بڑھتا جنسی تشدد لمحہ فکریہ کیوں نہیں؟

متوفیہ بچی کے باپ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے


[email protected]

روزنامہ ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق قیوم آباد کراچی میں شیرخوار بچی اپنے ہی رشتے دار کے مبینہ جنسی تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گئی جس کے بعد ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا اور ایم ایل او کے مطابق بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔

متوفیہ بچی کے باپ نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے۔یوں تو روزانہ ہی ملک بھر سے جنسی زیادتیوں اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد انھیں قتل کر دینے کی خبریں معمول بنی ہوئی ہیں مگر کراچی میں پیش آنے والا جنسی زیادتی کا معاملہ سب سے مختلف ہے جس میں زیادتی کا مرتکب ایک 14 سال کا بچہ ہے کہ جس نے اپنے رشتے دار کی ڈیڑھ سال عمر کی شیرخوار بچی کو بازار سے چیز دلانے کے بہانے کہیں لے جا کر جنسی زیادتی کی اور زخمی بچی کو خود ہی اس کے گھر چھوڑ گیا۔ سالوں سے ملک بھر میں جنسی تشدد بڑھ رہا ہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے جس کی فکر حکومت کو ہے اور نہ ہی معاشرے کو۔

لاہور میں ایک نوجوان بھکاری لڑکی جو ذہنی طور پر معذور بھی تھی کو غازی آباد تھانے کا ایک اے ایس آئی اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا کر تھانے لایا اور بتایا کہ اس لڑکی سے تفتیش کرنی ہے جس کے بعد اطلاعات کے مطابق اس نے مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جس کے بعد ڈی آئی جی آپریشن لاہور نے ملزم کو گرفتار کرایا اور تھانے کے ڈیوٹی پر موجود عملے سمیت تھانے کے تمام اہلکاروں کو معطل کر دیا اور پولیس نے ملزم کا ریمانڈ لیا۔

 ملک بھر میں جنسی درندگی کی خبریں اور ملزمان کی گرفتاریوں کی خبریں بھی اکثر میڈیا میں آتی ہیں مگر ایسے جنسی درندوں کو کیفر کردار تک پہنچائے جانے کی خبریں بہت کم میڈیا میں آتی ہیں۔ قصور میں ایسے جنسی درندے کی خبر ضرور نمایاں ہوئی تھی جس نے جنسی درندگی کے بعد معصوم بچی کو قتل کر دیا تھا، پنجاب پولیس نے اس ملزم کو گرفتار کیا جس کے بعد  عدالت نے جلد فیصلہ کرکے اس قاتل اور جنسی مجرم کو سزائے موت سنائی اور مجرم کی پھانسی کی خبریں ملک بھر میں میڈیا میں آئی تھیں۔

پہلے بچوں کو رشتے داروں کے ہاتھوں اغوا برائے تاوان کے لیے اغوا کی خبریں میڈیا میں آتی تھیں، ایسا ہی ایک واقعہ وزیر اعظم نواز شریف کی دوسری حکومت میں انچولی کراچی میں پیش آیا تھا جہاں فرید صدیقی کے کمسن بیٹے انس فرید کو اس کے ہی دو رشتے داروں نے تاوان وصولی کے لیے اغوا کرکے کہیں چھپا دیا تھا اور خود بھی بچے کو تلاش کرتے رہے اور تاوان کے لیے آواز بدل کر فون بھی کرتے تھے جو ٹریس ہو گیا تھا اور گرفتاری کے بعد پتا چلا تھا کہ مغوی بچے نے اپنے دونوں عزیزوں کو پہچان لیا تھا جس پر انھوں نے انس کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس کیس میں نواز شریف نے وزیر اعظم کے طور پر خصوصی دلچسپی لی تھی اور وہ خود انچولی کراچی آ کر فرید صدیقی کے گھر آئے تھے اور وزیر اعظم کی ذاتی دلچسپی سے حکومت کی جلد فیصلے کرنے والی عدالت خصوصی سے دونوں مجرموں کو پھانسی کی سزا اور جلد سزا پر عمل ہوا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں خصوصی عدالتی جلد انصاف کی فراہمی کے لیے قائم کرائی تھیں جس پر حکومت کے مخالفین نے ان خصوصی عدالتوں کی بھرپور مخالفت کی تھی جب کہ وزیر اعظم کا موقف تھا کہ عام عدالتوں میں جلد فیصلے نہیں ہوتے یا تاخیر کے باعث ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور اسی لیے خصوصی عدالتوں کی حمایت میں وزیر اعظم مرحوم بچے کے گھر آئے تھے۔ عام عدالتوں میں فیصلوں میں بہت زیادہ تاخیر ایک تلخ حقیقت ہے اور متاثرین کو سالوں میں بھی انصاف نہیں ملتا۔ عدالتیں قانون کے مطابق ہی فیصلے کرنے کی پابند ہیں۔

ملک میں جنسی تشدد شرم ناک اور وحشیانہ طور پر اس قدر بڑھ چکا ہے کہ جس سے معصوم بچے، ذہنی معذور اور خواتین تک محفوظ نہیں رہی ہیں جس کی ایک اہم وجہ قانون میں موجود کم سزائیں اور عدم ثبوت اور سالوں عدالتوں سے کڑی سزائیں نہ ملنا ہے جس سے جنسی درندوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور انھیں سزاؤں کا خوف نہیں، اگر جنسی تشدد پر موت کی سزا مقرر ہو تو یہ واقعات کم ہو سکتے ہیں مگر ملک میں کسی کی عزت تار تار کرنے کی چند سال کی سزا ملتی ہے مگر جس کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے ،وہی جان سکتا ہے اور ساری عمر وہ متاثر رہتا ہے۔

 اعلیٰ عدلیہ کے محترم جج صاحب کے ایک کیس میں یہ ہ ریمارکس ہیں کہ سابقہ اہلیہ کی تصاویر اپ لوڈ کرنے والے ملزم کو ساری زندگی اندر رہنا چاہیے جس نے خاتون کو ملک میں رہنے کے قابل نہیں چھوڑا اور انتہائی غیر اخلاقی کام کیا ،اس کی ضمانت مسترد کی جاتی ہے۔ سابقہ اہلیہ کی عزت خراب کرنے والے کے لیے یہ ریمارکس مگر جنسی تشدد تو اس سے کہیں زیادہ گھناؤنا جرم ہے مگر ایسے ملزم کڑی سزا سے محفوظ ہیں اور جنسی تشدد 14 سالہ لڑکے اور ڈیڑھ سالہ بچی تک آ پہنچا ہے جو سب کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

 معاشرہ کس قدر بگڑ چکا، جنسی تشدد، حکومت، عدلیہ، علمائے کرام ہی نہیں سب کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ جنسی راہ روی اور بے لگام سوشل میڈیا نے بچوں تک کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔ جہاں جانور بھی ایسا نہیں کرتے۔