کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا 2 ڈی نقشہ جاری، 4 ارب اِجرامِ فلکی شامل

نقشے کا ڈیٹا عام لوگوں، ماہرینِ فلکیات اور سٹیزن سائنس دانوں کے لیے بھی دستیاب ہے


ویب ڈیسک August 11, 2026

ماہرینِ فلکیات نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا 2 ڈی رنگین نقشہ جاری کر دیا ہے، جس میں تقریباً 4 ارب ستاروں، کہکشاؤں اور دیگر خلائی اجرام کی معلومات شامل ہیں۔

یہ نقشہ DESI لیگیسی امیجنگ سرویز کی ٹیم نے تیار کیا ہے اور اس میں حیرت انگیز طور پر 5.6 ٹریلین پکسلز شامل ہیں۔ نقشے کا ڈیٹا عام لوگوں، ماہرینِ فلکیات اور سٹیزن سائنس دانوں کے لیے بھی دستیاب ہے، جسے آن لائن لیگیسی سروے اسکائی ویوور کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

نئی تفصیلی تصویر کی مدد سے سائنس دان کائنات میں موجود نایاب مظاہر کی تلاش کر سکیں گے، جن میں گریویٹیشنل لینزنگ اور مختصر مدت کے لیے نمودار ہونے والے واقعات، جیسے سپرنووا شامل ہیں۔

اس نقشے سے سائنس دان کائنات کے دو بڑے معموں کو سمجھنے میں بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اول، ڈارک میٹر جو کائنات کے بیشتر مادّے کی کمیت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور دوم ڈارک انرجی جو کائنات کے مسلسل تیز رفتار پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے۔

یہ نیا نقشہ DESI لیگیسی امیجنگ سرویز کے سابقہ ڈیٹا پر مبنی ہے جو پہلے ہی فلکیاتی تحقیق میں انتہائی اہم ثابت ہو چکا ہے۔ اب تک 1800 سے زائد سائنسی تحقیقی مقالے لیگیسی سرویز کے ڈیٹا کو استعمال یا حوالہ دے چکے ہیں۔

لیگیسی سرویز کے شریک سربراہ اور امریکا کی لارنس برکیلے نیشنل لیبارٹری کے سائنس دان ڈیوڈ شلیگل کے مطابق یہ ڈیٹا اب فلکیاتی تحقیق کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور ماہرین اکثر کسی خلائی جرم کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے لیگیسی امیجنگ ویوور پر اسے دیکھتے ہیں۔

نئی نقشہ سازی سے سائنس دانوں کو کائنات کے وسیع ڈھانچے، اس میں موجود اربوں اجرام اور اس کے بنیادی رازوں کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کا ایک غیر معمولی موقع مل گیا ہے۔