بھارتی کرکٹ میں آئی پی ایل کے دوران کھلاڑیوں پر پڑنے والے دباؤ اور انجریز کے باعث قومی ٹیم کے لیے مشکلات بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔
بی سی سی آئی کے بینگلور میں قائم سینٹر آف ایکسیلنس کے ایک ذرائع کے مطابق بعض کھلاڑی فرنچائزز اور مالی دباؤ کے باعث انجری کے باوجود آئی پی ایل میں کھیلتے رہتے ہیں جس سے بعد میں ان کی بحالی اور قومی ٹیم میں واپسی کا عمل پیچیدہ ہوجاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل کرکٹ اور جسم پر بڑھتا بوجھ خاص طور پر عمر رسیدہ کھلاڑیوں میں اوور یوز اور اسٹریس انجریز کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
کھلاڑی آئی پی ایل کے دوران تکلیف برداشت کرکے کھیلتے ہیں اور پھر بحالی کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس پہنچتے ہیں جہاں فزیو تھراپسٹس کو ان کی صحت بحال کرنے کے مشکل مرحلے کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل کئی اہم کھلاڑیوں سے محروم ہوچکا ہے۔
سائی سدرشن کے علاوہ جسپریت بمراہ، ہرشیت رانا، نتیش کمار ریڈی اور واشنگٹن سندر بھی انجری کے باعث دستیاب نہیں۔
اس صورتحال نے فرنچائز کرکٹ اور قومی ٹیم کی ضروریات کے درمیان توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔