وفاقی حکومت کے مانع حمل اشیا کے منصوبے میں اہم خامیوں کا انکشاف

منصوبے کا پی سی ون بروقت اور سائنسی بنیادوں پر تیار نہیں کیا گیا، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف


ارشاد انصاری August 11, 2026

اسلام آباد:

وفاقی حکومت کے مانع حمل اشیا کے منصوبے میں اہم خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران انکشاف کیا گیا ہے کہ مانع حمل اشیا کی مقدار کے تعین کے لیے پی سی ون بروقت اور سائنسی بنیادوں پر تیار نہیں کیا گیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کا اجلاس منگل کو سینیٹر قرة العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزارت صحت کے حکام نے کمیٹی کو مانع حمل اشیا سے متعلق منصوبے پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ مانع حمل اشیا کی مقدار کے تعین کے لیے پی سی ون بروقت اور سائنسی بنیادوں پر تیار نہیں کیا گیا، پی سی ون 2019 میں تیار ہوا تھا تاہم اس کی منظوری 2021 میں دی گئی ہے۔

وزارت صحت حکام نے بتایا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ضروری پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ بھی موجود نہیں تھا، جبکہ منصوبے میں مانیٹرنگ، جائزہ اور نگرانی کا اہم جزو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ مانع حمل اشیا کے استعمال اور چھوٹے خاندان کے رجحان کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا جزو بھی منصوبے میں شامل نہیں تھا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے اشاریوں کی پیش رفت ٹریک ٹوئنٹی اور سالانہ رپورٹ سے جانچی جا سکتی ہے، منصوبے میں موجود خامیوں کے باعث پی سی ون پر نظرثانی کا عمل جاری ہے اور اسے قومی آبادی پالیسی 2025-35 کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے، پی سی ون کی ازسرنو تیاری کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صوبوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جامع میڈیا مہم کے لیے مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں میڈیا مہم کے بجٹ کا 59.48 فیصد ٹی وی چینلز کے لیے مختص کیا گیا ہے، ٹی وی چینلز پر مہم کے لیے 8 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

معروف اخبارات کے لیے میڈیا مہم کے بجٹ کا 14.45 فیصد، یعنی 2 کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایف ایم ریڈیوز کے لیے بجٹ کا 6.1 فیصد، یعنی 92 لاکھ 50 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا مہم کے لیے بجٹ کا 19.97 فیصد مختص کیا گیا ہے۔

فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس کے لیے 3 کروڑ روپے مختص ہیں۔ حکام کے مطابق جامع میڈیا مہم میں ٹی وی، اخبارات، ریڈیو اور سوشل میڈیا کو شامل کیا گیا ہے۔

اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے حکام کی عدم شرکت پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا، چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرة العین مری نے کہا کہ اگر وزارت منصوبہ بندی کے حکام آئندہ اجلاس میں بھی نہ آئے تو تحریک استحقاق لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کمیٹی اجلاس میں آنے کی منصوبہ بندی بھی نہ کرسکی، وزارت منصوبہ بندی کی بری منصوبہ بندی سامنے آرہی ہے۔