لاہور:
پاکستان ریلوے میں مبینہ طور پر میرٹ اور سینیارٹی لسٹ کے برعکس افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں متعدد سینیئر افسران کو نظرانداز کرکے جونیئر افسران کو پرکشش عہدوں پر تعینات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق گریڈ 19 کے جونیئر ریلوے افسر محمد ثقلین کو اون پے اسکیل پر گریڈ 20 کی نشست پر تعینات کردیا گیا ہے۔ محمد ثقلین اپنے شعبے کی سینیارٹی لسٹ میں 11ویں نمبر پر ہیں، تاہم گریڈ 20 اور گریڈ 19 کے بعض سینئر افسران کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں ڈی ایس ریلوے مغلپورہ ورکشاپ تعینات کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد ثقلین نے تاحال ایس ایم سی کورس بھی نہیں کیا، جبکہ جونیئر افسر کی گریڈ 20 کی نشست پر تعیناتی سے ریلوے کے سینئر افسران میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اس سے قبل گریڈ 19 کے جونیئر ریلوے افسر جمشید عالم کو ڈی ایس ریلوے کراچی تعینات کیا گیا، جو اپنے شعبے کی سینیارٹی لسٹ میں بعض افسران سے جونیئر ہیں۔
اسی طرح گریڈ 19 کے افسر محمودالرحمان لاکھو کو ڈی ایس ریلوے کوئٹہ تعینات کیا گیا ہے، جو ذرائع کے مطابق اپنے شعبے میں بعض افسران سے جونیئر ہیں۔
ذرائع کے مطابق کئی سینئر ریلوے افسران کو نظرانداز کرکے گریڈ 19 کے افسران کو اون پے اسکیل پر اگلے گریڈ کی نشستوں پر تعینات کرکے امور چلائے جا رہے ہیں، جس کے باعث سینئر افسران میں بددلی پیدا ہونے لگی ہے۔
دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ افسران کی تعیناتی کارکردگی کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جو افسر بہتر کارکردگی دکھائے گا اسے اہم ذمہ داری سونپی جائے گی۔