امریکی ریاست میساچوسٹس میں بھارتی نژاد 17 سالہ نوجوان نے اپنی ماں 45 سالہ سدھا وینکٹیشن اور 14 سالہ بھائی سدھارتھ کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا۔
میساچوسٹس پولیس کے مطابق آرجن اروِند میساچوسٹس کے شہر ایکٹن میں رہتا تھا اور ایک مقامی ہائی اسکول کا طالب علم ہے۔ جس پر ماں اور چھوٹے بھائی کے قتل کے دو مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ اس سفاکانہ قتل کی پہلی اطلاع ٹیوشن ٹیچر نے دی جو شام ساڑھے 6 بجے کے بعد ایک ٹیوشن ٹیچر سے طے شدہ ملاقات کے لیے گھر پہنچی لیکن دروازہ نہیں کھولا گیا تھا۔
جس پر ٹیچر نے نوجوان کے والد سے رابطہ کیا گیا۔ والد نے بھی اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے جس پر پولیس سے گھر جا کر اہل خانہ کی خیریت معلوم کرنے کی درخواست کی۔
پولیس اہلکار جب گھر پہنچے تو انہیں دونوں ماں بیٹے کی لاشیں ملیں۔ دونوں کے جسموں پر واضح جسمانی تشدد کے آثار تھے تاہم موت کی حتمی وجہ اور طریقہ کار کا تعین چیف میڈیکل ایگزامنر کرے گا۔ استعمال ہونے والے مبینہ ہتھیار سے متعلق تحقیقات بھی جاری ہیں۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ جب پولیس پہنچی تو آرجن اروِند گھر سے غائب تھا اور اس کی والدہ کی گاڑی بھی موجود نہیں تھی۔ اس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش شروع کردی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اطلاع دی۔
اگلی صبح قریبی شہر وے لینڈ میں ایک پارکنگ لاٹ پر ایک الگ واقعے کے سلسلے میں پولیس پہنچی تو وہاں مقتولہ کی گاڑی موجود ملی اور آرجن اس کے اندر بیٹھا ہوا تھا۔ اسے بغیر کسی مزاحمت کے گرفتار کرلیا گیا۔
اس کیس کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو تفتیش کے دوران سامنے آنے والی مبینہ آن لائن سرگرمیاں ہیں۔ ملزم نے حالیہ عرصے میں انٹرنیٹ اور چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خاندان کو قتل کرنے سے متعلق خیالات اور فکشن تیار کیے تھے۔
نوجوان نے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ سے گوتھک ناول جیسی کہانیاں تخلیق کرنے، کردار بنانے اور مختلف سوالات پوچھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض مواد میں ایسے اشارے موجود تھے جن کا تعلق اس کے خاندان کو لاحق خطرات سے ہوسکتا تھا۔