مکہ دفاعی معاہدہ اور ایران

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ اس موضوع پر کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اس معاہدے پر عجلت میں کیے گئے تبصرے اپنی جگہ لیکن کچھ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔


[email protected]

مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ اس موضوع پر کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ اس معاہدے پر عجلت میں کیے گئے تبصرے اپنی جگہ لیکن کچھ حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔ پہلی حقیقت وہ ہے جو حالیہ ایران امریکا جنگ کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ اس جنگ کے دوران کچھ واقعات ایسے بھی رونما ہوئے ہیں، عرب و عجم چپقلش کے پس منظر میں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد جنگ کو ایک نیا رخ دینے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس جنگ کے دوران  عرب دنیا خاص طور پر سعودی عرب کا طرزِ عمل کیا رہا؟ دو امور ایسے ہیں جو اس سوال کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جنگ کے دوران دشمن نے کوشش کی کہ اس کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر سعودی عرب جنگ میں کود پڑے۔ یہ بہت نازک مرحلہ تھا۔ سعودی عرب نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحمل سے کام لیا۔ اس طرح اسرائیل اور امریکا کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔

خیر، یہ معاملہ تو ایک سازش تھا لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایران نے سعودی عرب وغیرہ پر حملے کیے بھی ہیں۔ سعودی عرب نے ایران پر جوابی حملے نہیں کیے بلکہ امریکا پر دباؤ بھی ڈالا کہ وہ جنگ بند کرے اور خطے سے نکل جائے۔ یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے جسے بین الاقوامی حرکیات کے ماہرین نے زیر بحث لانے سے گریز کیا ہے۔

اس پس منظر کو ذہن میں لا کر مکہ دفاعی معاہدے پر غور کیا جائے تو کیا سمجھ میں آتا ہے؟ اس ضمن میں دو نکات کو دوہرا لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ یعنی یہ کہ سعودی عرب نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں الجھنے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ سعودی عرب نے دوسرا کام وہ کیا جو ایران چاہتا تھا۔ ایران چاہتا تھا کہ امریکا خطے سے نکل جائے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ سعودی عرب نے ایران کی خواہش پوری کی ہے یا وہ خود ہی اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ امریکا کو خطے سے نکل جانا چاہیے، اس نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ وہ جن مقاصد یعنی ہمارے تحفظ کے لیے خطے میں آیا تھا، وہ انھیں پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لیے خطے میں اس کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں رہا لہٰذا اب عرب دنیا سے اسے اپنے پر پرزے سمیٹ کر نکل جانا چاہیے۔ یہ پیغام امریکا کو دے دیا گیا ہے۔گویا امریکا اب اسرائیل تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے نتیجے میں جنم لینے والی عسکری قوت امریکا کے نکل جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرے گی۔ یہ تبدیلی صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں پوری دنیا کی تزویراتی سیاست کو بدل دے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے مشرق وسطیٰ کے خد و خال ماضی سے مختلف ہوں گے۔ سعودی عرب کی قیادت میں جو نیا مشرق وسطیٰ ظہور میں آ رہا ہے، اس پر ایران کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ کئی معنوں میں اس کی خواہش میں ایران کو بھی دخل ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابراہیم رضاعی نے مکہ معاہدے کو کاغذی معاہدہ قرار کیوں دیا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایران کی داخلی سیاست ہو سکتی ہے۔ صدمات سے بوجھل ایرانی راہ نما کی جلد بازی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی حکمت عملی یا کوئی پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ ابراہیم رضاعی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے رکن ہیں، ایران کے سرکاری ترجمان نہیں، اس لیے ان کے بیان کی حیثیت سرکاری مؤقف کی ابھی تک نہیں ہے۔ بادی النظر میں مکہ دفاعی معاہدے سے ایران کے اختلاف کی کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی۔ ایران اس معاہدے کا مخالف اس لیے بھی نہیں ہو سکتا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جب معاہدہ ہوا تو ایران کی ذمے دار قیادت کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ بھی اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونا چاہیں گے۔ ایران اگر اس معاہدے میں شمولیت کا آرزو مند تھا تو اب اس کا مخالف کیسے ہو گیا؟ اگر ابراہیم رضاعی سے بڑے ایرانی راہ نماؤں کی طرف سے اس معاہدے کی مخالفت ہوتی ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ایران واقعی اس معاہدے کا مخالف ہے، دوسری صورت میں ابراہیم رضاعی کا بیان دنیا کے حافظے سے بہت جلد اتر جائے گا۔ ویسے بھی صدر ایردوآن نے بتا دیا ہے کہ معاہدے میں مزید ملک بھی شامل ہو سکتے ہیں ظاہر ہے کہ ایران اس سے مستثنٰی نہیں ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے مضمرات بے شمار ہیں۔ اس کا تعلق مشرق وسطیٰ کی صورت حال خاص طور پر فلسطین کے معاملے سے ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی سے ہے اور پاکستان کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم سے ہے۔ یہ سب پہلو اہم ہیں اور ان پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہے گی لیکن لمحہ موجود میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے اور کیا ایران اس کا واقعی مخالف ہے؟ حالات نے اس مفروضے کے حق میں ابھی تک کوئی ایک گواہی بھی پیش نہیں کی۔

اس معاہدے کا ایک اور پہلو پاکستان کو ملنے والی اہمیت ہے۔ پاکستان واقعی خطے کی اہم ترین قوت بن کر ابھرا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر نے جتنی محنت کی ہے، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ایسی خوش قسمتی کم راہ نماؤں کے حصے میں آتی ہے۔