7اگست2026ء کو جب امیر جماعتِ اسلامی، حافظ نعیم الرحمن، کی زیر قیادت جماعتِ اسلامی ملک بھر میں510مقامات پر (کمر توڑ مہنگائی اور جان لیوا پٹرولیم مصنوعات کے خلاف) احتجاجات کررہی تھی، پاکستان نے عالمی سطح پر ایک عظیم الشان کامیابی سمیٹی ۔ یہ سفارتی و دفاعی کامیابی وکامرانی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ کے نام سے جانی ، مانی اور پہچانی گئی ہے ۔
یہ مبارک ومسعود معاہدہ جمعۃ المبارک کے روز منصہ شہود میں آیا۔ عالمِ اسلام کا ہر فرد اِس دفاعی معاہدے پر خوش ہے ، مگر اِس معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بھارت و اسرائیل کے پیٹ میں شدید مروڑ اُٹھے ہیں ۔ حرمین الشریفین کی پاک و مقدس فضاؤں میں طے پانے والے اِس فخریہ معاہدے پر پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیے نے دستخط کرکے ایک محیر العقول کارنامہ انجام دیا ہے۔ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے ‘‘ پر پاکستانی وزیر اعظم جناب شہباز شریف، سعودی ولی عہد عزت مآب محمد بن سلمان اور ترکیے کے صدر آنجناب طیب رجب ایردوان کے دستخط ثبت ہیں ۔
اِس معاہدے کا اعلامیہ تو مفصل اور طویل ہے ، مگر اِس کا چند لفظی خلاصہ یہ ہے: ’’معاہدے کے دستخط کنندگان ممالک میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔‘‘یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایران و امریکہ جنگ کے دوران جس طرح امریکہ نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی دفاعی توقعات کو جھٹکا دے کر مایوس کیا ہے، یہی مایوسی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ کی تخلیق کا موجب بنی ہے۔ سعودیہ کو اپنے دو طاقتور اور مضبوط دفاع کے حامل مسلمان برادر ممالک کے ساتھ یہ معاہدہ کرنا پڑا ہے تو اِس کی کوئی مستحکم اساس تو ہوگی ۔ اِسی عنصر کی موجودگی میں عالمی میڈیا میں نئے زاویوں کے ساتھ مباحث ہو رہے ہیں ۔
سات اگست کے یومِ سعید کے موقع پر ، معاہدے کی تقریب میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب بھی موجود تھے ۔ معاہدے کے بعد جب تینوں دستخط کنندہ شخصیات نے مل کر حرم شریف میں نمازِجمعہ ادا کی اور بعد ازاں اُنہیں خانہ کعبہ شریف کے اندر زیارت کے لیے لے جایا گیا، تب بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب ساتھ ساتھ تھے اور دُنیا بھر کو واضح پیغام دے رہے تھے۔
معاہدے پر دستخط کے وقت سعودیہ، پاکستان اور ترکیے کے وزرائے دفاع بھی وہاں موجود تھے : پاکستان کے خواجہ محمد آصف ، سعودیہ کے شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیے کے جنرل (ر) یاسر گولر۔تینوں وزرائے دفاع کی موجودگی دراصل معاہدہ مکہ کی تقویت کا باعث بن رہی تھی۔ عالمِ اسلام کی تینوں دستخط کنندہ شخصیات اور تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ و دفاع نے معاہدے کے بعد جو بیانات دیئے ہیں، ان کا خلاصہ یہی ہے :(۱) اِس معاہدے سے عالمِ اسلام ، مجموعی طور پر، محفوظ بنے گا(۲) یہ معاہدہ کسی کے خلاف ہے نہ سازش!معاہدے سے قبل جس وحشت کے ساتھ( کسی کی پراکسی) عراقی مسلح گروہوں اور یمنی حوثیوں نے سعودیہ پر متعدد اور مہلک حملے کیے ، اگر یہ حملے نہ کیے جاتے تو ’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کرنے میں، شائد، اتنی تیزی اور شتابی نہ آتی ۔
’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ عالمِ اسلام کے سب سے مقدس شہر، مکہ معظمہ، کی پُر نُور فضاؤں اور نورانی شہر میں طے پایا ہے ؛ چنانچہ ہر مسلمان کی طرح ہماری بھی دعا اور خواہش ہے کہ یہ عظیم معاہدہ اپنے طے شدہ اہداف کی جانب مسلسل بڑھتا رہے۔ عالمِ اسلام کے استحکام اور خوشی و خوشحالی کا باعث بنتا رہے ۔ اللہ ھم بارک فیہ ۔لیکن یہ کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے کہ چونکہ مکہ شریف میں یہ معاہدہ طے پایا ہے ، اس لیے یہ ہمیشہ قائم بھی رہے گا۔ ہمیں حالات سے سبق سیکھنے اور سبق لینے کی ضرورت ہے۔
تاریخ کی ٹائم لائن دیکھی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اِس سے قبل بھی مکہ شریف میں6اہم تاریخی معاہدے ہو چکے ہیں۔1981ء میں OICکے تحت ’’مکہ ڈیکلیریشن‘‘ سامنے آیا۔2005ء میں ایک بار پھر OICہی کے تحت مکہ معاہدہ طے پایا ۔2006ء میں عراق بارے ( دو متحارب عراقی فرقوں میں صلح و امن کے لیے) تیسرا مکہ معاہدہ ہُوا ۔2007ء میں بھی مکہ معاہدہ ہُوا تھا ۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کے فرمانروا ، شاہ عبداللہ، نے فلسطینی صدر ( محمود عباس) اور حماس کے لیڈر ( خالد مشعل) کے درمیان کروایا تھا۔ اِن معاہدوں کے جو نتائج نکلے ، وہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔بہر حال تاز ہ ترین ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ پائیدار ثابت ہوگا۔ انشاء اللہ !
ترکیے کے معروف اخبار ’’صباح‘‘کے مشہور تجزیہ کار( مہمت چلیک) نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے بارے کہا ہے :’’یہ شاندار معاہدہ تینوں مسلم ممالک کے مابین ایک نیا استحکامی محور (A New Axis of Stability) ثابت ہوگا ۔ ‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں: ’’ یہ معاہدہ ایسے نازک حالات میں سامنے آیا ہے جب (۱) یوکرائن اوررُوس کے درمیان جنگی تصادم جاری ہے (۲) جب اسرائیل غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کی نسل کر چکا ہے (۳) جب صہیونی اسرائیل کے شام اور لبنان پر تباہ کن حملے جاری ہیں (۴) جب ایران و امریکہ جنگ نے ساری دُنیا کی سیکورٹی، سلامتی اور معاشی حالات کو بیدردی سے متاثر کر ڈالا ہے (۵)اور جب آبنائے ہرمز ساری دُنیا کی بحری تجارت کو لے ڈُوبی ہے ۔ ‘‘ یہ معاہدہ نہائت غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے ۔ اور اِس کا پسِ منظر یہ بھی ہے کہ(۱) سعودی عرب کے پاس معاشی طاقت ہے (۲)ترکیے کی دفاعی صنعت مضبوط پاؤں پر کھڑی ہے اور ترکیے ’’ناٹو‘‘ کا وہ رکن ملک ہے جس کے پاس دوسری بڑی فوج ہے (۳) معاہدے پر دستخط کرنے والے تیسرے ملک ، پاکستان ، کے پاس جوہری طاقت بھی ہے اور پاکستان جغرافیائی طور پر نہائت طاقتور تزویراتی حیثیت کا مالک ہے ! ترکیے کے ناٹو رکن ملک ہونے بارے یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ امریکہ کو ’’ناٹو‘‘ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ، اسلیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کرنے سے قبل اُس نے امریکی اشیرواد حاصل نہ کی ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر اب ترکیے پر کوئی بیرونی طاقت حملہ آور ہو گی تو کیا ،ناٹو معاہدے کے مطابق، امریکہ کے ساتھ ساتھ ناٹو کے32 رکن ممالک بھی ترکیے، سعودی عرب اور پاکستان کی عسکری مدد کو پہنچیں گے؟
مذکورہ معاہدے سے یقیناً تینوں معاہد مسلم ممالک کی سلامتی اور سیکورٹی کو مزید تقویت ملے گی ۔ باہمی اخوت میں اضافہ ہوگا ۔ دشمنانِ اسلام کے دانت کھٹے ہوں گے۔ تینوں ممالک کے خفیہ ادارے باہم مل کر معاندین اور حاسدین کی سازشوں کا مل کر مقابلہ کر سکیں گے ۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ سے اسرائیل کو منفی جھٹکے لگے ہیں ۔ اِس معاہدے سے خطّے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا ۔ ترکیے کے اسرائیل کے ساتھ گہرے سفارتی ،تجارتی اور دفاعی دیرینہ تعلقات رہے ہیں ۔ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے باعث یہ تعلقات کمترین سطح تک پہنچ گئے تھے ۔ اور اب مذکورہ نئے معاہدے سے ترکیے اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کو ایک اور زبردست جھٹکا لگا ہے کیونکہ سعودی عرب کے تو سرے سے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات ہے ہی نہیں۔مذکورہ معاہدے کے ایک دن بعد معروف امریکی تھنک ٹینک Atlantic Councilنے’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ بارے جو تفصیلی آرٹیکل شائع کیا ہے ، ہمارے پالیسی ساز اداروں کو اِسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔