکھا چلانے سے ان کا کہیں ہزاروں روپے کا بل نہ آ جائے ،اس لیے غریب اکثریتی آبادی گرمی کے باوجود پنکھا چلانے سے ڈرتی ہے اور صرف روشنی کے لیے بلب جلاتی ہے پھر بھی بھاری بل آ جاتا ہے جس کا ایک اور ثبوت کوٹ رادھا کشن میں ایک محنت کش کی خودکشی ہے جس نے بجلی کا ساڑھے 41 ہزار روپے بل آنے پر پریشان ہو کر اپنی زندگی ختم کر لی جب کہ ملک میں ایسی ہی بے شمار خودکشیاں ہو چکیں۔
پاکستان میں پہلے بھوک و بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشیاں کرتے تھے مگر اب انھیں انتہائی مہنگی بجلی نے خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ صرف بجلی مہنگی کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے جب کہ گزشتہ چار سالوں میں لاکھوں افراد مختلف مسائل کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جن کے والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی مالی طاقت نہیں رکھتے۔ ملک میں 13 کروڑ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم، ساڑھے آٹھ کروڑ افراد کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، دس کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اپوزیشن نہیں وزارت خزانہ کی رپورٹ کہہ رہی ہے۔
حکومت نے عوام کو کوئی ایک بھی ریلیف نہیں دیا۔ پٹرول عالمی سطح پر کم ہو تو حکومت لیوی بڑھا دیتی ہے اور مطلوبہ ریلیف واپس چھین لیتی ہے۔ ملک میں مہنگائی و بے روزگاری بڑھی ہے یا اشرافیہ کی تنخواہیں اور مراعات مگر غریبوں کو جان بوجھ کر جائز رعایت سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔
موجودہ سسٹم کے منہدم ہو جانے کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومت میں شریک پیپلز پارٹی بھی حکومت کو ناکام قرار دے رہی ہے۔ اب حکومت پر عوام اپنے اعتماد کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں جس کو عوام کی رتی برابر فکر نہیں ہے جس کو ڈھائی سال بعد الیکشن میں عوام کے پاس بھی جانا ہے۔ حکومت کو آزاد کشمیر کے ساتھ پاکستانیوں کی اکثریت کے حالات پر بھی فوری توجہ دینا ہوگی۔ حقائق کا سامنا عوام کی اکثریت کر رہی ہے اس لیے حکومت ملک میں پھیلی بداعتمادی پر فوری توجہ دے اور عوام کو ریلیف دے تو اعتماد حاصل ہوگا۔