زباں فہمی291 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ دُوُم)

زباں فہمی291 ;کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں (حصہ دُوُم) ؛تحریر سہیل احمد صدیقی


زباں فہمی291 ;کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں (حصہ دُوُم) ؛تحریر سہیل احمد صدیقی

ابتداء میں اس حقیقت کا ادراک بہت ضروری ہے کہ مقامی زبانوں سے خِلقی تعلق ، مماثلت اور اِشتراک کے علاوہ ، اردو نے یورپی زبانوں بشمول انگریزی، فرانسی (فرینچ)، پُرتگیز، ولندیزی (ڈچ) ، المانوی (جرمن) ، لاطینی اور اطالوی سے بہت کچھ مستعار لیا ۔گزشتہ قسط میں چونکہ تاریخی پس منظر کا حصہ بہت زیادہ تھا ، لہٰذا بوجوہ آخر میں کچھ الفاظ کی فہرست بھی بطور نمونہ شامل کی تھی کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اردو اور فرانسی (فرینچ) کے مشترکات پر بات نہیں ہورہی۔ بہرحال موضوع بہت وسیع اور وقیع ہے ، سو اِس کی مختلف جہتیں ایک ایک کرکے سامنے آتی رہیں گی۔

تاریخ کے اعادے کے عمل میں کچھ باتیں بہرحال ایسی ہوتی ہیں جنھیں دُہرانا کسی سبب سے ناگزیرہوتا ہے۔ مغل بادشاہ عالمگیر کے اجازت نامے کے ایک سال بعد، گولکُنڈہ کے حکمراں سلطان عبداللہ قطب شاہ نے بھی فرانسی (فرینچ) تاجروں کو مسولی پٹم کے مقام پر ایک تجارتی کوٹھی یعنی اڈّہ بنانے کی اجازت دے دی جس کے بعد سلسلہ دراز ہوتا چلاگیا۔ مقام حیرت وتأسف ہے کہ اورنگزیب عالمگیر جیسے جہاندیدہ شخص کو اِن ’فرنگیوں‘ کی نیت پر شک ہوا نہ دَکن کے پایہ تخت پر براجمان سلطان کو۔ مسلمان ہر جگہ اپنی کوتاہیوں اور خرابیوں کی وجہ سے زیادہ مغلوب ہوئے، اس پر مستزاد اُن کی صفوں میں غدّاروں کی موجودگی اور فعالی۔ ایک طرف فرانسی تاجر اِس خِطّے میں قدم جمارہے تھے تو دوسری طرف لسانی تحقیق کا ایک باب بھی وا ہوچکا تھا۔ فرانسیوں اور مقامی لوگوں کے ہر سطح پر روابط عام ہوئے تو فرانسی زبان کا اردو سمیت متعدد مقامی یا ہندوستانی زبانوں سے ارتباط بھی ہوا۔ یوں تو زبانوں کی تشکیل میں یہ عام سی بات ہے مگر ہماری پیاری زبان اردو کا دامن اس معاملے میں سب سے زیادہ وسیع ہے کہ نہ صرف ابتدائی، تشکیلی مراحل میں، بلکہ آج تک دنیا کی کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ (عموماً عوامی رابطے سے) دَر آتا ہے تو اُسے کبھی نہ کبھی شرفِ قبولیت بھی مل ہی جاتا ہے۔ بے شمار دیگر الفاظ کی طرح جاپانی لفظ ’سونامی‘ (Tsunami) بھی جدید دور میں ایسی ہی ایک مشہور مثال ہے جسے ہمارے ایک سیاست داں نے اپنے تئیں مُثبت مفہوم کا جامہ زبردستی پہناکر، اپنی لسانی فہم کا ثبوت فراہم کیا۔

اردو اور فرانسی کے اشتراک کا پہلا کتابی ثبوت ’فتح المجاہدین‘ سے ملتا ہے جو 1783ء میں ٹیپوسلطان کے مصاحب زین العابدین شُستری (1754ء تا 1799ء) نے تحریر کی اور جس کے بعض قلمی نسخوں پر خود سلطان کے دستحظ اور مُہر ثبت ہے۔ یہ صاحب ، نظام علی خان ، نظام ِ دکن کے وزیر مِیر عالَم (1750ء تا 1808ء) کے چھوٹے بھائی تھے۔ اس کتاب میں سلطان کے طریق ِ جنگ اور فوج کے نظم کے متعلق تمام تفصیلات درج ہیں۔ کتاب کے آخر میں ایک اشاریہ (Index) بھی شامل کیا گیا جس میں ایسے الفاظ، اسماء اور اصطلاحات ملتی ہیں جو فرانسی سے اردو میں داخل ہوئیں اور ٹیپو کی سپاہ میں، نیز دیگر اَربابِ اقتدارکے یہاں، دکن میں رائج تھیں۔ اس اشاریے کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں اصطلاحات کے مترادفات اردو، فارسی اور تُرکی زبان میں دیے گئے تھے۔ اس طرح یہ نکتہ ثابت ہوگیا کہ اردومیں فرانسی الفاظ کا دخل اور چلن اٹھارہویں صدی میں شروع ہوچکا تھا اور سلطان حیدرعلی، سلطان فتح علی ٹیپو اور نظامِ دکن سے فرانسیوں کے ارتباط کے دورمیں عسکری اصطلاحات کا ایک فرنگی یا غیرملکی زبان سے مستعار لیا جانا بھی ایک اہم ’بین الاقوامی‘ واقعہ تھا۔

برّ عظیم پاک وہند میں اس قوم کے پنجے گاڑنے سے قبل کا ایک واقعہ یہ بھی اہم ہے کہ 1529ء میں ژاں پاغ موں تی اے (Jean Parmentier)اور غائول (Raoul)نامی دو سیّاحوں نے جنوبی افریقہ کے جنوبی ساحل پر واقع،راس اُمید (Cape of Good Hope)کی جانب سے مدغاسکر (Madagascar)، مولاکز (Moluccas)اور سُماترا (Sumatra)، انڈونیشیا تک جاپہنچے تھے یعنی افریقہ سے ایشیا تک۔ یہ نکتہ یقیناً ایک بڑا اِنکشاف ہے۔ (راس سے مراد، خشک زمین کا وہ قطعہ ہے جو سمندر میں دور تک چلا گیا ہو جیسے راس کماری، راس امید وغیرہ)۔ اس سفر سے یورپ کی اس طاقتور قوم کے مشرق میں قدم جمانے کی مہم کا غیر رسمی آغازہواتھا۔

اب ہم فرانسی کے اردو میں شامل ہونے والے الفاظ درج کرتے ہیں:

اردومیں شامل، یونانی الاصل فرانسی الفاظ: ایٹم (یونانی میں atomosآتومو تھا جو لاطینی میں جاکر atomusآتو مس ہوگیا، وسطی عہد کی فرانسی میں atome ہوا تو یہی وسطی عہد کی انگریزی نے اپنالیا، مابعد یہ لفظ attome / atom لکھا جانے لگا;فرانسی تلفظ میں آتوم۔ ہم نے انگریزی کی اتباع میں ایٹم کردیا)، آئل (ابتداء میں یونانی میں زیتون کے پیڑ کے لیے لفظ تھا elaia ایلائیا جس سے elaion اے لائیوں یعنی روغنِ زیتون بنا، لاطینی میں جاکر یہ لفظ oleum یعنی تیل یا زیتون کا تیل ہوگیا، قدیم فرانسی میں اسے oile اوئیل کردیا گیا جو بتدریج انگریزی میں oil ہوگیا)، بوتل(عہدِ اَخیر کی لاطینی میں buttis بُوتِیس تھا جو ذرا بِگڑی ہوئی لاطینی/ Vulgar Latinمیں butticula بُوتی کُولابن گیا، اس عوامی بولی ٹھولی سے رومانی زبانوں/ Romance languages بشمول فرانسی، ہِسپانوی، اطالوی، پُرتگِیز اور رومانی Romanian/ نے جنم لیا ;یوں اس لفظ کا سفر فرانسی میں /boteille بوتی اے کے نام سے جاری رہا، انگریزی کے عہدِ وُسطیٰ میں botel ہوگیا، پھر بعد میںbottle اور ہم نے اسے بوتل بنادیا۔ یہاں ایک دل چسپ نکتہ ذہن میں آیا کہ انگریزی لفظ ’باٹل‘ ہمارے یہاں ویسے تو معیاری اردو کا حصہ بنے بغیر، بولاجاتا ہے، مگر اِس سے ہماری عوامی/تحتی یا ذیلی بولی۔یا۔چالو بولی عُرف Slang میں لفظ بنا ’’باٹلی‘‘ جس سے مُراد تو بوتل ہی ہے مگر اکثر لوگ شراب کی بوتل کے لیے بطور کنایہ استعمال کرتے ہیں، جیسے فُلاں تو باٹلی کا عادی ہے۔ اس کے علاوہ بعض لوگ بوتل کہہ کر بھی شراب کی بوتل مراد لیتے ہیں)، بف (اصل فرانسی اسم ’ بُوفل‘buffle/ تھا یعنی بھینس، باقی تفصیل بھی لغات میں دیکھی جاسکتی ہے)، بیورو (فرانسی اسم بی غوbureau/ تھا جو اُونی میز پوش کے لیے استعمال ہوتے ہوتے بجائے خود، میز یا ڈیسک مع دراز کے لیے استعمال ہونے لگااور آگے چل کر انگریزی کے توسط سے عام ہوا تو دفتر کے معنیٰ دینے لگا)، پیمفلٹ/پمفلٹ، پارلیمنٹ/پارلیمان parliament (یہ اسم درحقیقت قدیم فرانسی لفظ پاغ لے موں parlement/کی ایک شکل ہے جس کی جڑ لاطینی میں ہے۔

 اس فہرست کے مرتب سے مغالطہ ہوا کہ یونانی الاصل قراردیا، مگر ظاہر ہے کہ جب ہم اُن کی تحقیق سے اقتباس پیش کریں گے تو اِسے نظراَنداز نہیں کرسکتے۔ فرانسی اسم کا ماخذ ایک مصدر یا فعل ’پاغلے Parler/‘ ہے یعنی بولنا۔ جب خاکسار فرانسی کی تعلیم حاصل کررہا تھا تو ’پاغلے‘ کی گردان سے لوگوں کو خوب حَظ اُٹھاتے دیکھا کرتا تھا جس میں ’تُو بولتا ہے‘ کے لیے ’’تُو پاغل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پنجابی حضرات اسے اپنے تلفظ میں ’پاگل‘ سمجھتے ہوئے خوب لطف اُٹھاتے تھے)، پولیسPolice/، درحقیقت یونانی لفظ polis بمعنیٰ شہری ریاست سے ماخوذ ہے، پالیسی/فرانسی میںPolicie (اس کا ماخذ یونانی لفظ politeia یعنی شہریت، حکومت یا نظم ونسق ہے جو polis سے نکلا ہے )، پروگرام (یونانی لفظ programma سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تحریری مراسلہ برائے عوام;فرانسی میں یہ لاطینی سے آیا اور پھر 1630ء کی دہائی سے انگریزی میں رائج ہوا;فرانسی میں یہ لفظ programmeپ+خو غام ہے)، پمپ، چیمبرchambre/شانْبغ (یونانی کے لفظ Kamara یعنی چھت والے تعمیراتی ڈھانچے سے نکلا، لاطینی میں جاکر Camera یعنی تجوری خانہ، جھونپڑی یا چیمبر ہوگیا اور فرانسی میں شانْبغ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہی لفظ پُرتگیِز کے توسط سے اردو میں داخل ہوکر ’’کمرا‘‘ بنا تو اِنگریزی میں In  camera کا مطلب ہوا، بند کمرے میں;ہمارے یہاں سیاست میں ’’اِن کیمرا اِجلاس‘‘ کی فضول اصطلاح بہت استعمال ہوتی ہے بجائے ’’بندکمرے میں اجلاس‘‘ )، ڈائمنڈ/فرانسی میںDiamant دیا مانْت (ماخذ یونانی الاصل لفظ Adamas یعنی ناقابل ِتقسیم، ناقابلِ تراشی ہے)، کوپنcoupon/، فرانسی میں کُوپَوں، جو فرانسی مصدر ’کُوپےcouper‘ یعنی کاٹنا سے مشتق ہے )، اس لفظ کا یونانی اصل بھی مجھے نہیں ملا، البتہ فہرست کے مرتب نے شامل کیا ہے جہاں سے میں نے خوشہ چینی کی، کارڈ (یونانی میںkhartes یعنی قدیم مصری کاغذ پے پی رَس، لاطینی میں charta اور فرانسی میں جاکر ’’کاخت‘‘ carte یعنی تاش کا پتّا، یہی انگریزی میں کارڈ ہوگیا)، کامیڈی (یونانی الاصل komoidía سے مشتق، فرانسی میں comedieکومے دی)، کیمسٹ، (یونانی کا khumeía جو درحقیقت عربی کا ’الکیمیا ‘ ہے) میٹر (فرانسی میں میتخ)، پائلٹ (یونانی میں pedon، قدیم فرانسی میں pilotیا pilote، پی لو۔یا۔پی لوت)، ہیرو (یونانیheros سے فرانسی بذریعہ لاطینی heroe، تلفظ ’ای غو‘)، ہیروئن (اسی لفظ کی تانیث ، فرانسی میں تلفظ ’’ای غوان‘‘)۔

اردومیں مستعمل لاطینی الاصل فرانسی الفاظ: اپیل، آرٹ، ایڈیشن، انجن، آفس، اسیسر، الونس، انجینئر، اسٹیج، بوائلر، بیسن، پارسل، پالش،پرنسپل، پروفیسر، پینسل، تھیئٹر، ٹیکس، جیل، چانسلر، ڈپو، رجسٹر، فیشن، گریڈ، نوٹس، وِیزا،ہوٹل، یونیفارم اردومیں اطالوی سے براستہ فرانسی آنے والے الفاظ: بُکرم، بریگیڈ، پستول، ٹریفک، کنٹونمنٹ، کانس، گزٹ اردو میں فرانسی سے آنے والے المانوی (German) الفاظ: بینڈ، بلاک، بلاکیڈ، فرانک، روسٹ، ٹکٹ، ٹاپ، بیلون، بلو ، ڈانس، فیس، گارنٹی، میل، رینج، سیلون، اسکیل، انامل، وارنٹ، فر، فلٹر، لاج/لَوج، مارکوئیس اردو میں شامل، ٹیوٹانی (Teutonic ) الفاظ جو فرانسی سے آئے: اسکرُو/اسکریو، اسکرین، برش، بورڈ، بینک، پیٹرول، پک نک، پاکٹ، پمپ، ٹرک،ریفل/رائفل، سلیٹ،گائڈ، لیبل،وارڈن، وکِٹ

اردومیں فرانسی سے آنے والے ایسے الفاظ جن کا ماخذ کیلٹی (Celtic) ہے: بجٹ، بائونڈری/بونڈری، جاب، چارج، کار، کلاک (گھڑیال)، کیریئر (سائیکل کا)، مٹن اردو میں شامل، اسکینڈی نیویائی (Scandinavian)/ فرانسی الفاظ: بٹ، بٹنگ، بن، سائونڈ(سائونڈ باکس)، رِوِٹ اردو میں شامل فرانسی الفاظ جن کی اصل ولندیزی (Dutch)ہے: پائوچ ، کرکٹ اردو میں فرانسی کے توسط سے آنے والے الفاظ جن کا ماخذ سلووِینی  (Slovene or Slovenian)زبان ہے: ترم /ٹرمپtrump، (لغات کے عمیق مطالعے سے اس لفظ کے ماخذ کا سلووِینی ہونا ثابت نہیں)، ٹرنک یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ، چلتے چلتے ایک اہم بات یہ بھی عرض کروں کہ فرانس میں اردو کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے، دیگر عالمی زبانوں کی طرح اس کی تدریس کا سلسلہ بھی ’قومی ادارہ الّسنہ و ثقافت ِمشرقی ‘ عُرف اِنال کو میں جاری ہے۔ یہ اصطلاح اردو میں ابھی ابھی راقم نے ترجمہ کی۔ اصل یوں ہے:

Institut national des langues et civilisations orientales-INALCO=National Institute of Oriental Languages and Civilisation