ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا عدالتی جھٹکا، ہارورڈ کے خلاف یہودی طلبہ کا مقدمہ خارج

حکومت کا مؤقف تھا کہ ہارورڈ میں اسرائیلی طلبہ کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور انتظامیہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی


ویب ڈیسک August 14, 2026

امریکی وفاقی عدالت نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دائر مقدمہ خارج کردیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو مبینہ ہراسانی اور امتیازی رویے سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بوسٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ اسٹیرنز نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے کیمپس میں وفاقی شہری حقوق کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ مقدمہ مارچ میں دائر کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ ہارورڈ میں یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور یونیورسٹی انتظامیہ انہیں مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

جج رچرڈ اسٹیرنز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت کے الزامات زیادہ تر 2023-24 کے تعلیمی سال کے دوران اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج سے متعلق واقعات پر مبنی تھے۔

عدالت کے مطابق مارچ 2025 میں پیش کیے گئے بعد کے واقعات کی تعداد بہت کم تھی اور یہ واقعات اتنے محدود اور الگ الگ نوعیت کے تھے کہ ان کی بنیاد پر ہارورڈ میں شہری حقوق کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔

مقدمے میں امریکی حکومت نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ہارورڈ نے اس وقت مناسب اقدامات نہیں کیے جب حکومت نے جون 2025 میں یونیورسٹی کو آگاہ کیا تھا کہ وہ شہری حقوق کے قانون کے کی تعمیل نہیں کر رہی۔

امریکا کا ٹائٹل سکس قانون ان تعلیمی پروگراموں میں نسل، رنگ اور قومی پس منظر کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے جو وفاقی حکومت سے مالی امداد حاصل کرتے ہیں۔

جج نے قرار دیا کہ حکومت کے مقدمے میں ہارورڈ کی جانب سے مبینہ ناکامیوں کے بارے میں ایسے شواہد مناسب طور پر پیش نہیں کیے گئے جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یونیورسٹی میں شہری حقوق کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی تھی۔

ہارورڈ یونیورسٹی اور وائٹ ہاؤس نے عدالتی فیصلے کے بعد فوری طور پر تبصرے کے لیے درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔