گھوسٹ اسکول سے مراد ایسے اسکول ہوتے ہیں جو سرکاری دستاویزات میں تو موجود ہیں مگر عملی طور پر یہ اسکول موجود نہیں ہوئے۔ سندھ میں ایسے اسکولوں کی تعداد 5ہزار سے 15ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
پورے ملک میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 148,000 سے 176000 کے درمیان ہے۔ سندھ میں 40,978 سے لے کر 42,900 اسکول ہیں۔ حکومت سندھ نے اس سال 446,958 بلین روپے صرف پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کے لیے مختص کیے ہیں۔
پورے سندھ میں 168,628 اساتذہ ملازمت کررہے ہیں۔ پورے سندھ کے کم از کم گریڈ 14 سے زیادہ سے زیادہ گریڈ 20 تک میں اساتذہ موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پورے سندھ میں 70 لاکھ سے 74 لاکھ تک بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔ اس صورتحال میں 5 سے 15 ہزار اسکول ایسے ہیں جن کا ہر سال بجٹ منظور ہوتا ہے اور اساتذہ کا تقرر ہوتا ہے اور ان گھوسٹ اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت کے اور صفائی کے لیے ہر سال رقم بھی مختص کی جاتی ہے مگر عملی طور پر یہ اسکول موجود نہیں ہیں۔
سندھ میں خواندگی کی شرح 57.15 سے 58 فیصد ہے جب کہ خواتین میں خواندگی کی شرح 39 فیصد سے 44 فیصد کے درمیان ہے، دیہی علاقوں میں خواندگی کی شرح اور بھی کم ہے۔ یہ آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ سندھ میں خواتین کی آدھی سے زیادہ آبادی ناخواندہ ہے۔ سندھ حکومت کے دعوؤں کے باوجود اور اربوں روپے اسکولوں کی تعلیم پر خرچ ہونے کے باوجود خواندگی کی شرح نہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ گھوسٹ اسکول ہیں۔
اندرون سندھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ گھوسٹ اسکولوں میں سے کچھ کی عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں۔ کچھ اسکول ایک یا دو کمروں پر محیط ہیں۔ ان اسکولوں کی عمارتوں پر گاؤں کے بااثر افراد کا قبضہ ہے۔ بیشتر اسکولوں کی عمارتوں میں مویشی باندھے جاتے ہیں، کہیں ان عمارتوں میں گندم کے گودم بنادیے گئے ہیں جب کہ کہیں سماج دشمن عناصر ان عمارتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک سینئر صحافی کی صاحبزادی جو تھر کے علاقے عمرکوٹ کے ایک گرلز اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں نے بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے اسکول پر سماج دشمن عناصر کے قبضہ کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا۔
اس علاقے کے بدمعاش شام اور رات کو اسکول کی عمارت کو دارو اور منشیات کے لیے استعمال کرتے تھے اور صبح جب اساتذہ اور طالبات اسکول آتیں تو کلاس رومز سے بوتلیں اور سگریٹ کے ٹوٹے ملتے تھے۔ اس بہادر ہیڈمسٹریس نے پولیس حکام کو طلب کیا۔ جب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی اور عمرکوٹ کا یہ اسکول گھوسٹ اسکول نہ بن سکا، مگر سندھ میں ان خاتون ہیڈمسٹریس کی طرح دیگر اساتذہ نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان گھوسٹ اسکولوں کا عموماً کم ہی ذکر ہوتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ان اسکولوں میں تعینات عملہ (جوکہیں اور کام کرتا ہے) سے لے کر تعلیم کے ضلعی افسران، ضلعی انتظامیہ، تمام ڈپٹی کمشنر اور کمشنر صاحبان اور محکمہ تعلیم کے کراچی سیکریٹریٹ کے افسران اس صورتحال کے ذمے دار ہیں۔
ادھرسندھ سنسر بورڈ نے ’’گھوسٹ اسکول‘‘ نامی ایک دستاویزی فلم کی سندھ میں نمائش کی جازت نہیں دی حالانکہ اسے ٹورنٹو فلم فیسٹیول میںبیسٹ فلم کیٹیگری میںنامزد کیا گیا۔یہ سندھ میں فلمائی گئی ۔ یہ فلم سندھ کے علاوہ پنجاب اورخیبر پختون خوا کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش ہوگی۔ خلیجی ممالک، یورپی ممالک کے علاوہ امریکا اور کینیڈا میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹولز میںدکھائی جائے گی اور کچھ عرصے بعد یو ٹیوب پربھی وائرل ہوجائے گی، یوںساری دنیا یہ فلم دیکھ لے لہٰذاسندھ میںاس کی نمائش پابندی لاحاصل ہوگی۔
یہ فلم سیماب گل نامی ایک خاتون فلم ساز نے بنائی۔انھیں سیما گل کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئیں۔ابتدائی تعلیمبھی یہیں حاصل کی، پھر اسلام آبادمیں اپنی تعلیم مکمل کی،پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلی گئیں۔ لندن فلم اسکول سے گریجوایشن کی اوراب برطانیہ میں رہتی ہیں۔ انھوں نے کئی معرکتہ الآراء فلمی بنائی ہیں جن میں سے کچھ کو برطانیہ کی شارٹ فلم کا Horizonایوارڈ مل چکا ہے، انھوں نے 10 مختصر فلمیں بنائی ہیں جن میں سے نصف کی ہدایات خود انھوں نے دی ہیں۔
انھیں اب تک 20کے قریب ایوارڈ مل چکے ہیں۔ گھوسٹ اسکول نامی فلم کی مصنفہ بھی وہی ہیں اورہدایتکارہ بھی وہ خود ہیں۔ اس فلم کی نمائش اس سال کے شروع میں جدہ فلم فیسٹیول میں ہونی تھی۔ ایشیائی افریقن لیٹن امریکن فلم فیسٹیول میں بھی اس فلم کو ایوارڈ ملا تھا۔ اس فلم کی کہانی کا محور لڑکیوں کی تعلیم ہے۔ فلم کی کہانی کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے کہ 10 سالہ بچی اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے مگر گاؤں میں یہ افواہ پھیل جاتی ہے کہ اسکول پر جنات اور بھوتوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ اسکول کی ٹیچر اور گاؤں کے بزرگ بھی یہی کہانی دہراتے ہیں۔
سندھ کے کلچر کے وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کا موقف ہے کہ سندھ سنسر بورڈ 15 اراکین پر مشتمل اور ایک خودمختار ادارہ ہے۔ حکومت بورڈ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ادھر سندھ سنسر بورڈ کی اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں ہے۔البتہ فلم کی مصنفہ اور ہدایتکارہ کا کہنا ہے کہ وفاق اور پنجاب کے سنسر بورڈ نے اس فلم کی نمائش پر کوئی اعتراضات نہیں کیے ۔بہرحال سندھ کے گھوسٹ اسکولوں کے سرپرست سندھ کی ترقی کے دشمن ہیں۔ بلاول بھٹو کو کشمیر کو چھوڑ کر سندھ پر توجہ دینی چاہیے۔ اس فلم کی ہر ضلع میں نمائش ہونی چاہیے اور گھوسٹ اسکول ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔