یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حکام اب شمالی کوریا کے فوجیوں کا ایک اضافی دستہ اپنی سرزمین پر تعینات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ پیانگ یانگ سے اضافی بیلسٹک میزائل بھی حاصل کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی شمولیت پوری عالمی برادری کے لیے ایک جاگنے کی کال کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف یوکرین میں لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل مختلف ہیں، روس کے ساتھ تعاون کی بدولت ان کا ہتھیار زیادہ ترقی یافتہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہاں یوکرین اور یورپ میں شمالی کوریا کے جتنے زیادہ حملے ہوں گے، وہ اپنی خامیوں کو بہتر کرتے جائیں گے۔ اس سے جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے بڑا خطرہ ہوگا۔ فلپائن اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی۔
واضح رہے کہ 5 اگست کو یہ اطلاع ملی تھی کہ شمالی کوریا نے مغربی روس میں ایک میزائل یونٹ کی تعیناتی شروع کر دی ہے جسے یوکرین پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوکرینی ملٹری انٹیلی جنس کے مطابق روس کو شمالی کوریا سے 120 بیلسٹک میزائل اور چھ لانچرز ملنے کی توقع ہے۔