اسلام آباد:
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کے قیام کو 105 سال مکمل ہوگئے۔ جولائی 1921 میں قائم ہونے والی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے ابتدائی طور پر تقریباً 50 ہزار ارکان کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، تاہم ایک صدی سے زائد عرصے میں پارٹی کی رکنیت بڑھ کر 10 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا آج نہ صرف دنیا کی بڑی سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے بلکہ چین کی سیاسی، معاشی اور سماجی سمت متعین کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پارٹی کی تاریخ دراصل جدید چین کی تشکیل، معاشی اصلاحات اور عالمی طاقت کے طور پر اس کے ابھرنے کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
سن 1921 سے 1949 تک کمیونسٹ پارٹی نے طویل سیاسی اور مسلح جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں یکم اکتوبر 1949 کو عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدائی دہائیوں میں چین کو غربت، کمزور صنعتی ڈھانچے، محدود بنیادی ڈھانچے اور متعدد داخلی و خارجی مشکلات کا سامنا تھا، تاہم وقت کے ساتھ صنعتی ترقی، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ترجیح دی گئی۔
چین کی ترقی میں ایک فیصلہ کن موڑ 1978 کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کو قرار دیا جاتا ہے۔ ڈینگ شیاو پنگ کی قیادت میں چین نے اپنی معیشت کو بتدریج عالمی منڈی کے لیے کھولا، نجی کاروبار اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے مواقع پیدا کیے اور برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کو فروغ دیا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں چین چند دہائیوں میں نسبتاً کم آمدنی والی زرعی معیشت سے دنیا کی بڑی صنعتی، تجارتی اور معاشی طاقتوں میں شامل ہوگیا۔
چینی امور کے ماہر ڈاکٹر ظفر ملک کے مطابق گزشتہ برسوں میں کمیونسٹ پارٹی نے روایتی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور جدید بنیادی ڈھانچے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں چین کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 140.2 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی اور معیشت نے سالانہ 5 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب عالمی معیشت جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق گزشتہ چار دہائیوں کے دوران چین میں تقریباً 80 کروڑ افراد انتہائی غربت سے باہر نکلے، جو دنیا میں غربت میں کمی کی سب سے بڑی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں، یعنی 2021 سے 2025 کے دوران چین کی مجموعی درآمدات و برآمدات بھی 200 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئیں، جس سے عالمی تجارت میں چین کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں نے چین کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اس کی اہم مثال ہے، جس کے تحت ایشیا، افریقہ، یورپ اور دیگر خطوں میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، بندرگاہوں، شاہراہوں اور تجارتی روابط کے منصوبوں کو فروغ دیا گیا۔
ڈاکٹر فرقان راؤ کے مطابق پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بھی اسی وسیع تر منصوبے کا اہم حصہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تزویراتی تعاون کی نمایاں مثال ہے۔
سی پیک کے تحت پاکستان میں شاہراہوں، توانائی کے منصوبوں، گوادر پورٹ اور صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان منصوبوں سے ملک میں نقل و حمل، توانائی، علاقائی رابطوں اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت، جدید ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تجارت جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جس سے پاکستان میں پیداوار، روزگار، برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے امکانات موجود ہیں۔
یہ 105 سالہ سفر اور نمایاں معاشی کامیابیوں کے باوجود کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں آبادی کی عمر میں اضافہ، شرح پیدائش میں کمی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، جائیداد کے شعبے کے مسائل، مقامی حکومتوں کے قرضے اور معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنا شامل ہیں۔
چین کی آبادی ایک ارب 41 کروڑ سے زائد ہے اور آبادی کے ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران چین میں تقریباً 79 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوئی، جبکہ 13 لاکھ سے زائد افراد کا انتقال ہوا۔ ملک میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد بھی 32 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے مستقبل میں افرادی قوت اور سماجی بہبود کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب چینی قیادت کا مؤقف ہے کہ مضبوط مرکزی قیادت، طویل المدتی منصوبہ بندی، سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل چین کی تیز رفتار ترقی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی نے چینی طرز کی جدیدیت، اعلیٰ معیار کی ترقی، تکنیکی خود انحصاری اور قومی احیا کو مستقبل کے اہم اہداف قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105 سالہ سفر کو انقلاب، ریاست سازی، معاشی اصلاحات اور عالمی طاقت بننے کی غیر معمولی داستان قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم مستقبل میں پارٹی کی کامیابی کا انحصار صرف معاشی ترقی پر نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ چین آبادی، روزگار، معاشی دباؤ، تکنیکی مسابقت اور پیچیدہ عالمی تعلقات جیسے چیلنجز سے کس حد تک مؤثر انداز میں نمٹتا ہے۔
ایک بات واضح ہے کہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن کو سمجھنے کے لیے چین اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔