بھارت؛ گوردوارے میں سکھ رہنما پر کرپان سے قاتلانہ حملہ

سکھبیر سنگھ بادل پر 2024 میں بھی گولڈن ٹیمپل پر فائرنگ کی گئی تھی


ویب ڈیسک August 13, 2026

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناندیڑ میں سکھ تنظیم ’شرومنی اکالی دل‘ کے سربراہ اور پنجاب کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حملہ واقعہ ناندیڑ کے گاؤں موگا میں واقع گوردوارہ ماتا صاحب دیوا جی میں اس وقت پیش آیا جب سکھبیر سنگھ بادل مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد سیڑھیوں سے نیچے آ رہے تھے۔

اچانک ایک سکھ سیوادار نے تیز دھار خنجر (کرپال) سے سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ کردیا تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کرلیا۔ اس دوران سکھ رہنما اور انھیں بچانے والا اہلکار زخمی ہوگیا۔

سکھ رہنما کے ہاتھ پر گہرا زخم آیا اور تیزی سے خون بہنے لگا۔ اسی حالت میں سکھبیر سنگھ بادل کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال کے باہر کارکنان اور عوام کا جم غفیر جمع ہوگیا۔

پولیس نے حملہ آور کی شناخت جسپال سنگھ کے نام سے کی ہے، جو نہنگ سکھ بتایا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ تقریباً دو برس سے گوردوارے میں خدمات انجام دے رہا تھا اور اسے موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس حملے کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔ قاتلانہ حملے کے وقت سکھبیر سنگھ بادل کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور اکالی دل کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بھی موجود تھیں۔ جو اس حملے میں محفوظ رہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے مبینہ طور پر سکھبیر بادل کے پیٹ پر وار کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار سنتوش کیندرے نے فوری مداخلت کی۔ حملہ ناکام بنانے کی کوشش میں اہلکار بھی زخمی ہوا۔

سکھبیر سنگھ بادل پر 4 دسمبر 2024 کو امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کے باہر بھی فائرنگ کرکے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے اُس وقت بھی حملہ ناکام بنادیا تھا۔

یاد رہے کہ سکھبیر سنگھ بادل اس وقت بادل گولڈن ٹیمپل میں اکال تخت کی جانب سے سنائی گئی مذہبی سزا کے تحت ’سیوادار‘ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔